آج میں نے پرندوں کو گاتے سُنا! مجھے نہیں یاد کہ آخری بار کب میں نے پرندوں کو گاتے سُنا تھا۔ اوہ، پرندے روزانہ میرے صحن میں گاتے ہیں، لیکن جب نشے کی بیماری میری زندگی میں داخل ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ میں نے اپنی زندگی اور اردگرد پھیلی دنیا کو سراہنے کی صلاحیت اور اپنی سمت کھو دی تھی۔ میں نے کافی عرصے سے پرندوں کو گاتے نہیں سُنا تھا لیکن آج میں نے سُنا۔
میں بہت حیران ہوں کہ پرندوں کو گاتے ہوئے سُننا کتنا اچھا محسوس ہوتا ہے۔ ہاں، مجھے سُن کر اچھا لگا۔ میں نے سوچا نہیں لیکن محسوس کیا۔ گیت سُریلے اور لَے میں تھے۔ میں نے ایک پرندہ ماں کا تصور کیا جو اپنے بچے کو گھونسلے سے باہر لانے کی کوشش کرتی ہے۔ میں نے تصور میں دیکھا کہ (گیتوں کے ذریعے) ایک پرندہ ماں اپنے بچے کی پروں کو پھڑپھڑانے میں حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
یہ ایک نہایت خوبصورت آواز تھی، ایک ایسی آواز جس کی میں نے ماضی میں کئی سالوں تک بہت زیادہ کمی محسوس کی۔ لیکن آج میں نے پرندوں کو گاتے سُنا۔
آج کی سوچ:
نشے کی بیماری نے مجھ سے زندگی کی سادہ چیزوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو چھین لیا تھا۔ میں اپنے اردگرد پھیلی خوبصورتی پر غور ہی نہیں کرتا تھا۔ نارانون کی مدد سے میں اب رُک کر دنیا سے لُطف اندوز ہو سکتا ہوں اور ان تحائف سے خوشی محسوس کر سکتا ہوں جو مجھے دل کھول کر دیے جاتے ہیں۔
’’خوشی تک سفر نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس کی ملکیت حاصل کی جا سکتی ہے، نہ یہ کمائی جاسکتی ہے، نہ ہی یہ پرانی ہوتی اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔ خوشی ہر لمحے میں محبت، فضل اور شکرگزاری کیساتھ جینے کا روحانی تجربہ ہے۔‘‘ ~ ڈینس ویٹلی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں