واپس آتے رہنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
واپس آتے رہنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 27 اکتوبر، 2015

یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو

میں جتنی بھی نارانون کی میٹنگز میں حاضر ہوئی ان کا اختتام سکون کی دعا اور حوصلہ افزائی کے کچھ اجتماعی الفاظ کیساتھ ہوا: ’’واپس آتے رہنا؛ یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو، اس لیے کام کرتے رہنا؛ تم اس قابل ہو۔‘‘
واپس آتے رہنا۔ یہ وہ الفاظ تھے جو مجھے اپنی پہلی میٹنگ میں یاد رہ گئے۔ شروع میں میں نارانون میٹنگ میں اپنے لیے نہیں آتی تھی۔ میں اس لیے آتی تھی کیونکہ میں اپنی زندگی میں موجود نشئی شوہر کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ ایک خیال جو مجھے پسند نہیں آیا اور نہ ہی میں نے اسے قبول کیا یہ تھا کہ مجھے خود کو تبدیل کرنا ہے۔
مجھے لگتا تھا کہ میرے کردار میں کوئی نقائص نہیں تھے اور یقیناً میں مسئلے کی ذمہ دار نہیں تھی۔ میں میٹنگز میں جا کر سنتی رہی اور حیرت انگیز طور پر میں نئی چیزیں سیکھتی رہی۔
دوسرے ساتھیوں سے ان کے تجربات، استحکام اور اُمید کے بارے میں سُننے سے میں نے دو چیزیں سیکھیں۔ ایک تو یہ کہ میں تنہا نہیں ہوں اور دوسرا یہ کہ میں کردار کے نقائص سے پاک نہیں۔
اب میں جانتی ہوں کہ میں میٹنگز میں جاسکتی ہوں اور اپنے غصے اور غیض وغضب کے جذبات کے بارے میں بتا سکتی ہوں۔ یہاں پر لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ وہ میرے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے۔
 پہلی بارمجھےغصہ کرنے کی اجازت ملی اور مجھے اس کو چھپانے یا اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب غصہ گزر جاتا ہے تو میں ان چیزوں کو دیکھنا شروع کرسکتی ہوں جنہیں میں بدل سکتی ہوں، یعنی خود میں۔
میں نارانون میں اپنے زخم بھر سکتی ہوں اوراپنی بحالی کو پا سکتی ہوں، اگر میں یہاں واپس آتی رہوں اور اس پر کام کرنا جاری رکھوں، کیونکہ میں اس کےقابل ہوں۔
آج کی سوچ:
میں جانتی ہوں کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ میرے پاس نارانون فیلوشپ کی مدد ہے۔ میرا کام صرف واپس آتے رہنا ہے۔
’’چونکہ کوئی چیز ’وارد‘ نہیں ہوتی، کوئی معجزاتی دن نہیں آتا جب ہم اچانک سکون حاصل کرلیں اور ہمیشہ کے لئے تناؤ یا پریشانی سے آزاد زندگی گزاریں، اس لیے ہم میں سے اکثر لوگ آخرکار صبر کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ ہم نے پایا کہ ہم بحالی کے عمل پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ہمیں آگے لے جائے گا، اگر ہمیں کئی بار ایسا محسوس ہو کہ ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں تب بھی۔‘‘ ~ ہاؤ ایل انون ورکس (ایل انون کیسے کام کرتی ہے)

جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

واپس آتے رہنا

میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اگر میں نارانون جاتا اور وہاں میری مدد کرنے کے لئے کوئی بھی موجود نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ ناصرف وہاں میٹنگز ہوتی ہیں جن سے مجھے مضبوطی، اُمید اور تجربہ ملتا ہے جو مجھے مشکل حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے بلکہ وہاں نارانون ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کی میں تکلیف میں مدد کر سکتا ہوں۔

یہ سب ممکن نہیں ہوسکتا اگر میں اپنے پروگرام پر کام کرنا بند کردوں اور میٹنگز میں آنا بند کردوں۔ میرے گروپ میں بہت سے لوگ آتے رہتے ہیں اور پھر دوبارہ لوٹ کے نہیں آتے یا پھر اپنے بحران کے گزرنے کے بعد آنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ان نارانون ارکان کے بغیر جو اچھے حالات میں بھی پروگرام پر کام جاری رکھتے ہیں میٹنگز ہونا ممکن نہیں۔ میرے لئے سب سے بہترین احساس ہے کسی شخص کی بحران سے باہر آنے میں مدد کرنا یا پھر یہ جاننا کہ وہ اس بات کو سراہتے ہیں کہ میں اُنہیں سُننے کے لئے وہاں موجود تھا۔

جب میں تکلیف میں ہوں تو وہاں موجود کسی سپانسر یا رُکن کی مدد اور آسرا میرے لئے بے انتہا اور بے پایاں معانی رکھتا ہے۔ میں نے یہ چیزیں یاد رکھتا ہوں اور نئے ارکان کو خوش آمدید کہنے کے لیے وہاں موجود رہتا ہوں اور یاد رکھتا ہوں کہ مجھے کیسا لگا تھا جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔

آج کی سوچ:

یہ سب کچھ نارانون کے متعلق ہے ۔۔۔ ہر شخص دوسرے کی مدد کرے، وہ چیز واپس کرے جو اسے بغیر کسی حساب کے دی گئی۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہم دوسروں کو دیں۔


’’زندگی کی کہانی لکھنا آسان ہے مگر اس پر چلنا بہت پریشان کن ہے۔‘‘ ~ لوئیز ارڈرچ