بدھ، 4 نومبر، 2015

سکون ہی میرا انعام ہے

میں اپنی دعاؤں اور مراقبے کے دوران اپنی سوچوں کی توجہ بالاتر طاقت پر مرکوز رکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور خاموشی سے رہنمائی کا انتظار کرتی ہوں۔ میں صرف اپنی بالاتر طاقت کی رضامندی جاننے اور اس پر عمل کرنے کی طاقت کی دعا مانگتی ہوں۔ اس ایمان کے ساتھ کہ مجھے بہترین راستہ دکھایا جائے گا۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت میری ذہنی صحتیابی کو بحال کر سکتی ہے اسی لئے میں ہر روز آدھا گھنٹا دعا اور مراقبے کیلئے وقف کرتی ہوں۔ جب میری زندگی میں ڈرامہ اور بے ترتیبی پھیلی ہو تو میں مزید آدھا گھنٹہ خود کو دیتی ہوں۔

بہت سارے نشئی بدنظمی اور ڈرامہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ دعا اورمراقبے کے طریقے ہمیں مسائل کی وجہ یعنی نشے کی بیماری سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ مجھے اس بدنظمی اور ڈرامے کو اپنے ذہن کو گدلا کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔ دعاؤں اور مراقبے کے ذریعے میں ابھی بھی رُک سکتی، سُن سکتی اور گمراہ ہونے سے بچ سکتی ہوں۔

اپنے سکون اوراطمینان کو برقرار رکھنے کیلئے گیارہویں قدم پرعمل کرنا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ یہ مجھے اپنی مرضی کو بالاتر طاقت کی حولے کرنے اور اس کی طرف سے سمت کو قبول کرنا یاد دلاتا ہے۔

آج کی سوچ:

گیارہویں قدم کے ذریعے میں نے اپنی بالاتر طاقت کے ساتھ شعوری تعلق بنا لیا ہے۔ اپنی سوچوں کو پُرسکون رکھتے ہوئے میں اپنے راستے کو پُرامن طریقے سے سمجھنے کے قابل ہوں۔ اس کا انعام مجھے اکثر سکون کی صورت میں ملتا ہے۔


’’بالاتر طاقت تک پہنچنے کے ہزاروں راستے ہیں اورہم ان میں سے کوئی بھی ایک راستہ منتخب کرسکتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہم نے کم از کم ایک راستہ منتخب کر لیا اور اپنی بحالی کے سفر کیلئے نکل پڑے۔‘‘ ~ Paths to Recovery )بحالی کے راستے(

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں