‏خامیوں کی فہرست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خامیوں کی فہرست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

بڑے ہونا

نارانون کے اجتماعی تجربات نے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی خوبیوں کو پہچاننے میں میری مدد کی۔ چوتھے قدم پر کام کرنا مشکل ہے لیکن ترقی کے اس عمل میں یہ بہت ضروری ہے۔
میرے کردار کے نقائص نے مجھے کافی لمبے عرصے تک غلام بنائے رکھا۔ میں اپنے پیاروں کے بُرے رویوں کو برداشت کرتی کیونکہ میں مناسب حدود کا تعین کرنے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے مظلوم کا کردار اپنایا اور دوسروں پر الزام تراشی اور انہیں شرمندہ کرنے کا کھیل چُنا۔ یہ کام مجھے تھکا دیتا اور میری ساری توانائی ضائع کر دیتا تھا۔
میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے سوالوں کی تلاش کے لیے اپنے اندر جھانکنا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ میں خودترسی چھوڑوں اور ’’میں ہی کیوں؟‘‘ کہنا بند کردوں۔
ماضی کی غلطیاں میری شخصیت کا تعارف نہیں۔ وہ میرے سیکھنے کے عمل کا حصہ تھیں۔ میرا احساسِ جرم اور شرمندگی صرف اس وقت مجھے ترقی کرنے سے روک سکتے ہیں جب میں انہیں اجازت دوں۔ یہ احساسات مجھے اس وقت تک پریشان یا کنٹرول نہیں کر سکتے جب تک میں بحالی کے ’ایمانداری‘ کے طریقہ کار کو استعمال کرتی رہوں۔
اب مجھ میں اتنی جرآت ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کو دیکھوں، ان کے بارے میں بات کروں اور ان پہلوؤں کو بہتر بناؤں۔ میری توانائی بحال ہو رہی ہے۔ میرے کردار کے نقائص بدل کر اب میری شخصیت کا خاصہ بن رہے ہیں۔ میرے دردناک ماضی کی طرح اب صحت مند خدوخال بھی میری ذات کا حصہ ہیں۔
میں سیکھ رہی ہوں کہ کس طرح نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگی میں توازن پیدا کروں۔ زندگی کئی دھاگوں سے بنی ایک تصویر ہے۔ وہ زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں جو مکمل طور پر میری ہے۔ اس کے ذریعے میں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا۔ میں ٹھیک ہوں۔ خدا نے اچھا کام کیا۔ میں اپنے آپ میں ہی شاہکار ہوں۔ میں دوبارہ سے خود کو مکمل محسوس کرتی ہوں، تقریباً مکمل۔ یہ ایک عمل ہے۔
آج کی سوچ:
بحالی کا مطلب روحانی ترقی پانا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر کام شروع کیا جائے۔

’’اگر تم خود سے نہیں پوچھو گے کہ تم کیا جانتے ہو تو تم دوسروں کو ہی سُنتے رہو گے اور تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ تم اپنا سچ تو سُن ہی نہیں سکوں گے۔‘‘ ~ سینٹ بارتھلومیو

منگل، 13 اکتوبر، 2015

دسویں قدم کی مشق کرنا

مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی بحالی کی نیم دلی سے کوشش کرتا رہا ہوں۔ میں نے نشئی کو جانے دیا، لیکن کیا میں نے یہ عمل محبت کیساتھ کیا؟ میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک اطمینان اور سکون محسوس کرتا ہوں۔ میں نہ نشئی کو فون کرتا ہوں نہ ہی نشئی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں نشئی کے بارے میں جنونی نہیں ہوں، لیکن کیا میں نے اس سے محبت سے لاتعلقی اختیار کی ہے؟ میں سوچتا ہوں کہ کیا میرے غصے کے کثیف ٹکڑے انتہائی غیر مناسب اوقات میں اپنا چہرہ دکھائیں گے اور میں پاگل اور قابو سے باہر ہو جاؤں گا؟ مجھے خود پر شک ہو رہا ہے۔

میں سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنی خامیوں کی فہرست کسی بھی ضرورت کے وقت بنا سکتا ہوں۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ میں تین طرح کی فہرستیں استعمال کر سکتا ہوں:

(1 سپاٹ چیک: روزانہ اپنے رویے اور سلوک کو کچھ دیر کے لئے ٹھہرکر جانچنا۔

2) روزانہ کی فہرست: ہر دن کے آخر پر ٹھہرنا اور تجزیہ کرنا کہ سارے دن میں کیا کچھ ہوا اور میں نے کیسا ردعمل اپنایا۔

3) وقتاً فوقتاً طویل المعیاد فہرست، اپنی زندگی پر سوچ بچار کے لئے خاص دن مقرر کرنا۔ عمومی طور پر ہم ایسا کام کسی خاص مقام مثلاً اپنے گھر سے دور جا کر کرتے ہیں۔

نارانون کا لٹریچر پڑھنے سے میں نے سیکھا کہ میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو مجھے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ میرا حق ہے۔ مجھے ہر وقت کسی کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنی ضرورت پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے فیصلہ کر سکتا ہوں کہ اس وقت میرے لیے کیا سب سے بہتر ہے۔

اگر مجھے کسی کی مدد چاہیئے یا ضرورت ہو تو جب میں محسوس کروں کہ ایسا کرنا اس وقت میرے لئے ٹھیک ہے تو میرے پاس اس کا اختیار موجود ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتا ہوں کہ میرے پاس یہ اختیار موجود ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے۔

آج کی سوچ:

میں نے محسوس کیا کہ جب میں اپنے پروگرام کی مشق کرتا ہوں تو میں پُرسکون رہتا ہوں۔

’’سب سے بڑی غلطی، مجھے کہنا چاہیئے، کسی بھی چیز کا شعور نہ ہونا ہے۔‘‘ ~ تھامس کارلائل