‏جانے دینا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏جانے دینا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 نومبر، 2015

شعوری تعلق

ایک دن میں اور میرے شوہر پہاڑوں میں واقع اپنے گھر گئے ۔ ہم نے اشد ضروری ایک ہفتے کی چھٹی شروع کی۔ میں دوسری ریاست میں رہنے والے اپنے نشئی بیٹے کی وجہ سے تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔ یہ نہ جاننا کہ وہ کیسا ہے اور کیا کر رہا ہے کبھی کبھی میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
ہمارے گھر کے باہر ایک جھونپڑی ہے جس پر میں نے ایک تختی لگا رکھی ہے جس پر لکھا ہے ’’پُرسکون جگہ‘‘۔ میں اپنے ساتھ بارہ اقدام کے پروگرام کا لٹریچر لے گئی اور دروازہ بند کر لیا۔ میں نے چرچ کی موسیقی کی آوازیں سُنیں جو کچھ میلوں کے فاصلے پر پہاڑی کی اُترائی پر لگے چرچ کیمپ سے آ رہی تھیں۔ تب میں ہلکی سی ٹپ ٹِپ آواز سنی جس نے میرے تجسس کو اُبھارا۔ میں نے دیکھنے کیلئے دروازہ کھولا کہ یہ کیا ہے۔ میں نے غور کیا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
جب میں بارش کے قطروں کو پتوں کو بھگوتے ہوئے دیکھ رہی تھی تو میں نے کچھ فاصلے پر خشک ٹہنیوں اور پتوں کی چڑچڑاہٹ کو سُنا۔ ایک ہرن ماں چل کر میرے سامنے آ گئی۔ ایک منٹ کے لئے ہم ساکت ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔
وہ آگے بڑھی اور میرے قریب سے اپنے ننھے بچے کے ساتھ جو اس کے پیچھے تھا گزر گئی۔ جب وہ آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے میری نظروں کے سامنے سے ہٹے تو مجھے لگا میری بالاتر طاقت مجھے بتا رہی ہے کہ ہماری نگرانی کی جا رہی ہے اور میں چھوڑ سکتی ہوں، خدا کو کرنے دے سکتی ہوں اور اپنی چھٹیوں سے لُطف اندوز ہو سکتی ہوں۔
آج کی سوچ:
میں یاد رکھوں گی کہ یہ طاقت، جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے مجھ تک پہنچنے کے کئی راستے جانتی ہے۔ میں اکثر ہی روزمرہ کے واقعات میں شعوری تعلق کو پاتی ہوں۔ میں اپنا ذہن کھُلا رکھوں گی اور اپنے راستے میں آنے والے پیغامات کو وصول کرنے کیلئے رضامند رہوں گی۔

’’سب چیزوں کو ویسا ہی رہنے دو جیسا کہ وہ ہیں۔‘‘ ~ دی وائس

اتوار، 1 نومبر، 2015

بالاتر طاقت کا مرتبان

کئی مہینوں تک پروگرام پر کام کرنے اور میٹنگ میں جانے کے باوجود میں ایسا محسوس کرتا تھا کہ میں کئی ایک ایسی چیزوں کو چھوڑ نہیں پا رہا جن کے بارے میں جانتا ہوں کہ میرا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
ایک خاص چیز جو مجھ پر بوجھ بنی ہوئی تھی وہ میرے نشئی کا غصہ تھا۔ وہ اپنی مرضی سے نوے دن کے بحالی کے پروگرام میں گزارنے کے بعد ایک عارضی جگہ میں رہ رہا تھا، لیکن جب بھی ہماری بات چیت ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض ہی رہتا۔
یہ غصہ مجھے پاگل کر رہا تھا۔ میں یہ نہیں جان پایا کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے کہ وہ میرے ساتھ اتنا غصہ کرتا ہے اور نہ ہی میں اسکو قائل کرسکا کہ اسے مجھ سے اتنا ناراض نہیں ہونا چاہئیے۔
آخرکار میں نے اس مسئلے کو میٹنگ میں بیان کیا اور دوسروں کی رائے لینے کے لینے خود کو پیش کر دیا۔ ہر کسی نے تجویز دی کہ مجھے اس کے غصے کو جانے دینا چاہئیے، یہ اس کا معاملہ ہے۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میں یہ کیسے کروں۔
ایک شخص میٹنگ سے اُٹھ کر گیا اور مونگ پھلی کا ایک خالی مرتبان لے کر واپس آیا۔ اُس نے ڈھکن بند کرکے لیبل کو پینٹ کردیا تھا اور اس میں ایک درز بنا دی تھی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ یہ اُس کا ’’خدائی مرتبان‘‘ ہے لیکن جب تک میں اپنا خدائی مرتبان نہیں بنا لیتا میں اِسے استعمال کرسکتا ہوں۔
اُس نے مجھے کہا کہ میں ایک کاغذ پر وہ سب کچھ لکھوں جو میں اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرنا چاہتا ہوں اور اُس کاغذ کو لپیٹ کر ڈھکن پر بنی درز سے مرتبان میں ڈال دوں۔ ایک بار جو چیز مرتبان میں چلی جائے گی وہ میں واپس نہیں نکال سکتا۔ اگر میں دوبارہ کبھی اس مسئلے پر پریشان ہوں تو مجھے صرف یہ یاد کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب یہ میرا مسئلہ نہیں۔
سوچنے، اس کو کاغذ پر لکھنے اور عملی طور پر اس کو مرتبان میں ڈالنے کے عمل نے بہت زبردست کام کیا۔ اگلے دن اس شخص نے مجھے میرا اپنا مرتبان لا دیا، اور اب یہ مرتبان بہت بھاری ہو چکا ہے، لیکن میری روح بہت ہلکی ہے۔
آج کی سوچ:
میں نہیں کرسکتا، لیکن خدا کرسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے خدا کو کرنے دینا چاہیئے۔

’’علم کا مطلب ہے ہر روز کچھ سیکھنا جبکہ دانشمندی کا مطلب ہے ہر روز کسی چیز کو جانے دینا۔‘‘ ~ نامعلوم

منگل، 13 اکتوبر، 2015

دسویں قدم کی مشق کرنا

مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی بحالی کی نیم دلی سے کوشش کرتا رہا ہوں۔ میں نے نشئی کو جانے دیا، لیکن کیا میں نے یہ عمل محبت کیساتھ کیا؟ میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک اطمینان اور سکون محسوس کرتا ہوں۔ میں نہ نشئی کو فون کرتا ہوں نہ ہی نشئی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں نشئی کے بارے میں جنونی نہیں ہوں، لیکن کیا میں نے اس سے محبت سے لاتعلقی اختیار کی ہے؟ میں سوچتا ہوں کہ کیا میرے غصے کے کثیف ٹکڑے انتہائی غیر مناسب اوقات میں اپنا چہرہ دکھائیں گے اور میں پاگل اور قابو سے باہر ہو جاؤں گا؟ مجھے خود پر شک ہو رہا ہے۔

میں سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنی خامیوں کی فہرست کسی بھی ضرورت کے وقت بنا سکتا ہوں۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ میں تین طرح کی فہرستیں استعمال کر سکتا ہوں:

(1 سپاٹ چیک: روزانہ اپنے رویے اور سلوک کو کچھ دیر کے لئے ٹھہرکر جانچنا۔

2) روزانہ کی فہرست: ہر دن کے آخر پر ٹھہرنا اور تجزیہ کرنا کہ سارے دن میں کیا کچھ ہوا اور میں نے کیسا ردعمل اپنایا۔

3) وقتاً فوقتاً طویل المعیاد فہرست، اپنی زندگی پر سوچ بچار کے لئے خاص دن مقرر کرنا۔ عمومی طور پر ہم ایسا کام کسی خاص مقام مثلاً اپنے گھر سے دور جا کر کرتے ہیں۔

نارانون کا لٹریچر پڑھنے سے میں نے سیکھا کہ میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو مجھے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ میرا حق ہے۔ مجھے ہر وقت کسی کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنی ضرورت پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے فیصلہ کر سکتا ہوں کہ اس وقت میرے لیے کیا سب سے بہتر ہے۔

اگر مجھے کسی کی مدد چاہیئے یا ضرورت ہو تو جب میں محسوس کروں کہ ایسا کرنا اس وقت میرے لئے ٹھیک ہے تو میرے پاس اس کا اختیار موجود ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتا ہوں کہ میرے پاس یہ اختیار موجود ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے۔

آج کی سوچ:

میں نے محسوس کیا کہ جب میں اپنے پروگرام کی مشق کرتا ہوں تو میں پُرسکون رہتا ہوں۔

’’سب سے بڑی غلطی، مجھے کہنا چاہیئے، کسی بھی چیز کا شعور نہ ہونا ہے۔‘‘ ~ تھامس کارلائل

منگل، 6 اکتوبر، 2015

جینے کا مزہ

میں سوچتی تھی کہ کیا ایک ریچھ ماں آخری دن اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرکے انہوں درخت پر چڑھاتے وقت غمگین ہوتی ہے۔ انہیں پیار کرنے، ان کی زندگی کیلئے لڑنے اور انہیں زندہ رہنے کا ہنر سیکھانے کے بعد ان کی ماں غائب ہو جاتی ہے اور وہ اکیلے رہ جاتے ہیں۔

مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ نشئی کے نوعمری تک پہنچنے کے بعد میری رہنمائی کے دن ختم ہو گئے تھے مگر مجھے یقین نہیں تھا کہ میں نے اسے وہ سب کچھ سکھا دیا ہے جس کی اسے زندہ رہنے کے لیے ضرورت ہے۔

مجھے ایک والدہ کے کرادر کو کھونے کا افسوس ہے کیونکہ نشئی اور میں دونوں اپنی اپنی سمت کی طرف نکل گئے تھے۔ نارانون نے مجھے والدہ کے کردار کو جانے دینے کے عمل میں بالاتر طاقت کی اہمیت سکھائی۔

میں نے نشئی کو سڑکوں پر چھوڑ دیا اور جب میں اُسے دیکھتی یا اس کی طرف سے سُنتی، تو اپنی بقا کے لئے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھانے میں کامیابی پر اُسے مبارکباد دیتی۔ جیسا کہ وہ بحالی میں آتا اور جاتا رہتا ہے تو میں ریچھ ماں کی بہادری کی طرف دیکھتے ہوئے نشئی سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتی ہوں۔

شاید ریچھ ماں بھی میری طرح ہی افسوس کرتی ہو۔ جب وہ اپنے چھوٹےبچوں سے دور جاتی ہو گی تو اُس کی حیوانی جبلت اُسے غمگین ہونے سے بچا لیتی ہوگی۔ تاہم جب وہ اپنی بقا کی کوشش جاری رکھتی ہے تو اُس کے ذہن میں اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کی فکر نہیں آنی چاہیئے۔ ایسا کرنے سے وہ خود اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

آج کی سوچ:

اب میں اپنا اور اپنی ضروریات کا زیادہ خیال رکھتی ہوں۔ جب نشئی تیار ہوگا تو میرے ایسا کرنے سے وہ خاموشی سے سیکھ سکتا ہے۔ اُسے میری مثال دی گئی ہے اور دوسرے لوگوں کی مثالیں جنہیں اس کی بالاتر طاقت نے اس کی زندگی میں بھیجا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ روزانہ اپنے طور پر زندگی گزارنے سے اس میں عزت نفس پیدا ہو رہی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا سکون خود اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے آ رہا ہے۔


’’خودغرضی یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے زندگی جیے؛ خودغرضی یہ ہے کہ آپ دوسروں کو کہیں کہ وہ آپ کی مرضی کےمطابق زندگی گزاریں۔ بے غرضی یہ ہے کہ دوسروں کی زندگی کو تنہا چھوڑ دیا جائے، اس میں مداخلت نہ کی جائے۔ خود غرضی ایک جیسی چیزیں چاہتی ہے۔ بے غرضی چیزوں کی لامحدود اقسام کو ایک خوشگوار چیز کے طور پر پہچانتی ہے، انہیں تسلیم کرتی ہے، ان کی سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے اور ان سے لطف اندوز ہوتی ہے۔‘‘ ~ آسکر وائلڈ

بدھ، 30 ستمبر، 2015

اضطراب

جب ہم کسی نشئی کے ساتھ رہتے ہوں تو پریشانی و اضطراب میں زندگی کے ہر لمحے کو ضائع کر دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ میں کنٹرول کا ایک جھوٹا احساس محسوس کرتی اور جب میں سوچتی کہ میری زندگی میں موجود نشئی منشیات استعمال کر رہی ہے تو مضطرب ہو جاتی۔

میں نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے لیے زندگی کزارنے میں اتنی منہمک ہو گئی تھی کہ میں نے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ میں نے گھر پر رہنا شروع کردیا تاکہ میں ہر لمحے اس کی حرکات پر نظر رکھ سکوں، جیسے ایسا کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میں اُسے منشیات کے استعمال، بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے یا ہماری زندگیوں کو مزید نقصان پہنچانے سے بچا سکوں گی۔

اگر میں اُسے یہ دکھا سکوں کہ وہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم سب ایک خوشگوار، محبت بھری، صحتمند اور پریشانی سے آزاد زندگی گزار سکیں گے۔ آخر جب میری ہمت جواب دے گئی تو میں نے محسوس کیا کہ میں اب ایسا کرنا جاری نہیں رکھ سکتی اور پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ میرا پاگل پن تھا۔

نشے کی لت کے عفریت نے میری ہر سوچ، عمل اور جذبے کو اس حد تک چاٹ لیا تھا کہ میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بیمار ہو گئی۔ مجھے یہ سب فوری بند کرنا پڑا۔ میں نے ’جانے دو‘ کا اُصول سیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ بلآخر مجھے سمجھ آگئی۔ میرا نشئی پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔

آج کی سوچ:

ہم اپنے فیصلے کرنے میں اُسی طرح آزاد ہیں جس طرح نشئی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ ہم کسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور ایسا کرنے کی کوشش صرف پریشانی کا سبب بنے گی۔

’’ہمیں خود اپنا باغ کاشت کرنا چاہیئے۔‘‘ ~ وولٹیئر

ہفتہ، 26 ستمبر، 2015

صبر کیساتھ قبول کرنا

صبر انتظار کرنے یا کسی کام میں تاخیر کو بغیر ناراض ہوئے برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ میں نشئی کے ساتھ ایک غیر معمولی صورتحال میں رہ رہا ہوں کیونکہ اس کا زندگی گزارنے کا انداز میرے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ مجھے نشئی، خاندان کے دیگر افراد، دوستوں یا کام کے ساتھیوں کے ساتھ تحمل برتنا مشکل لگتا ہے۔
میری بے صبری کی عادت کا اپنے گرد لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس سے گہرا تعلق ہے۔ جب دوسرے میری خواہش اور میرے ٹائم ٹیبل کے مطابق عمل نہیں کرتے تو مجھے لگتا ہے کہ میرا کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ پھر میں صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہوں اور اپنے اردگرد لوگوں پر چیختا اور گالم گلوچ کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایسے جذبات کا اظہار مجھے دوسروں پر دوبار کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ ایک قول ہے جسے میں مشکل حالات میں یا پھر کسی سے ناراض ہوں تو سکون پانے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ جانے دینے کی مشق سے میں ان جذبات کو رہائی دے کر اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ یہ مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں انہیں بغیر کسی احساسِ ذمہ داری سے دیکھوں۔
میں نے جانا کہ جب میں اپنے کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس کو پہچانتا اور جانے دیتا ہوں تو میں اپنی توقعات کو بھی رہائی دے سکتا ہوں اور صبر محسوس کر سکتا ہوں۔
آج کی سوچ:
صبر یہ نہیں ہے کہ میں چیزوں کو اپنے انداز میں کروں۔ یہ معاملہ جو ہے اسے تسلیم کرنے اور قبول کرنے کا ہے اور اس بات پر اعتماد کرنے کا کہ جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو گی میری بالاتر طاقت مجھے دے گی۔

’’تم ہتھوڑے سے سنگ مرمر کو پیس کر ایک مجسمہ نہیں بنا سکتے؛ تم ہتھیاروں کے زور پر روح کی سچائی کو سامنے نہیں لا سکتے۔‘‘ ~ کنفیوشیئس

پیر، 21 ستمبر، 2015

آگاہی عمل کو جنم دیتی ہے

ایک دن تباہ کن آگاہی نے میری زندگی بدل دی۔ میں کام کررہی تھی اور میرے بچے سکول میں تھے جب مجھے اپنے گھر میں منیشات کے استعمال کے بارے میں معلوم ہوا۔ نشہ میری زندگی میں بھی آہستہ سے شامل ہو گیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔

چرس کا بے جا استعمال میرے عزیز کو زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا فریب بھرا راستہ فراہم کرتا۔ ہیروئین کے غلط استعمال سے وہ بے حس و حرکت کئی گھنٹوں تک سویا پڑا رہتا۔ چرس کے عادی شخص کا رویہ بھی پُرتشدد ہو جاتا۔ میرے اہلِخانہ میں منشیات کا استعمال میرے لئے ایک نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک حققیت ہے۔

نارانون تک پہنچنے سے پہلے میں اپنے ماضی اور اپنے عزیزوں کی نشے کی عادت پر توجہ دینے میں پھنسی ہوئی تھی۔ میری خواہش تھی کہ میرے گھر کے افراد پہلے جیسے پیار کرنیوالے اور مہربان ہو جائیں۔ میں اس اعتماد، ہنسی اور تفریح کو بھی یاد کرتی جس سے کبھی ہم لُطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

جب میں نے دوسروں کو نارانون میٹنگ میں اپنی کہانی بیان کرتے سُنا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اس افسردہ اور پریشان کرنے والی حقیقت میں اکیلی نہیں ہوں۔ میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں اپنا ماضی، دوسرے لوگوں یا چیزوں کو نہیں بدل سکتی لیکن میں خود کو بدل سکتی ہوں۔ مجھے ایک خوشگوار آگاہی اور نئی اُمید کا احساس ہوا۔

اپنے پروگرام پر کام جاری رکھتے ہوئے میں نے اپنے دکھ اور خوشیاں دوسروں سے بانٹنا سیکھا۔ اب میں روزانہ اپنی پرانی ناراضگیوں کو جانے دینے کی مشق کرتی ہوں۔ ہر روز میں اپنی توجہ خود پر اور اپنی زندگی میں مثبت چیزوں پر مرکوز کرتی ہوں۔

میرے لئے سب سے فائد مند علاج نارانون پروگرام ہے۔ اب میں کسی پریشانی اور پچھتاوے کے مزید مستقل اضطراب میں نہیں ہوں۔ بارہ اقدام پر کام کرکے اور میٹنگز میں باقاعدگی سے جا کر میں نے ہر نئے دن کو اپنے دل میں اطمینان اور سکون کے ساتھ قبول کرنا سیکھا۔

آج کی سوچ:

آگاہی کسی بھی مسئلے کو پہچاننے میں پہلا قدم ہے اور پس یہی مثبت تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔ جب تک میں کسی مسئلے کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گی میں اُسے حل کرنے کے لئے مناسب کارروائی نہیں کر سکتی۔ مجھے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں صرف وہ کر سکتی ہوں جو میرے لئے ٹھیک ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔

’’آج میں ہر آگاہی کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے حاصل ہوتی ہے۔ جب زندگی میری توجہ حاصل کرے گی تو میں شکر، سکون اور وقار کا مظاہرہ کروں گی۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی

بدھ، 16 ستمبر، 2015

ایک مطمئن روح

میں نارانون کی پندرہ سالہ رُکن ہوں۔ جب میری زندگی میں پہلی بار منشیات اور شراب نے اپنا بدنما سر اٹھایا تومیں اس سے انکاری تھی۔ میں نے فریج میں شراب کی بوتلوں، اپنی ماں کی کئی گھنٹے کی نیند اور اس کے پرس میں ڈپریشن کی گولیوں کو نظر انداز کیا۔ میں لاچار اور بے یارومددگار محسوس کر رہی تھی لہٰذا میں نے اس سب کو نظرانداز کردیا۔

ایک دن میری ماں بھاگ گئی۔ اس نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو تنہا چھوڑ دیا۔ اُس وقت میری نانی جو میرے لئے بہت اہم ہیں انہوں نے مجھے میری ماں کی نشے کی بیماری کے بارے میں آگاہ کیا۔ جس بات کا مجھے سب سے زیادہ ڈر تھا وہی بات ہوئی۔ میری ماں نے اپنے مسائل اور اپنی زندگی کی ذمہ داریوں سے فرار ہونا منتخب کیا۔ وہ حقیقت سے فرار کے لئے منشیات کا استعمال کرتی تھی۔

آج میں خلوص نیت سے کہہ سکتی ہوں کہ نارانون نے میرا زاویہ نظر اور میری زندگی بدل دی ہے۔ آج میں جانتی ہوں کہ میری ماں ایک بیمار انسان ہے اور میں اُسے اس تکلیف کے لئے معاف کر سکتی جو مجھے اس کے بھاگنے کی وجہ سے محسوس ہوئی تھی۔

میں نے سیکھا ہے کہ میں اُس کی بیماری کے حوالے سے بے بس ہوں اور مجھے اسے جانے دینا ہوگا اور خدا کو کرنے دینا ہوگا۔ یہ کرکے میں نے مایوسی اور تکلیف کی جگہ اطمینان اور خوشی پائی۔ میں اپنی ماں کی کمی بہت زیادہ محسوس کرتی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ صحتیاب ہو جائے گی اور مجھ سے ملنے اور میری زندگی کا حصہ بننے واپس آئے گی۔ میں اپنی سکول کی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے نارانون پروگرام پر کام کر رہی ہوں اور آج میں ایک بہتر مستقبل کی اُمید رکھتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نے نارانون میں معاف کرنا، جانے دینا اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنا سیکھا۔

’’آج میں اپنی زندگی میں آگے بڑھوں گی، قطع نظر اس کے کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا کیا نہیں کر رہے۔ میں جان لوں گی کہ بہتر زندگی کی طرف لے جانے والا پُل پار کرنا ٹھیک ہے اور اگر مجھے یہ کام کرنے کے لیے دوسروں کو پیچھے بھی چھوڑنا پڑے تو میں احساس جرم میں مبتلا نہیں ہوں گی، شرمندہ نہیں ہوں گی ۔ میں جانتی ہوں کہ میں اب جہاں ہوں وہ بہتر جگہ ہے اور مجھے اپنی منزل کے بارے میں بھی معلوم ہے جہاں مجھے جانا ہے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی