میں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ اچھا ہو اور میں
نے اس کے لیے دعا کی اور نارانون وہ جگہ تھی جہاں مجھے یہ اچھائی ملی۔ ایک پرانی
کہاوت کہ ’’نشئی کو اپنی پستی میں گرنے دو‘‘ کو آزمانا میرے لئے مشکل ہے۔ نشئی کو
مدد کی ضرورت کا احساس ہونے تک حالات خراب ہو سکتے ہیں، اگر کھبی اسے یہ احساس ہو
جائے۔
میں نے دیکھا کہ کسی چیز کے برا ہونے کے بارے
میں میرا خیال نشئی کے خیال سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نشئی کے
لیے میری خواہشیں، چاہتیں، ضرورتیں اور مستقبل کی اُمید اس کے اپنے خیالات سے
مماثلت نہ رکھتی ہوں۔
جب میں نشئی کی خواہشات اور ضرورتوں کا اندازہ
لگانا شروع کرتا ہوں تو میں ایک بار پھر اسکی
زندگی کو کنٹرول کرنے اور اس کی بالاترطاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ میں پھر سے
پرانے جال میں پھنس گیا ہوں اور نشئی کے لئے وہ سب کررہا ہوں جو اُسے خود اپنے لئے
کرنا چاہئیے۔
جب میری توجہ نشئی پر اور اسکی ضرورتوں اور
خواہشوں پر ہوتی ہے تو میں اسے اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا ذمہ دار بھی بنا رہا ہوتا
ہوں۔ آج جب میں نشئی کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے فیصلہ کرتا ہوں تو میں اپنے لیے
فیصلہ کرتا ہوں۔
مجھے یہ یقین آگیا ہے کہ مجھ سے زیادہ بڑی طاقت میری
خواہشات، ضروریات اور چاہتوں کو پورا کرسکتی ہے۔ جس طرح میری بالاتر طاقت نے مجھے
نارانون تک پہنچنے میں رہنمائی کی یہی بالاتر طاقت نشئی کو بھی مدد تک پہنچائے گی
جب نشئی بحال ہونا چاہے گا۔
میں اپنی ذات اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لے
سکتا ہوں، دوسروں کی زندگیوں کی نہیں۔ میں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ تلافی کر
کے اپنے ماضی کے فیصلوں کو قبول کرتا ہوں۔ یہ عمل میرے لئے زندگی گزارنے کے ایک
نئے اور مختلف راستے کے دروازے کھولتا ہے۔ میں اپنے ماضی کو دہراتے رہنے کی بجائے
کچھ مختلف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
آج کی سوچ:
آج میں اپنی بالاتر طاقت سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے یاد دلائے کہ میں جو کچھ بھی اپنے
لئے چاہتا اور خواہش رکھتا ہوں وہ میرے اندر موجود ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں