اتوار، 6 ستمبر، 2015

نشئی کا خاندان

نشے کی بیماری پورے خاندان کو متاثر کرنے والی بیماری ہے۔ میرے بچوں نے خاندان کے ایک فرد کے نشے کے اثرات برداشت کیے۔ میں نارانون پروگرام میں سیکھ رہی ہوں کہ یہ تکلیف کئی طریقوں سے اپنے آپ کو ظاہر کر سکتی ہے۔

کچھ بچے سکول کا کام کرنے کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دیگر بچے گھر سے باہر کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ بچے سکول کا کام کرنے سے کتراتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔

جب میری بیٹی کو معلوم ہوا کہ اس کا باپ نشئی ہے تو کالج میں اس کے نمبر ایک دم کم ہوگئے۔ میرے نارانون گروپ کے دوسرے ارکان نے بتایا کہ ان کے بچے سکول کے کاموں، کھیل کود یا سرگرمیوں میں جنون کی حد تک مصروف ہو گئے۔ دیگر ارکان نے بتایا کہ بد قسمتی سے ان کے بچے نشے کی عادت میں مبتلا ہو گئے۔

جس طرح نشے کی بیماری نشئی کی خود اعتمادی پر اثرانداز ہوتی ہے، اُسی طرح یہ بیماری اس کے خاندان کے ارکان کی خوداعتمادی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ کچھ بچے اپنے بارے میں اچھا محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ غلطی سے یہ سوچتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس بیماری کے ذمہ دار ہیں۔

میرے بچے یہ سوچتے تھے چونکہ ان کے خاندان میں ایک نشئی موجود ہے اس لیے ان کی زندگیاں برباد ہو گئی ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہ بغیر کسی مقصد کے زندگی گزار رہے ہیں اور پستی میں گر رہے ہیں۔ بحالی کے عمل میں شریک ایک والدہ ہونے کی حیثیت سے میں سمجھتی ہوں کہ مجھے بحالی کی مثال قائم کرنا چاہیئے۔ اس لئے میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بارہ اقدام پر عمل کرتی ہوں۔

میں نے سیکھا ہے کہ جب میں اپنے بچوں کو بالاتر طاقت کے حوالے کرتی ہوں تو میں اپنی ذاتی حدیں مقرر کر سکتی ہوں اور اپنے بچوں کو اجازت دے سکتی ہوں کہ وہ اپنے رویوں کے نتائج سے خود سبق سیکھیں۔

نارانون سے میں نے نشئی سمیت دوسروں کو بچانا ترک کرنا اور دوسروں کو الزام دینا چھوڑنا سیکھا۔ میں اپنی زندگی میں کچھ کارآمد اور تعمیری کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔ صرف اور صرف اس طرح میں دوسروں کی کوئی مدد کرسکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میرے بچوں میں نشے کی بیماری کے اثرات دکھائی دیں گے تو میں اسے دل پر نہ لینے کی کوشش کروں گی۔ میں ان سے محبت کروں گی اورانہیں ان کی بالاتر طاقت کے حوالے کردوں گی۔ میں اُمید کر سکتی ہوں کہ جب میرے بچے مجھے نارانون پروگرام پر عمل کرتا ہوا دیکھیں گے تو وہ بھی صحتیاب ہو جائیں گے۔

’’میں صرف ایک ہوں لیکن میں کچھ ہوں۔ میں سب کچھ تو نہیں کرسکتا، لیکن میں کچھ تو ضرور کر سکتا ہوں۔ اور جو میں نہیں کرسکتا اسے میں اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دوں گا جو میں کر سکتا ہوں۔‘‘ ~ ایڈورڈ ایوریٹ ہیل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں