نارانون پروگرام میں آنے اور اس کے قول ’’سوچو‘‘
کے بارے میں جاننے پہلے میں مریض کے اشاروں پر ناچتی تھی۔ وہ جب کچھ بھی کہتا:
گاڑی ٹھیک کرو، سودا لاؤ، اُسے پیسے ادھار دو، اسکے وکیل کو ادائیگی کرو، اس کی
ضمانت کے لئے پیسے جمع کراؤ، اسے ملنے ہسپتالوں اور جیلوں میں جاؤ، تو میں بغیر
کسی سوچ کے ہر کام کرتی تھی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں تھی کہ میری بھی کوئی مرضی ہے۔
میں خود کو مظلوم سمجھتی اور اس پر کڑھتی، اور
میری زندگی بے بسی اور بد نظمی کا شکار ہو چکی تھی۔ مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں ہر معاملے پر
بہت حساس ہو گئی ہوں اور رد عمل کا اظہار کر رہی ہوں۔
اپنی نارانون میٹنگز سے میں نے بہتر انداز میں
زندگی گزارنا سیکھ رہی ہوں۔ میں نے یہاں دوسروں سے سُنتی ہوں کہ وہ کیسے بدلےاور
انہوں نے اپنے نشے کے عادی پیاروں کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیا۔ اب مجھے سمجھ آ
چکی ہے کہ مجھے ہر اس چیز کو جوڑنے کی ضرورت نہیں جو نشے کے مریض نے توڑی ہو۔
یہ میرا کام نہیں، یہ میری ذمہ داری نہیں؛ اور اس
غیر صحتمندانہ رویے کا نتیجہ غیر ضروری تکلیف کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ
میں ٹھہر کر سوچ سکتی ہوں۔ اب میں بولنے سے پہلے سوچتی ہوں۔ میں ایک لمحے کے لئے
ٹھہرتی ہوں اور صورتحال کا جائزہ لیتی ہوں اور جو مجھ سے کہا جا رہا ہو اسے سُنتی
ہوں۔
دراصل میں مریض کی بگاڑی ہوئی چیزوں کو ٹھیک کرتے
ہوئے اس کی مدد نہیں کر رہی ہوتی، بلکہ اس کی بیماری میں معاونت کر رہی ہوتی
ہوں۔
جب میں مریض کواس کے اعمال کے نتیجے میں پیدا
ہونے والے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنے کا موقعہ دیتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ
یہ مشکلات اس کو صحتیابی کی طرف لانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ جب میں ٹھہرتی، سوچتی
اور اپنا ردعمل منتخب کرتی ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ مریض کو چیزیں منتخب کرنے کا
اختیار ہے۔ میں خود پر دھیان دے سکتی ہوں اور اپنا خیال رکھ سکتی ہوں۔ ایسا کرنے
سے میں اپنی زندگی پر با اختیار محسوس کر رہی ہوں۔ ایسا کرنے پر مجھے اپنی زندگی پر
اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
آج کی سوچ:
میں کسی کے بحران کو اپنی سوچ پر حاوی ہونے یا اپنے
اعمال پر حکمرانی کرنے نہ دوں گی۔ میں کچھ کرنے سے پہلے سوچوں گی اور جب ضرروی
سمجھوں گی تو لاتعلقی اختیار کروں گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں