‏لاتعلقی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏لاتعلقی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 8 نومبر، 2015

بوجھ سے رہائی

میں تقریباً چھ مہینے پہلے اپنے بڑے بچوں کے زور دینے پر نارانون آئی کیونکہ وہ میری صحت اور بہبود کے حوالے سے فکر مند تھے۔ انہوں نے میری ضرورت کو بھانپ لیا تھا کہ مجھے اپنے لئے مدد کی ضرورت ہے۔ میں اس وقت یقیناً ان کی رائے سے متفق نہ تھی۔ آخر میں گزشتہ سولہ سالوں سے کاروبار ٹھیک سے سنبھال نہیں رہی تھی اور کیا میں نشئی کی طرف سے کیے جانے والے نقصانات کو قابو نہیں کررہی تھی؟

کیا میں نے کبھی غلطی کی؟ میرے سب سے بڑے بیٹے نے کہا کہ اگر میں فون کرکے منشیات سے متعلق کسی گروپ کا پتا کروں گی تو وہ میرے ساتھ میٹنگ میں جائے گا۔ اس طرح میں نارانون گروپ میں شامل ہوگئی۔

یہ میری زندگی کا سب سے عقلمندانہ فیصلہ تھا۔ اپنی پہلی میٹنگ میں جانے کے بعد اور دوسروں کی کہانیاں سُننے کے بعد مجھے فوراً ہی احساس ہوگیا کہ میں اپنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ جو مجھ پر بیت رہی ہوتی ہے اس کو نارانون خاندان کے لوگ اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

اس شام کا موضوع لاتعلقی اختیار کرنے کی اہمیت پر تھا جسے سُننے کی مجھے ضرورت تھی۔ نارانون خاندان کی بات سُننے کے بعد مجھے سمجھ آگیا کہ میرا اپنا خاندان مجھے کیا بتانا چاہ رہا تھا۔

مجھے بھی بحالی کی اتنی اشد ضرورت تھی جتنی میرے ادھیڑ عمر بیٹے کو تھی۔ میں پہلی میٹنگ سے بہت سکون اور ذمہ داری سے آزادی کے احساس کے ساتھ اٹھ کر آئی۔ میں اپنے آپ کو بوجھ سے آزاد کرنے کی اجازت کے ساتھ اس میٹنگ سے باہر آئی۔

آج کی سوچ:

میں یہ تنہا نہیں کر سکتی۔ مجھے دوسروں کی مدد کی ضرورت ہے۔ صرف آج کیلئے میں یہ مدد تلاش کروں گی؛ میں اپنے پروگرام پر عمل کروں گی اور وہ بوجھ جو میرے اُٹھانے کا نہیں ہے اُسے اُتار پھینکوں گی۔


’’جو بھی مطمئن اور پاک ہونا چاہے گا اُسے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے ۔ لاتعلقی اختیار کرنے کی۔‘‘ مائسٹر ایکہارٹ

جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

لاتعلقی

میری پہلی نارانون میٹنگ پر لوگوں کو لاتعلقی اختیار کرنے کا کہا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لفظ مجھے کتنا غیرمانوس لگا تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے سوچا کہ ’’میں یہ کیسے کرسکتی ہوں؟‘‘ جب میں میٹنگ سے اٹھ کر آئی تو مجھے معلوم تھا کہ مجھے لاتعلقی کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ میں کچھ حد تک قائل ہوگئی تھی کہ شاید یہی میرے سوالوں کا جواب ہو سکتا ہے جسے میں تلاش کررہی تھی!

میں نے لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ شروع میں یہ کام مجھے سخت لگا۔ مجھے نشئی کو خود اپنی کی دیکھ بھال کرنے دینا چاہیئے۔ نشئی کو اس کے منہ کے بل گرنے دینا ہے؟ اس کو میری اشد ضرورت ہے، میں کیسے مدد سے رُک سکتی ہوں اور اسے اس کے مسائل کا سامنا کرنے دے سکتی ہوں۔ وہ یقیناً ٹوٹ جائے گی۔ میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ ایسے تمام سنسنی خیز سوال میرے دماغ میں اُبھر آئے۔

اب مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اُتنی ہی بیمار تھی جتنی کہ نشے کی مریضہ تھی۔ میری بیماری اس کی مدد کرنا اور اس کے لئے زندہ رہنا تھی جبکہ میں اس کے ڈرامے میں اپنی زندگی نظر انداز کررہی تھی۔ میں اس کی مدد نہیں کر رہی تھی؛ میں اسے مسائل کو دیکھنے اور انہیں خود حل کرنے سے روک رہی تھی۔ میں نشئی کی خدا بن کر اس کے فیصلے کر رہی تھی تاکہ میری مرضی کے نتائج مجھے حاصل ہوں لیکن ضروری نہیں کہ نشئی کو ان کی ضرورت ہو۔

تب سے میں نے نشئی سے لاتعلقی اختیار کرنا سیکھا اوراب میں بے حد پُرسکون زندگی گزار رہی ہوں۔ میں ہر روز خود کو کہتی ہوں کہ مجھے اس کے ڈرامے کا حصہ نہیں بننا۔ میں نے اپنی کچھ حدود متعین کی ہیں اور وہ ان کا احترام کرتی ہے۔ وہ ابھی تک انکاری ہے کہ منشیات کا استعمال ایک مسئلہ ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ ایک دن وہ اسے محسوس کر لے گی۔ دوسروں کا خدا بننے کی کوشش کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔

آج کی سوچ:

نشئی کو اپنی زندگی کے مسائل سے خود نمٹنا چاہیئے، جیسا کہ ہم خود اپنی زندگیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس کا تجربہ نہیں کریں گے تو شاید وہ کبھی نہ جان سکیں کہ کوئی مسئلہ ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی اور اپنی زندگی کی دیکھ بھال کروں۔ لاتعلقی اختیار کرنے سے میں یہ سب محبت کے ساتھ کرسکتی ہوں۔


’’زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہ لو؛ ورنہ تم اسکو زندہ دلی سے نہیں گزار سکو گے۔‘‘ ~ البرٹ ہیوبرڈ

بدھ، 9 ستمبر، 2015

نشئی کے مسائل سے علیحدگی اختیار کریں

میں محبت سے لاتعلقی اختیار کرنے کی مشق کر رہی ہوں اور یہ میرے لئے مددگار ہے۔ اب میں مزید اس فکر میں راتیں جاگتے ہوئے نہیں گزارتی کہ میری بیٹی گلیوں میں کہیں سو رہی ہے۔ اب میں نے اس بارے میں جنونی انداز میں سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ وہ کس وقت کہاں پر ہے۔ میں صبح کے تین بجے اپنے فون کے بجنے پر بھی پریشان نہیں ہوتی، جب وہ یہ بتانے کےلئےفون کرتی ہے کہ وہ دوبارہ جیل میں ہے۔

میرا دل اس وقت اپنی بیٹی کے لئے پسیج جاتا ہے جب وہ مجھے فون کرکے بتاتی ہے کہ اسے بھوک لگی ہے لیکن نارانون پروگرام کی وجہ سے میں اب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کو کھانا پہنچانے گھر سے نہیں بھاگتی ہوں۔ یہ سب میرے لئے تکلیف دہ ہے لیکن میں اس سے نمٹنا سیکھ رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ جب میں نشئی کے ڈراموں سے علیحدگی اختیار کرتی ہوں تو میں اپنی اور اسکی زندگی بہتر بنا سکتی ہوں۔

اگرچہ میرا دل اب بھی دکھتا ہے لیکن میں مستقل تکلیف میں نہیں رہتی۔ اب میں چوبیس گھنٹے سات دن خوف وہراس میں نہیں رہتی۔ اگرچہ میں اکثر اپنی بیٹی کے بارے میں سوچتی ہوں مگر میں اس کی ضروریات کی نسبت اپنی ضروریات پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں اپنے کرئیر پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تکلیف سے نمٹنے کے بارے میں سیکھ رہی ہوں تاکہ میں اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان حاصل کرسکوں۔

میں ایک عام انسان ہوں جسے کامل بننے کے لئے بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ مجھے اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میری بے صبری کو کافی توجہ کی ضرورت ہے۔ جب میں اس پر اور اس جیسی دوسری کمزوریوں پر کام کرتی ہوں تو میں بہتر محسوس کرتی ہوں، نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ عمومی طور پر بہتر محسوس کرتی ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میں پیار سے نشئی کے مسائل سے علیحدگی اختیار کرتی ہوں تو مجھے اپنے نقائص کو دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے۔ میں صرف ایک شخص کو بدلنے پر کام کررہی ہوں، جسے میں بدل سکتی ہوں، اور وہ ہے میری ذات۔


’’ہر کسی نے یہ کہاوت سُنی ہو گی، ’جو تم بوؤ گے وہی کاٹو گے۔‘ ظاہر ہے اگر ہم اپنی زندگی میں خوشی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خوشی کے بیج بونا سیکھنا ہوگا۔ اس لئے کرموں (karma) کا مطلب ہے شعوری طور پر پسندیدہ عمل کو منتخب کیا جائے۔‘‘ ~ دیپک چوپڑا

جمعرات، 27 اگست، 2015

لا تعلقی اختیار کرنا، پیار اور احترام سے

’’ٹوٹ پھوٹ ایک اہم پیش رفت کا راستہ بنا دیتی ہے۔‘‘ یہ قول نارانون کے ایک رُکن کے معالج کا ہے جو اس نے میٹنگ میں شئیر کیا۔ یہ قول پیار اور احترام سے لاتعلقی اختیار کرنے کے میرے سفر کا خلاصہ بیان کرتا ہے۔

میں نے اپنی بے شمار غلطیوں سے سبق سیکھا اور ان اسباق نے میری انا کو اتنی ٹھیس پہنچائی کہ بالآخر مجھے سمجھ آ گئی اور میں نے جذباتی لاتعلقی اختیار کرنے کو قبول کر لیا۔  یہ کوئی خوشگوار وقت نہیں تھا اگرچہ ماضی پر نظر ڈالوں تو میں اسے اپنی مکمل ٹوٹ پھوٹ اور نارانون میں ایک ایماندارانہ بحالی کی شروعات کے طور پر دیکھ سکتی ہوں۔

میں اکثر یہ بات سنتی ہوں کہ ’’نشئی کو نشیب میں گرنا ہوتا ہے‘‘ اور میں اس کو اپنے پستی میں گرنے اور اپنی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ جوڑ سکتی ہوں۔ جب میں سمجھنے، یقین کرنے اور قبول کرنے لگی کہ مجھے بدلنا ہوگا، مجھے صحیح معنوں میں روشنی مل گئی۔ میری نظر میں لاتعلقی کامیابی کی کُنجی ہے جیسا کہ ہمارے نارانون کے ایک کتابچے میں کہا گیا ہے۔ مجھے اپنے نارانون لٹریچر کے ہر لفظ، قول، جملے اور نارانون کی ہفتہ وارمیٹنگز میں سب کی شئیرنگ میں نئے معانی ملتے رہتے ہیں۔

آج کی سوچ:

مجھ سے بڑی ایک طاقت نے میری آمادگی کے جواب میں میری حوصلہ افزائی کی کہ میں یہاں واپس آنا اور سیکھنا جاری رکھوں۔

’’رحمتوں کو تلاش کرتے رہو۔ ہم جتنا اُنہیں تلاش کریں گے، وہ ہمیں اتنی ہی زیادہ نظر آئیں گی۔۔۔۔۔۔اپنی مصیبتوں کو گنتے گنتے رحمتوں کو کھو دینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی رحمتوں کے نام لیتے لیتے گنتی بھول جائیں۔‘‘ ~ مالٹبی ڈی  باب کوک