نارانون پروگرام کے بہت سے اقوال ہیں۔ اُن میں
سے بہت سی کہاوتیں ایسی ہیں جنہیں میں نارانون پروگرام میں شرکت سے پہلے سُن چکا تھا۔
پروگرام میں آنے سے پہلے میں انہیں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔
آج مجھے لگتا
ہے کہ یہی سادہ اقوال مشکل حالات سے نمٹنے میں میری مدد کررہے ہیں۔ یہ سادہ مگر
طاقتور جملے ہیں جو مجھے نارانون پروگرام کے کچھ انتہائی اہم اصول یاد رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جس طرح ایک رکن نے ان
کا اظہار نیچے دی گئی نظم میں کیا ہے:
پُرسکون ہو جاؤ میری روح، پُرسکون ہو جاؤ میرے
ذہن
جان لو کہ میری بالاتر طاقت میری رہنمائی کرے گی
یاد رکھو ’’آسانی رستہ ہے‘‘
میں اسے کرسکتا ہوں ’’صرف آج کے دن‘‘
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو،‘‘
’’حال میں جینا ہے،‘‘
میں’’بغور سن اور سیکھ‘‘ سکتا ہوں
اگر میں ’’اپنا ذہن کھلا رکھوں۔‘‘
جب میں ’’اہم کام کو پہلے ترجیح دوں‘‘
تو میں’’جی سکتا ہوں اور دوسروں کو جینے دے سکتا
ہوں۔‘‘
’’چیزوں کو سادہ رکھنا‘‘ بھول نہ جانا۔
اقوال بہت کچھ دے سکتے ہیں۔
صرف ’’سوچو،‘‘ ’’یہ کتنا اہم ہے؟‘‘
سکون کی تلاش میں،
اگرچہ میری بالاتر قوت میری رہنمائی کرے گی،
مگر ’’شروعات مجھ سے ہونی چاہیئے۔‘‘
آج کی سوچ:
میں نارانون پروگرام کے اقوال کو یاد رکھنے اور
ان پر عمل کرنے مشق کروں گا۔ یہ اقوال ایک مشفق رہنما کی طرح مجھے پرانے مسائل اور
حالات میں نئے ردعمل کو مننتخب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مجھے بہتر راستہ منتخب کرنے
میں مدد کرتے ہیں۔ یہ مجھے اپنے خوف سے بھی نمٹنے میں مدد کرتے ہیں جو اکثر میری
عقل پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور مجھے خود کو بہتر بنانے کی جرأت سے روکتے ہیں۔
’’اقوال سیڑھیوں کے جنگلے کی طرح ہیں جنہیں پکڑ
کر ہم بارہ اقدام کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔‘‘ ~ گمنام
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں