جمعرات، 5 نومبر، 2015

سوچیں


نارانون میٹنگز میں جانے سے پہلے نشے کی لت نے میری ساری زندگی ضائع کر دی تھی۔ یہ کبھی ختم نہ ہونے والے نہ دور ہونے والے ایک بُرے خواب کی طرح تھا، جو مجھے رات کو آرام سے سونے نہیں دیتا تھا۔

میرا وزن کم ہوگیا کیونکہ میرے پیٹ میں ہر وقت گانٹھیں سی بنی رہتیں۔ میں نے اپنا دھیان نہیں رکھا۔ میری آمدن کم ہو گئی اور میں افسردہ اور مردہ دل سی ہو گئی۔ مجھے یہ ماننا ہوگا کہ میں نے نشے کی لت کو اپنے خاندان اور خود کو تباہ کرنے کی اجازت دی۔

اب میں نے نارانون کے ذریعے سیکھا ہے کہ میں اپنی زندگی کا کنٹرول واپس لے سکتی ہوں۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اگر میں نشئی کے اعمال کی وجہ سے بیمار رہوں گی تو میں اپنا اختیار کھو دوں گی۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں نشئی کو تنہا چھوڑ رہی ہوں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ میں خود کو مضبوط بنا رہی ہوں۔ میں نشئی کو پیار سے رہائی دے رہی ہوں۔

میں نے جانا کہ ابھی مجھے کافی کچھ سیکھنا ہے اور یہ کہ میں نے ابھی سیکھنے کا سفر شروع کیا ہے۔ میں اس پروگرام اور اس کے اصولوں اور طریقوں کی مدد سے ان رکاوٹوں پر قابو پا سکتی ہوں جو زندگی میں میرے سامنے آئیں گی۔

میں نے یہ بھی جانا کہ پہلا قدم ۔۔۔ یہ قبول کرنا کہ میں اس بیماری اور دوسروں کے سامنے بے بس ہوں ۔۔۔ مجھے خود پر اختیار دیتا ہے۔

آج کی سوچ:
اس بیماری میں کوئی مظلوم نہیں صرف سوائے اپنی مرضی سے مظلوم بننے والوں کے۔


’’چاہے تم یہ سوچو کہ تم یہ کرسکتے ہو یا یہ سوچو کہ تم یہ نہیں کرسکتے، تم درست ہو۔‘‘ ~ ہنری فورڈ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں