اپنے
نشئی بیٹے کی بحالی کے شروع میں ایک دن میں نے اپنے گھرمیں باورچی
خانے کی الماری میں رکھے پیاز کو اگتے دیکھا۔ جب میں اُسے اُکھاڑ کر پھینکنے لگی
تو مجھے میرے بیٹے نے روک دیا۔ اُس نے کہا کہ وہ اس کو مٹی میں لگانا چاہتا ہے۔ اس
بات نے مجھے حیران کیا لیکن میں نے اسے پیاز دے دی۔ اُس نے اسے باہر لگا دیا اور روزانہ اس کو پانی دیتا رہا۔
میں
نے یہ بات ایک میٹنگ میں شئیر کی کیونکہ یہ میرے نشئی بیٹے کا عمومی رویہ نہیں
تھا، حتی کہ منشیات استعمال کرنے سے پہلے بھی نہیں۔ ایک نارانون ساتھی نے کہا کیا
کہ شاید یہ اُس کی بحالی کی اُمید اور نئی روحانی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
نارانون
ساتھی کے الفاظ نے مجھے بھی اُمید دی۔ پیاز کا پودا بڑٓا ہونے سے پہلے ہی میرا
بیٹا چلا گیا مگر میں اسے پانی دیتی رہی۔ پیاز کی ٹہنیاں لمبی اور مضبوط ہوتی گئیں۔
میں اس وقت حیران رہ گئی جب میں نے اس کے سرے پرکلیوں کا ایک خوشہ بنتے دیکھا۔ ایک
دن کلیاں جوبن پر آگئیں اور چھوٹے سفید خوبصورت پھولوں میں بدل گئیں۔
میں
نے ان سفید گچھوں کی تصویر اتار لی اور اکثر اس کو دیکھتی ہوں۔ یہ مجھے اپنی زبردست
اور زندگی بدل دینے والی روحانی ترقی کی یاد دلاتی ہے۔ شروع میں میری بحالی کا عمل
بہت سُست تھا اور کبھی
کبھی
مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میری ترقی بالکل نہیں ہو رہی لیکن میں نے پھر بھی واپس آنا
جاری رکھا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میری ترقی جاری رہی۔
آج
کی سوچ:
بحالی
اور روحانی ترقی راتوں
رات رونما
نہیں ہوتی۔ جب ہم نارانون پہلی بار آتے ہیں تو ہم جلد ہی چیزیں ٹھیک کرنا چاہتے
ہیں۔ اس کی بجائے ہمیں نشئی کو رہائی دینا اور اپنی بحالی کو مضبوطی سے پکڑنا
سیکھنا ہے، نا کہ نشئی کی بحالی کو۔ ہم صرف خود کو بدل سکتے ہیں۔
’’عظمت
بہت ساری چھوٹی چیزیں اچھے طریقے سے کرنے سے آتی ہے۔ انفرادی طور پر یہ کوئی بڑی چیزیں نہیں لگتیں۔ مگر جب ان کو اکٹھا کیا
جائے تو یہ بڑی ہو جاتی ہیں۔‘‘ ~ ایڈورڈ ایس فِنکلسٹین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں