منگل، 25 اگست، 2015

غصہ

میرے والد کا غصہ بہت خوفناک تھا۔ میری ماں اکثر مجھے بتایا کرتی تھی کہ میں نے اپنے باپ جیسا غصہ پایا ہے۔ اس دن جب میرے والد میرے منہ پر مجھے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور میں نے ان کے سر پر ان کی کھانے کی پلیٹ دے ماری تو مجھے اپنی ماں کی بات پر یقین آگیا۔

جب میرے بیٹے چھوٹے تھے تو میں انہیں غصے کی حالت میں سزا دینے سے ڈرتا تھا۔ میں اس وقت تک انہیں ان کے کمروں میں بھیج دیتا جب تک کہ میرا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جاتا۔

تاہم جب میرا نشئی بیٹا نشہ استعمال کر رہا تھا تو کئی بار وہ اس لیے لڑائی شروع کردیتا کہ وہ اس کو بہانہ بنا کر چلا جائے اور نشہ استعمال کرے۔ کئی بار میں نے جذباتی تقریریں کر کے، بے تکی باتیں کر کے، چیخ چلا کر اُسے یہ موقعہ عطا کیا جس کے بعد وہ دروازے زور سے مارتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔

آج جبکہ میں بحالی کے عمل میں ہوں، میں اب بھی جانتا ہوں کہ نشئی یا کسی دوسرے کو غصہ دلانے کے لئے کونسا بٹن دبانا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسروں کو بھی معلوم ہے کہ مجھے اشتعال کیسے دلانا ہے۔ آج میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کس سمت جارہا ہوں۔ آج میں اپنا ردعمل چننے کی کوشش کرتا ہوں۔ آج میں ٹھہر کر غصے میں رد عمل کا اظہار کرنے سے پہلے سوچتا ہوں۔  آج میں کچھ مزاحیہ بات کہوں گا یا مہربان انداز میں کوئی جواب دوں گا۔ آج میں نہیں چاہتا کہ میرا غصہ نشئی کیلئے نشہ کرنے کا بہانہ بنے۔

آج کی سوچ:

اپنے احساسات کو پہچاننا اور انہیں قبول کرنا میری بحالی میں ایک اہم قدم ہے۔ اپنے احساسات کے ردعمل کا انتخاب کرنا سیکھنا ایک نایاب تحفہ ہے۔ دوسرے کا رویہ میرے بارے میں نہیں ہے۔ میں اس کی وجہ نہیں ہوں۔ میں اس کو قابو نہیں کر سکتا۔ میں اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ تاہم میرے اپنے رویے کی وجہ میری سوچیں ہیں۔ صرف میں اپنی سوچوں کو قابو کر سکتا ہوں۔ صرف میں اپنا رویہ بدل سکتا ہوں۔ میں اس بات کو چن سکتا ہوں کہ منفی چیزوں کو جانے دوں۔ میں سکون پانے کو منتخب کر سکتا ہوں۔    

’’اے خدا مجھے اپنے اور دوسروں کے غصے کو تسلیم و رضا اور سکون حاصل کرنے کے سفر کا عمومی حصہ سمجھ کر قبول کرنے میں مدد دے۔ اسی خیال کے ساتھ مجھے اپنی ذات کے احتساب مدد دے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی  



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں