‏جذبات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏جذبات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

شئیرنگ

نارانون آنے سے پہلے میں ہمیشہ اپنے اندرونی احساسات کو چھُپاتی تھی۔ میں نے انہیں کبھی بھی سب کے سامنے نہیں لانا چاہا۔ مجھے لگتا تھا کہ دوسروں کے سامنے اپنی سوچ بیان کرنے سے وہ معمولی بن جاتی ہیں۔

تاہم جو درد میں محسوس کرتی تھی وہ حقیقی تھا اور جذباتی زخم جن کی وجہ سے یہ درد تھا شدید گہرے تھے۔ اپنی سوچوں اور احساسات کو چھُپانے سے صرف میرا درد بڑھا اور اس نے بحالی میں میری کوئی مدد نہیں کی۔

جب میں پہلی بار نارانون میں آئی تو میں نے بہت ہی مختصر شئیرنگ کی۔ اپنی بات کرنے کی بجائے میں نے صرف دوسروں کو سُنا۔ جب میں نے دوسرے ارکان کو ان کے نشئی خاندانوں کے مسائل بیان کرتے سُنا جو میرے مسائل جیسے تھے تو میری جرآت بڑھی اور میں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

جب میں نے پہلی بار اپنے احساسات کو بیان کیا تو یہ واضح تھا کہ اپنے خوف، پریشانیوں اور مسائل کو بیان کرنے سے مجھے مدد ملی۔ ایک مختصر پانچ منٹ کے بیان سے میں نے محسوس کیا کہ میرے کندھوں سے پانچ پاؤنڈ کا وزن اُتر گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسرے لوگ میرے مسائل سمجھ گئے۔

میں ابھی بھی اکثر پریشان ہو جاتی ہوں اور میری منتشر سوچوں میں ہمیشہ ربط نہیں ہوتا، لیکن دوسرے ارکان میری بات صبر کے ساتھ سُنتے ہیں۔ کئی سالوں تک بات چیت نہ کرنے کے بعد مجھے اب زیادہ مشق کی ضرورت ہے کیونکہ میرے لئے اپنی سوچیں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ جب مجھ مشکل پیش آ رہی ہو تو میں پہلے انہیں لکھ لیتی ہوں۔

نارانون میں آنے سے پہلے میری زندگی بدنظمی کا شکار تھی۔ مجھ میں اپنے اردگرد مثبت اور اچھی چیزوں کو بھول جانے کی عادت تھی۔ جب بھی ایسا ہوتا میں میٹنگ میں جاتی ہوں اور فیلوشپ کی پیار بھری مدد حاصل کرتی ہوں۔

آج کی سوچ:

عقل کی باتیں کہنا میری بہترین صلاحیت نہیں، لیکن مجھے دوسروں سے اپنی بات کہنے سے زخم بھرنے کے اثر کا اندازہ ہوا۔ جس وقت میں سب سے زیادہ اپنے مسائل میں کے پیچھے چھُپنا چاہتی ہوں اُسی وقت مجھے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے اپنی بات بیان کروں۔


’’تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے جب تمارے اندر کے خوفناک آسیب چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے اور تم بڑے سے بڑے ہوتے جاؤ گے۔‘‘ ~ آگسٹ وِلسن

ہفتہ، 29 اگست، 2015

جذبات

میں نے نارانون میں سیکھا کہ جذبات صرف جذبات ہوتے ہیں۔ ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں انہیں پگھلانا شروع کردوں۔ میں اپنے جذبات کو محسوس کرنے کے لئے تیار تھا جنہیں میں نے کئی برسوں سے منجمند کیا ہوا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ منشیات کی لت کا سامنا اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔

مجھے احساس ہوا کہ اپنے کسی پیارے کا نشے کی لت میں مبتلا ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ اس شخص کی موت کو محسوس کر رہے ہوں۔ اور کچھ نہیں تو یہ اپنے ان خوابوں کی موت کو محسوس کرنے جیسا تھا جو میں نے اس کے ساتھ زندگی کے بارے میں دیکھے تھے۔ میری اداسی اور درد کے سارے جذبات امڈ آئے۔

مجھے معلوم ہے کہ میں انہیں کافی عرصے سے دبائے بیٹھا تھا۔ اب وقت تھا کہ میں اس نقصان کا ماتم کر کے اس ایک زندگی کو دوبارہ جینے کا آغاز کروں جو مجھے ملی ہے، میری اپنی زندگی۔ میں اپنی بحالی کا سفر شروع کرنے کے لئے تیار تھا۔

اگر دوسرے مدد مانگنے سے احتراز کریں اور نشے کو اپنی زندگی تباہ کرنے دیں، تو ٹھیک ہے۔ یہ مجھے اُداس کر دے گا؛ شاید یہ مجھے غصہ دلائے، مجھے اس سے نفرت محسوس ہو اور اس سے میرے دل میں درد اُٹھے۔ آج کے دن ان جذبات کو محسوس کرنا ٹھیک ہے، جب تک کہ میں ان کے ساتھ لمبے عرصے تک نہ رہوں۔

نارانون فیلوشپ کی مدد سے میں اپنا عزت و وقار برقرار رکھوں گا اور کسی نہ کسی خوشی کو تھامے رکھوں گا۔ میرا اطمینان ایسی چیزوں سے منسلک نہیں ہو گا جن پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے؛ بلکہ یہ میرے اندر سے آئے گا۔

آج کی سوچ:

میں کوشش کرنے کے لئے رضامند ہوں، اگرچہ مجھے کبھی کبھی ناکامی کا سامنا ہو گا۔ میں کامیاب بھی ہوں گا اور تھوڑی مزید کوشش کروں گا۔ ان سب کے دوران میں ترقی کروں گا۔ یہی وقت ہے جب مجھے اپنے ساتھ تحمل برتنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھے پروگرام پر عمل کرنے اور مستقل مزاجی سے میٹنگز میں شریک ہونے کی رضامندی کے باعث میں جلد ہی پہلے سے زیادہ مضبوط اور عقلمند ہو جاؤں گا۔

’’خود کو کم ہمتی کے جذبات کا شکار نہ ہونے دو؛ آخر میں تمہیں یقیناً کامیابی ملے گی۔‘‘ ~ ابراہم لنکن