میں نارانون کی پندرہ سالہ رُکن ہوں۔ جب میری
زندگی میں پہلی بار منشیات اور شراب نے اپنا بدنما سر اٹھایا تومیں اس سے انکاری
تھی۔ میں نے فریج میں شراب کی بوتلوں، اپنی ماں کی کئی گھنٹے کی نیند اور اس کے
پرس میں ڈپریشن کی گولیوں کو نظر انداز کیا۔ میں لاچار اور بے یارومددگار محسوس کر
رہی تھی لہٰذا میں نے اس سب کو نظرانداز کردیا۔
ایک دن میری ماں بھاگ گئی۔ اس نے مجھے اور میرے
چھوٹے بھائی کو تنہا چھوڑ دیا۔ اُس وقت میری نانی جو میرے لئے بہت اہم ہیں انہوں
نے مجھے میری ماں کی نشے کی بیماری کے بارے میں آگاہ کیا۔ جس بات کا مجھے سب سے
زیادہ ڈر تھا وہی بات ہوئی۔ میری ماں نے اپنے مسائل اور اپنی زندگی کی ذمہ داریوں
سے فرار ہونا منتخب کیا۔ وہ حقیقت سے فرار کے لئے منشیات کا استعمال کرتی تھی۔
آج میں خلوص نیت سے کہہ سکتی ہوں کہ نارانون نے
میرا زاویہ نظر اور میری زندگی بدل دی ہے۔ آج میں جانتی ہوں کہ میری ماں ایک بیمار
انسان ہے اور میں اُسے اس تکلیف کے لئے معاف کر سکتی جو مجھے اس کے بھاگنے کی وجہ
سے محسوس ہوئی تھی۔
میں نے سیکھا ہے کہ میں اُس کی بیماری کے حوالے
سے بے بس ہوں اور مجھے اسے جانے دینا ہوگا اور خدا کو کرنے دینا ہوگا۔ یہ کرکے میں
نے مایوسی اور تکلیف کی جگہ اطمینان اور خوشی پائی۔ میں اپنی ماں کی کمی بہت زیادہ
محسوس کرتی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ صحتیاب ہو جائے گی اور مجھ
سے ملنے اور میری زندگی کا حصہ بننے واپس آئے گی۔ میں اپنی سکول کی تعلیم جاری
رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے نارانون پروگرام پر کام کر رہی ہوں اور آج میں ایک بہتر
مستقبل کی اُمید رکھتی ہوں۔
آج کی سوچ:
میں نے نارانون میں معاف کرنا، جانے دینا اور
اپنی زندگی میں آگے بڑھنا سیکھا۔
’’آج میں اپنی زندگی میں آگے بڑھوں گی، قطع نظر
اس کے کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا کیا نہیں کر رہے۔ میں جان لوں گی کہ بہتر
زندگی کی طرف لے جانے والا پُل پار کرنا ٹھیک ہے اور اگر مجھے یہ کام کرنے کے لیے
دوسروں کو پیچھے بھی چھوڑنا پڑے تو میں احساس جرم میں مبتلا نہیں ہوں گی، شرمندہ نہیں ہوں گی
۔ میں جانتی ہوں کہ میں اب جہاں ہوں وہ بہتر جگہ ہے اور مجھے اپنی منزل کے بارے
میں بھی معلوم ہے جہاں مجھے جانا ہے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں