‏خود غرضی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خود غرضی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 6 اکتوبر، 2015

جینے کا مزہ

میں سوچتی تھی کہ کیا ایک ریچھ ماں آخری دن اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرکے انہوں درخت پر چڑھاتے وقت غمگین ہوتی ہے۔ انہیں پیار کرنے، ان کی زندگی کیلئے لڑنے اور انہیں زندہ رہنے کا ہنر سیکھانے کے بعد ان کی ماں غائب ہو جاتی ہے اور وہ اکیلے رہ جاتے ہیں۔

مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ نشئی کے نوعمری تک پہنچنے کے بعد میری رہنمائی کے دن ختم ہو گئے تھے مگر مجھے یقین نہیں تھا کہ میں نے اسے وہ سب کچھ سکھا دیا ہے جس کی اسے زندہ رہنے کے لیے ضرورت ہے۔

مجھے ایک والدہ کے کرادر کو کھونے کا افسوس ہے کیونکہ نشئی اور میں دونوں اپنی اپنی سمت کی طرف نکل گئے تھے۔ نارانون نے مجھے والدہ کے کردار کو جانے دینے کے عمل میں بالاتر طاقت کی اہمیت سکھائی۔

میں نے نشئی کو سڑکوں پر چھوڑ دیا اور جب میں اُسے دیکھتی یا اس کی طرف سے سُنتی، تو اپنی بقا کے لئے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھانے میں کامیابی پر اُسے مبارکباد دیتی۔ جیسا کہ وہ بحالی میں آتا اور جاتا رہتا ہے تو میں ریچھ ماں کی بہادری کی طرف دیکھتے ہوئے نشئی سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتی ہوں۔

شاید ریچھ ماں بھی میری طرح ہی افسوس کرتی ہو۔ جب وہ اپنے چھوٹےبچوں سے دور جاتی ہو گی تو اُس کی حیوانی جبلت اُسے غمگین ہونے سے بچا لیتی ہوگی۔ تاہم جب وہ اپنی بقا کی کوشش جاری رکھتی ہے تو اُس کے ذہن میں اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کی فکر نہیں آنی چاہیئے۔ ایسا کرنے سے وہ خود اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

آج کی سوچ:

اب میں اپنا اور اپنی ضروریات کا زیادہ خیال رکھتی ہوں۔ جب نشئی تیار ہوگا تو میرے ایسا کرنے سے وہ خاموشی سے سیکھ سکتا ہے۔ اُسے میری مثال دی گئی ہے اور دوسرے لوگوں کی مثالیں جنہیں اس کی بالاتر طاقت نے اس کی زندگی میں بھیجا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ روزانہ اپنے طور پر زندگی گزارنے سے اس میں عزت نفس پیدا ہو رہی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا سکون خود اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے آ رہا ہے۔


’’خودغرضی یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے زندگی جیے؛ خودغرضی یہ ہے کہ آپ دوسروں کو کہیں کہ وہ آپ کی مرضی کےمطابق زندگی گزاریں۔ بے غرضی یہ ہے کہ دوسروں کی زندگی کو تنہا چھوڑ دیا جائے، اس میں مداخلت نہ کی جائے۔ خود غرضی ایک جیسی چیزیں چاہتی ہے۔ بے غرضی چیزوں کی لامحدود اقسام کو ایک خوشگوار چیز کے طور پر پہچانتی ہے، انہیں تسلیم کرتی ہے، ان کی سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے اور ان سے لطف اندوز ہوتی ہے۔‘‘ ~ آسکر وائلڈ

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

اپنے آپ کو بدلنا


حال ہی میں کسی نے میٹنگ میں شیئر کیا کہ اس نے نارانون آنا اس لئے شروع کیا کیونکہ وہ بُرے احساسات سے تنگ آ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے میں خود تنگ آنے سے تنگ پڑ چکا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری تکلیف اور درد بند ہو جائے۔ میں اپنی زندگی کو جینا چاہتا تھا۔ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے مضبوط بننا چاہتا تھا، جنہیں میں چاہتا ہوں۔ یہ پانے کے لئے میں نے نارانون پروگرام پر کام کرنا، نشئی کے بارے میں سوچنا بند، اور اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

جن لوگوں نے اپنی زندگی میں نشے کی لت کے اثرات نہیں دیکھے انہیں یہ خود غرضی لگے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری میٹنگز ہمارے لئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں ہم یہ تجربات ان لوگوں سے شئیر کرتے ہیں جو ہماری جیسی صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری بات سمجھ جائیں گے۔

میں وہ تکلیف دہ باتیں اور حالات جن سے میں گزر رہا ہوتا ہوں، اپنے سپانسر کے ساتھ شئیر کر سکتا ہوں اور پھر میٹنگز میں اپنا تجربہ، طاقت اور اُمید شئیر کر سکتا ہوں۔ یہ جاننا کہ میں اپنی تکلیف سے نمٹنے کا عمل جانتا ہوں، مجھے سکون کا احساس دیتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ درد کا مکمل طور پر غائب ہونا بہترین ہو گا مگر حقیقت میں یہ ممکن نہیں۔

ایسے حالات جنہیں میں نہیں بدل سکتا انہیں قبول کرکے مجھے اپنی زندگی میں سکون پانے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو میں نے اپنی میٹنگز میں سیکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری زندگی آسان اور درد سے پاک ہو جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ غالباً اس عمل کو کرنے میں کچھ وقت اور بہت کوشش لگے گی۔ یہ قول ’آسانی چیزوں کو ممکن بناتی ہے‘ مجھے صبر سکھاتا ہے۔

آج کی سوچ:

میں اپنی ساری توجہ خود پر رکھوں گا اور اپنی بالاتر طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی جیوں گا۔ یہ جان کر کہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے میں پُرسکون اور پُراطمینان رہوں گا۔ میں ان تمام چیزوں کے لئے شکرگزار ہوں جو آج میری زندگی میں ہیں، یہ جان کر کہ تشکر رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔


’’ترقی بغیر تبدیلی کے ممکن نہیں اور وہ لوگ جو اپنے دماغ کو تبدیل نہیں کر سکتے وہ کسی چیز کو نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ جارج برنارڈ شا