ہفتہ، 12 ستمبر، 2015

حدود

میٹنگز میں حدود مقرر کرنے پر کئی مرتبہ بات ہوتی ہے۔ میں نہیں جانتی کہ میں نے کبھی اپنی حدود کو لاگو کیا ہو۔ میں یہ کہہ کر کوشش کرتی تھی کہ میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گی، لیکن پھر بہت دفعہ میں نے ہار مان لیتی اور نشئی کو اجازت دے دیتی کہ وہ میری مقرر کردہ حدود کو نظر انداز کرے۔

وقت، فاصلے اور بہت زیادہ دُعا کرنے سے اب میں محسوس کرتی ہوں کہ جب میرا بیٹا واپس گھر آئے گا تو میں اپنی حدود نافذ کرنے اور ان پر قائم رہنے کے قابل ہوں گی۔ کچھ رویوں اور سرگرمیوں کی میرے گھر میں اجازت نہیں ہوگی۔ میں اُسے آرام سے بتاؤں گی کہ اگر اسے یہاں رہنا ہے تو میرے لیے کون سی چیزیں قابل قبول ہیں اور کون سی نہیں۔

میں نارانون پروگرام میں سیکھ رہی ہوں کہ میں دوسرے انسان کو نہیں بدل سکتی۔ صرف ’میں‘ وہ ایک شخص ہوں جسے میں بدل سکتی ہوں۔ جب میں پیچھے مُڑ کر اپنی تمام کوششوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو میں نے نشئی کے رویے کو بدلنے کیلئے کیں تو مجھے دکھائی دیتا ہے کہ اس پر کسی چیز نے اثر نہیں کیا۔ اُن تمام تر کوششوں کا اثر شاید کچھ دن رہا ہو گا مگر کبھی مستقل نہیں۔ حدود قائم کرنے کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔

میں نے پایا کہ دُعا اور نارانون پروگرام کا لٹریچر پڑھنے سے مجھے اپنے رویے اور ضروریات پر توجہ دینے کا موقعہ ملا۔ بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ جن چیزوں کو میں بدل نہیں سکتی انہیں قبول کرنے کی جرأت رکھنا مشکل ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نشئی کو نہیں بدل سکتی۔ ایک دفعہ جب میں تسلیم و رضا کے مقام پر پہنچ جاتی ہوں تو مجھے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے بامعنی حدود مقرر کرنے سے پہلے اس احساس کو پانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سوچ:

میں کسی دوسرے کے رویے کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوں گی بلکہ اپنے رویے کی طرف دھیان دوں گی۔

’’وہ جو اپنا احترام کرتا ہے دوسروں سے محفوظ رہتا ہے؛ وہ ایسی زرہ بکتر پہن لیتا ہے جس میں کوئی سوراخ نہیں کر سکتا۔‘‘ ~ ہنری واڈزورتھ لانگ فیلو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں