بے عیب ہونا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بے عیب ہونا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 29 ستمبر، 2015

پیش رفت نہ کہ کاملیت

میں نارانون کی ایک شکرگزار رکن ہوں اور لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی عزت نفس کی پرواہ نہ کرنے کی عادت سے بحال ہو رہی ہوں۔ میں ایک نشئی کے ساتھ کئی سال شادی کے بندھن میں رہی تھی اور میں ضرورت سے زیادہ مسائل کا شکار رہی کیونکہ میں نے یہ مسائل خود اپنے اوپر مسلط کیے تھے۔

میں اپنے سارے مسائل کے لئے نشئی کو الزام دیتی اور اپنی خود کی ذمہ داریاں اٹھانے سے اُسی طرح انکاری تھی جیسے نشئی اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے سے انکاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں۔

پہلے میں نارانون میں آنے کے لئے راضی نہیں تھی۔ جب میں نے نارانون میٹنگز میں آنا شروع کیا تو میں سُنتی بھی نہیں تھی۔ میں وہاں سُن بیٹھی رہتی لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے بہتر محسوس کرنا شروع کردیا اور یہاں آنا جاری رکھا۔

میں نے نارانون کا لٹریچر پڑھنا شروع کردیا۔ آخرکار میں نے بھی شئیر کرنا شروع کیا اور یہی وقت تھا جب میں نے بہتر ہونا شروع کردیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں وہیں ہوں جہاں مجھے ہونے کی ضرورت تھی اور یہ کہ جو میں محسوس کرتی تھی دوسرے اسے سمجھتے تھے۔ بالآخر میں دوسرے لوگوں کی کہانیاں سُننے کے بھی قابل ہو گئی اور میں نے ان کی پرواہ کرنا شروع کردیا۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں صرف ایک انسان ہوں۔ اس بات کے احساس سے مجھے بہت سکون ملا کہ میری زندگی کی بہت ساری ناکامیوں کے پیچھے میری نالائقی نہیں تھی بلکہ جو کچھ بھی میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہ فانی انسانوں کے لئے جسمانی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے کرنا ناممکن ہے۔

جب میں اپنے آپ کو ایسی چیزوں تک محدود رکھتی ہوں جو میں کر سکتی ہوں اور مجھے کرنے کا حق رکھتی ہوں تو میں انہیں عمدہ طریقے سے کرتی ہوں۔ حتیٰ کہ اگر میں اچھے طریقے سے نہ بھی کر سکوں تو میں جانتی ہوں کہ ایسا اس لئے ہے کہ میں محض ایک انسان ہوں اور اسی لئے میں کامل یا بے عیب نہیں ہوں ۔۔۔ بالکل دوسروں کی طرح۔

آج کی سوچ:

میں نے سب سے بڑا تحفہ جو نارانون سے حاصل کیا وہ ہے عزتِ نفس۔ اب میں جانتی ہوں کہ میں محبت، پُرسکون ماحول اوراپنے لیے عزت کی حقدار ہوں۔


’’ان بارہ اقدام کے ذریعے اپنی زندگی میں تبدیلی کے عزم کے بعد ہم اس چیز کو پہچانتے ہیں کہ تبدیلی ایک عمل ہے اور ہم ہر قدم کو بار بار استعمال کریں گے۔’کاملیت نہیں پیش رفت‘ قول کی طرح ہم اپنی روحانی ترقی کی راہ میں ہر موڑ پر ہر قدم کا نیا رُخ سمجھ پائیں گے۔‘‘ ~ نارانون بارہ اقدام کا پروگرام

جمعہ، 25 ستمبر، 2015

الزام

میرے لئے سب مسائل کا الزام اپنی زندگی میں موجود نشے کے مریضوں کو دینا آسان کام ہے لیکن انہیں الزام دینے سے میرے حالات میں بہتری نہیں ہوتی اور یقیناً اُن کے حالات بھی بہتر نہیں ہوتے۔ درحقیقت نشئی کے مسائل، کمزوریوں اور رویوں پر توجہ دینے سے میں اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے بچ جاتی ہوں اور ایسا کرنا مجھے صحت مند اور خوش انسان بننے سے روکتا ہے۔

جب میں خود پر توجہ دیتی ہوں تو میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔ جب نشئی مجھ سے میری گاڑی یا پیسے مانگے تو میں نا کہہ سکتی ہوں۔ میں بحث کے چکر میں نہ پڑنے کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہوں۔ میں بحث کے سلسلے کو روک کر اپنے سپانسر کو فون کر سکتی ہوں۔ حتیٰ کہ میں نشے کے مریضوں کو اپنی رائے رکھنے کا حق دے سکتی ہوں۔

 مجھے مریض کی جیل سے کی گئی کالز کی ادائیگی کرنے یا اس کے وکیل کی فیس بھرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کے بچاؤ کے مشن میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نشئی کو اسکے اعمال کے نتائج بھگتنے دے سکتی ہوں۔

حتیٰ کہ مجھے خود کو بھی الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی ماضی کی غلطیوں کے لئے خود کو معاف کرسکتی ہوں اور جو کچھ مجھ سے ہو سکتا ہے صرف آج کے دن کے لیے کر سکتی ہوں۔ نارانون پروگرام مجھے سکھاتا ہے کہ مجھے بے عیب ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا پروگرام ہے نہ کہ بے عیب ہونے کا۔

آج کی سوچ:

خود سمیت دوسروں کو الزام دینا ترقی نہیں۔ یہ مجھے روکے رکھتا ہے۔ جب میں الزام دیتی ہوں تو میں ترقی نہیں کر رہی ہوتی اور میری بحالی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔



’’زندگی کو دیکھنے کے صرف دو ہی نظریے ہیں۔۔۔۔ مظلوم کی طرح یا بہادر جنگجو کی طرح۔۔۔ اور تمہیں لازمی فیصلہ کرنا ہے کہ تم عمل کرنا چاہتے ہو یا ردعمل، اپنے پتوں سے کھیلنا چاہتے ہو یا پھر دوسرے کو ہرانے کے لیے پتوں میں ہیرا پھیری کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر تم فیصلہ نہ کرپائے کہ زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے تو ہمیشہ زندگی تمہارے ساتھ کھیل کھیلے گی۔‘‘ ~ مرلی شین