میں نے سیکھا ہے کہ نشے کی عادت ایک بیماری ہے۔
یہ شاید کبھی جان نہیں چھوڑتی، لیکن میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اسے قبول کرنا
اور پھر اسکے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرنا سیکھ سکتا ہوں۔
ایک دفعہ میں نے سُنا تھا کہ جب نشے کے مریض
بحالی کی طرف آنے کے لیے تیار ہوں تو انہیں خاص مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے
فوراً اس بات کو مان لیا کیونکہ میں یہی سُننا چاہتا تھا، سو میں اس کی نشے میں
معاونت کی، اس کے قرضے ادا کیے، اور اس کو درپیش بحرانوں میں یہ سوچ کر اسے اپنی
مرضی سے چلایا کہ اس سے وہ نشے سے دور رہے گی۔ ان سب میں مجھے اس بات کا
احساس نہیں ہوا کہ میں یہ سب کام کچھ توقعات کے ساتھ کر رہا تھا۔ جب اس سب نے کام
نہیں کیا تو میں خفا ہو گیا۔
نارانون میٹنگز میں جانے سے میں نے اپنی مرضی کے
نتائج حاصل کرنے کے لیے دوسروں پر اثر انداز ہونے اور نشے میں معاونت کے اثرات کے
بارے میں سیکھا۔ نارانون پروگرام کی بدولت میں اپنے طریقے سے اور اپنے وقت پر اپنے
فیصلے کرنے اور اپنی حدیں مقرر کرنے کے قابل ہوا۔
میں
سمجھتا ہوں کہ اپنی زندگی میں جرأت اور وقار کے ساتھ مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا
کرنے سے آخرکار اچھے نتائج برآمد ہوں گے، اگرچہ یہ اچھے نتائج شاید ہمیشہ مجھے دکھائی نہ دیں۔ میں اس کے بارے
میں اکثر سوچتا ہوں، اور یہ سوچ مجھے آج کا دن گزارنے میں مدد کرتی ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ میں بہتر ہو رہا ہوں اور ابھی
بہت طویل راستہ باقی ہے لیکن یہ قول کہ ’صرف آج کا دن‘، مجھے حوصلہ، مستقل مزاجی
اور اُمید دیتا ہے۔
آج کی سوچ:
نارانون پروگرام پر عمل کرتے ہوئے میں نشے کی
بیماری کے ہاتھوں تباہ ہوئے بغیر اس کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ میں اپنی زندگی میں آگے
بڑھ سکتا ہوں۔ میری زندگی نشئی اور اسکے مسائل پر مشتمل ہے لیکن میں اب اس بات کا
انتخاب کرسکتا ہوں کہ نشئی کے مسائل میری زندگی پر اثرانداز نہ ہوں۔ میرا شدید غصہ
اوردوسروں سے حقارت آمیز رویہ اب موجود نہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں