معاف کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معاف کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 27 ستمبر، 2015

معافی: محبت کا ایک عمل

مجھے لگتا تھا کہ معافی ایسا کام ہے جو میں کسی کے لئے کرتا ہوں۔ حقیقت میں مجھے اپنے لیے دوسروں کو معاف کرنے کی ضرورت تھی۔ ماضی میں میرا معافی کا تصور یہ تھا کہ میں نشئی کی تکلیف دہ حرکت کو بھول جاؤں۔ مگر اس سے مجھے آئندہ بھی تکلیف ہوتی۔
تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ میں نے تمہیں معاف کیا؟ کیا میں اس شخص کو احتساب سے آزاد کر رہا ہوں؟ کیا میں معافی دے کر اپنے لیے چیزوں کو آسان کرنا چاہتا ہوں یا ذاتی تسکین حاصل کرنا چاہتا ہوں؟
اگر میں یہ کہنے کیلئے تیار ہوں کہ ’’تمہارے ذمے میرا کوئی حساب نہیں‘‘ تو میں معاف کرسکتا ہوں اور ان ناراضگیوں کو جانے دے سکتا ہوں جو مجھے بیمار کیے رکھتی ہیں۔ میں اس رولر کوسٹر ریل گاڑی سے اُتر سکتا ہوں گا جو مجھے اوپر نیچے جھٹکے دیتی ہے۔
جب تک معافی نہ دی جائے تو نفرت، غصہ، احساسِ جرم، اور شرمندگی پیدا ہوتے ہیں۔ میں خود کو اور نشئی کو معاف کر سکتا ہوں۔
جب تک میں اپنی ناراضگیوں کو تھامے رکھوں گا وہ مجھے جکڑے رکھیں گی۔ اس کا موازنہ ہم بندر پکڑنے والے جال سے کر سکتے ہیں: بندر ایک سوراخ میں میٹھی ٹافی دیکھتا ہے، پھر وہ اس میں ہاتھ ڈال کر انہیں پکڑ لیتا ہے۔ ٹافیاں پکڑے ہوئے بندر اپنا ہاتھ سوراخ سے باہر نہیں کھینچ سکتا۔ اس طرح وہ پکڑا جاتا ہے۔ بالکل اُسی طرح میں بھی جکڑا جاتا ہوں جب میں معاف نہیں کرتا۔
آج کی سوچ:
میں معاف کرتا ہوں محبت کے ایک عمل کے طور پر نہ کہ طاقت، دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے یا انہیں کنٹرول کرنے کے عمل کے طور پر۔ معافی کے ذریعے میں دوسروں کو رائے زنی اور مذمت سے آزاد کر کے خود کو آزاد کرتا ہوں۔

’’ہم معافی کی مشق کرکے ہی اندرونی سکون تک پہنچ سکتے ہیں۔ معافی کا مطلب ماضی کو جانے دینا ہے اور اسی لئے یہ ہماری ماضی کی غلط سوچ اور تصورات کو ٹھیک کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔‘‘ ~ جیرالڈ جی جامپولسکی

جمعہ، 25 ستمبر، 2015

الزام

میرے لئے سب مسائل کا الزام اپنی زندگی میں موجود نشے کے مریضوں کو دینا آسان کام ہے لیکن انہیں الزام دینے سے میرے حالات میں بہتری نہیں ہوتی اور یقیناً اُن کے حالات بھی بہتر نہیں ہوتے۔ درحقیقت نشئی کے مسائل، کمزوریوں اور رویوں پر توجہ دینے سے میں اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے بچ جاتی ہوں اور ایسا کرنا مجھے صحت مند اور خوش انسان بننے سے روکتا ہے۔

جب میں خود پر توجہ دیتی ہوں تو میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔ جب نشئی مجھ سے میری گاڑی یا پیسے مانگے تو میں نا کہہ سکتی ہوں۔ میں بحث کے چکر میں نہ پڑنے کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہوں۔ میں بحث کے سلسلے کو روک کر اپنے سپانسر کو فون کر سکتی ہوں۔ حتیٰ کہ میں نشے کے مریضوں کو اپنی رائے رکھنے کا حق دے سکتی ہوں۔

 مجھے مریض کی جیل سے کی گئی کالز کی ادائیگی کرنے یا اس کے وکیل کی فیس بھرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کے بچاؤ کے مشن میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نشئی کو اسکے اعمال کے نتائج بھگتنے دے سکتی ہوں۔

حتیٰ کہ مجھے خود کو بھی الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی ماضی کی غلطیوں کے لئے خود کو معاف کرسکتی ہوں اور جو کچھ مجھ سے ہو سکتا ہے صرف آج کے دن کے لیے کر سکتی ہوں۔ نارانون پروگرام مجھے سکھاتا ہے کہ مجھے بے عیب ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا پروگرام ہے نہ کہ بے عیب ہونے کا۔

آج کی سوچ:

خود سمیت دوسروں کو الزام دینا ترقی نہیں۔ یہ مجھے روکے رکھتا ہے۔ جب میں الزام دیتی ہوں تو میں ترقی نہیں کر رہی ہوتی اور میری بحالی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔



’’زندگی کو دیکھنے کے صرف دو ہی نظریے ہیں۔۔۔۔ مظلوم کی طرح یا بہادر جنگجو کی طرح۔۔۔ اور تمہیں لازمی فیصلہ کرنا ہے کہ تم عمل کرنا چاہتے ہو یا ردعمل، اپنے پتوں سے کھیلنا چاہتے ہو یا پھر دوسرے کو ہرانے کے لیے پتوں میں ہیرا پھیری کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر تم فیصلہ نہ کرپائے کہ زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے تو ہمیشہ زندگی تمہارے ساتھ کھیل کھیلے گی۔‘‘ ~ مرلی شین

بدھ، 16 ستمبر، 2015

ایک مطمئن روح

میں نارانون کی پندرہ سالہ رُکن ہوں۔ جب میری زندگی میں پہلی بار منشیات اور شراب نے اپنا بدنما سر اٹھایا تومیں اس سے انکاری تھی۔ میں نے فریج میں شراب کی بوتلوں، اپنی ماں کی کئی گھنٹے کی نیند اور اس کے پرس میں ڈپریشن کی گولیوں کو نظر انداز کیا۔ میں لاچار اور بے یارومددگار محسوس کر رہی تھی لہٰذا میں نے اس سب کو نظرانداز کردیا۔

ایک دن میری ماں بھاگ گئی۔ اس نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو تنہا چھوڑ دیا۔ اُس وقت میری نانی جو میرے لئے بہت اہم ہیں انہوں نے مجھے میری ماں کی نشے کی بیماری کے بارے میں آگاہ کیا۔ جس بات کا مجھے سب سے زیادہ ڈر تھا وہی بات ہوئی۔ میری ماں نے اپنے مسائل اور اپنی زندگی کی ذمہ داریوں سے فرار ہونا منتخب کیا۔ وہ حقیقت سے فرار کے لئے منشیات کا استعمال کرتی تھی۔

آج میں خلوص نیت سے کہہ سکتی ہوں کہ نارانون نے میرا زاویہ نظر اور میری زندگی بدل دی ہے۔ آج میں جانتی ہوں کہ میری ماں ایک بیمار انسان ہے اور میں اُسے اس تکلیف کے لئے معاف کر سکتی جو مجھے اس کے بھاگنے کی وجہ سے محسوس ہوئی تھی۔

میں نے سیکھا ہے کہ میں اُس کی بیماری کے حوالے سے بے بس ہوں اور مجھے اسے جانے دینا ہوگا اور خدا کو کرنے دینا ہوگا۔ یہ کرکے میں نے مایوسی اور تکلیف کی جگہ اطمینان اور خوشی پائی۔ میں اپنی ماں کی کمی بہت زیادہ محسوس کرتی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ صحتیاب ہو جائے گی اور مجھ سے ملنے اور میری زندگی کا حصہ بننے واپس آئے گی۔ میں اپنی سکول کی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے نارانون پروگرام پر کام کر رہی ہوں اور آج میں ایک بہتر مستقبل کی اُمید رکھتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نے نارانون میں معاف کرنا، جانے دینا اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنا سیکھا۔

’’آج میں اپنی زندگی میں آگے بڑھوں گی، قطع نظر اس کے کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا کیا نہیں کر رہے۔ میں جان لوں گی کہ بہتر زندگی کی طرف لے جانے والا پُل پار کرنا ٹھیک ہے اور اگر مجھے یہ کام کرنے کے لیے دوسروں کو پیچھے بھی چھوڑنا پڑے تو میں احساس جرم میں مبتلا نہیں ہوں گی، شرمندہ نہیں ہوں گی ۔ میں جانتی ہوں کہ میں اب جہاں ہوں وہ بہتر جگہ ہے اور مجھے اپنی منزل کے بارے میں بھی معلوم ہے جہاں مجھے جانا ہے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی