گذشتہ شام میں نے ایک رسالہ پڑھا جو نارانون نے
شائع کیا تھا۔ اس میں ایک مضمون میں کچھ طریقوں کی فہرست تھی جن کے ذریعے آپ نارانون
سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک چیز جس نے فوراً میری توجہ حاصل کی وہ
یہ تھی کہ مجھے اپنے خیالات اور تحفظات کے بارے میں باقاعدگی سے ڈائری لکھنا
چاہئیے۔ یہ میرے جذبات اور احساسات کو باہر نکالنے میں میری مدد کرے گا تاکہ میں
زندگی میں آگے بڑھ سکوں۔
جب میں نے اپنی زندگی کے ان حالات و واقعات کے
بارے میں لکھنے کا آغاز کیا جو سال بھر سے جاری تھے تو میں شروع میں نشئی کی زندگی
میں رونما ہونے والے واقعات کی تفصیل لکھتی رہی۔ جیسے جیسے میں پروگرام میں ترقی
کر رہی تھی، ڈائری کی تحریروں میں نشئی کے مسائل کی بجائے نارانون پروگرام کے بارے
میں میری سوچوں عکس نظر آنا شروع ہوگیا۔ میں اب میری تحریریں اس بارے میں ہوتی ہیں
کہ نشئی کے ساتھ میرا رویہ کیسا ہے ناکہ اس بارے میں کہ نشئی کیا کر رہا ہے۔
اس سے پہلے زندگی میں آنے والی مشکلات کے بارے
میں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ کئی سال تک جاری رہیں گی۔ نارانون کی بدولت مجھے
اب احساس ہوا ہے کہ نشے کی بیماری میری زندگی میں ہمیشہ موجود رہے گی، چاہے نشئی
بحالی کے دور میں ہو یا نشہ استعمال کر رہا ہو۔
مجھے وہ لوگ یاد آتے ہیں جو باقاعدگی سے میٹنگ
میں نہیں جاتے لیکن اس وقت جاتے ہیں جب چیزیں بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔ نارانون
تحریریں مجھے بتاتی ہیں کہ اگر میں یہ سیکھنا چاہتی ہوں کہ منشیات کی لت سے کیسے
نمٹنا ہے تو مجھے شئیر کرنے کے لئے لازمی میٹنگز میں شرکت کرنا ہوگی، اور دوسروں
کی مدد کرنا ہوگی، اور دوسروں کو سُننا ہوگا۔ شاید ان میں سے کچھ باتیں میری زندگی
میں تبدیلی کا باعث بنیں۔
میں میٹنگز
میں خودغرضی سے اپنی ذات کے لئے جاتی ہوں۔ مجھے راحت چاہئیے۔ مجھے صحتیابی چاہئیے۔
میں زندگی میں آگے بڑھتے رہنا چاہتی ہوں۔ اس لئے یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے ہونا چاہئیے۔
آج کی سوچ:
پروگرام کے تجربے، مستقل مزاجی اور اُمید کے
بغیر میں باآسانی حقیقت سے انکار کا شکار ہو سکتی تھی۔ میں یہ یقین کرنا چاہتی ہوں
کہ مسئلہ خودبخود حل ہو گیا ہے اگرچہ مجھے اندر سے پتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
’’صرف آج کے شکوک و شبہات کل کے خواب کو پورا
کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مستقل مزاجی اور کامل یقین کیساتھ آگے بڑھو۔‘‘ ~ فرینکلن روزویلٹ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں