محبت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
محبت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 13 اکتوبر، 2015

دسویں قدم کی مشق کرنا

مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی بحالی کی نیم دلی سے کوشش کرتا رہا ہوں۔ میں نے نشئی کو جانے دیا، لیکن کیا میں نے یہ عمل محبت کیساتھ کیا؟ میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک اطمینان اور سکون محسوس کرتا ہوں۔ میں نہ نشئی کو فون کرتا ہوں نہ ہی نشئی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں نشئی کے بارے میں جنونی نہیں ہوں، لیکن کیا میں نے اس سے محبت سے لاتعلقی اختیار کی ہے؟ میں سوچتا ہوں کہ کیا میرے غصے کے کثیف ٹکڑے انتہائی غیر مناسب اوقات میں اپنا چہرہ دکھائیں گے اور میں پاگل اور قابو سے باہر ہو جاؤں گا؟ مجھے خود پر شک ہو رہا ہے۔

میں سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنی خامیوں کی فہرست کسی بھی ضرورت کے وقت بنا سکتا ہوں۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ میں تین طرح کی فہرستیں استعمال کر سکتا ہوں:

(1 سپاٹ چیک: روزانہ اپنے رویے اور سلوک کو کچھ دیر کے لئے ٹھہرکر جانچنا۔

2) روزانہ کی فہرست: ہر دن کے آخر پر ٹھہرنا اور تجزیہ کرنا کہ سارے دن میں کیا کچھ ہوا اور میں نے کیسا ردعمل اپنایا۔

3) وقتاً فوقتاً طویل المعیاد فہرست، اپنی زندگی پر سوچ بچار کے لئے خاص دن مقرر کرنا۔ عمومی طور پر ہم ایسا کام کسی خاص مقام مثلاً اپنے گھر سے دور جا کر کرتے ہیں۔

نارانون کا لٹریچر پڑھنے سے میں نے سیکھا کہ میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو مجھے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ میرا حق ہے۔ مجھے ہر وقت کسی کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنی ضرورت پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے فیصلہ کر سکتا ہوں کہ اس وقت میرے لیے کیا سب سے بہتر ہے۔

اگر مجھے کسی کی مدد چاہیئے یا ضرورت ہو تو جب میں محسوس کروں کہ ایسا کرنا اس وقت میرے لئے ٹھیک ہے تو میرے پاس اس کا اختیار موجود ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتا ہوں کہ میرے پاس یہ اختیار موجود ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے۔

آج کی سوچ:

میں نے محسوس کیا کہ جب میں اپنے پروگرام کی مشق کرتا ہوں تو میں پُرسکون رہتا ہوں۔

’’سب سے بڑی غلطی، مجھے کہنا چاہیئے، کسی بھی چیز کا شعور نہ ہونا ہے۔‘‘ ~ تھامس کارلائل

پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب

جمعہ، 28 اگست، 2015

محبت یا جنون

نارانون میٹنگ کا آغاز نارانون لٹریچر کے صفحات پڑھنے سے ہوتا ہے۔ ایک شام ایک نووارد نے پوچھا ’’ ’ںظر رکھنا پیار نہیں‘ کا کیا مطلب ہے‘‘؟ میں اُسے کوئی واضح جواب نہیں دی سکی۔ مجھے معلوم تھا کہ  میں نے اپنی زندگی میں مسلسل ایک نشئی پر نظر رکھتی تھی۔ اسی لئے اگر ’ںظر رکھنا محبت نہیں‘ تو پھر نشئی کے لئے میرے کیا جذبات تھے؟

منطقی انسان ہونے کے باعث میں نے محبت کی تعریف تلاش کی: ’’محبت ایک گہرا، لطیف شفقت اور ہمدردی والا جذبہ ہے۔‘‘ میں نے نشئی کے لئے اپنے جذبات کا بغور جائزہ لیا۔ مجھے یہ بات ماننی پڑی کہ میرے جذبات شدید ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے نہ ہمدردی والے ہیں نہ شفقت والے۔

مجھے اس سے محبت ہی ہوگی؛ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ میں نے اس سے پہلے بھی سُنا تھا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے مریض کے بارے میں جنونی ہوتے ہیں، اس لئے میں نے ’جنون‘ کی تعریف دیکھنے کے لئے دوبارہ لغت اُٹھائی۔ ’’جنون ایک ایسا خیال یا جذبہ ہے جو دماغ پر مکمل قابض ہو۔‘‘ یہ یقیناً انہی جذبات کی تعریف تھی جو نشئی کے ساتھ میرے رویے میں نمایاں تھے۔

مجھے ایک اور مطالعہ یاد آیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے سیکھا ہے کہ نشہ ایک بیماری ہے۔۔۔ یہ دوہری بیماری ہے: ایک جسمانی الرجی کے ساتھ دماغی جنون۔‘‘ پھر میں نے پھر ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ کی وضاحت کو دیکھا۔ وہاں دو وضاحتیں دی گئیں تھیں؛ ایک میں منشیات پر جسمانی انحصار کی تشریح تھی اور دوسری عمومی تھی،’’کسی چیز میں گہری دلچسپی جس پر بہت زیادہ وقت صرف کیا جائے۔‘‘

آج کی سوچ:

جب میں اپنے نشے کے مریض کے علاوہ کچھ نہیں سوچ سکتی تو میں خود کو یاد کرواتی ہوں کہ جنون کا مطلب محبت کی بجائے ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ سے زیادہ قریب تر ہے۔ آج میں محبت کا انتخاب کرو گی۔ 
’’کسی پر ںظر رکھنا محبت نہیں۔‘‘~ کارل جی۔ جنگ