‏کنٹرول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کنٹرول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 نومبر، 2015

حقیقت

نارانون پروگرام پر عمل کا ایک حصہ اپنے آپ سے نمٹنا اور اس بات کو سمجھنا ہے کہ میں زندگی کو کیسے دیکھتی ہوں۔ یہ سوچ کہ ’’میں کوئی اختیار نہیں رکھتی‘‘ مجھے یاد دلاتی ہے کہ نشئی سے پرانے طریقوں سے نمٹنے کی بجائے مجھے اپنی صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھنا ہو گا۔

نارانون میٹنگز میں آنا شروع کرنےسے پہلے میں یہ غلط تاثر رکھتی تھی کہ میں اپنی نشئی عزیزہ کو کنٹرول کر سکتی ہوں۔ اب میں جانتی ہوں کہ میں اپنے خیال میں نشئی پر جو بھی اختیار رکھتی تھی وہ کافی عرصے سے ختم ہو چکا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میرے سکون کی وجہ نشئی کو بحالی مدد لینے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھ بوجھ ہو گی کہ امن تب ہی آئے گا جب میں کسی بھی صورتحال پر اپنے ردعمل میں تبدیلی لاؤں گی۔

گزشتہ روز نشے کی مریضہ ہمارے گھر صبح سات بجے آئی۔ جب میں باہر گئی تو میں نے کچھ ایسا دیکھا جو میں نشے کی بیماری اپنے گھر آنے سے لے کر آج تک نہیں دیکھ پائی تھی۔ میں نے جسے دیکھا وہ میری بیٹی نہیں تھی بلکہ ایک تھکی ماندی ستائیس سالہ عورت تھی۔

اُس لمحے میرا اسے دیکھنے کا نظریہ اس تصور سے مختلف تھا جو اس کے نشہ کرنے سے پہلے میرے دماغ میں تھا۔ اس لمحے سے پہلے تک جب بھی میں اپنی بیٹی کے بارے میں سوچتی تو میرے ذہن میں ایک پیاری سی نوجوان لڑکی کا خاکہ ابھرتا جو میری زندگی کی روشنی تھی۔ اس کی اس نئی تصویر نے مجھے چونکا دیا۔

میرا خیال ہے کہ یہ نشے سے ہونے والی ابتدائی تکلیف کا حصہ ہے؛ میں اپنی پیاری نشئی عزیز کو اس طرح دیکھتی تھی جیسے وہ پہلے ایک محبت کرنے والی انسان ہوا کرتی تھی۔ میں اس تصور کو چھوڑنے سے انکار کر رہی تھی۔

 میں اتنی شدت سے اسے اپنی زندگی میں واپس پانا چاہتی ہوں کہ میں حقیقی صورتحال نہیں دیکھ پا رہی۔ میں اتنی شدت سے اپنی نارمل زندگی کو واپس چاہتی ہوں کہ میں اسے حاصل کرنے کے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ کئی بار میں نے سوچا کہ کاش میں جاگوں تو یہ خوفناک خواب ختم ہو چکا ہو۔

آج کی سوچ:

نارانون نے مجھے یہ احساس دلانے میں مدد کی کہ چونکہ میں دوسروں پر کوئی اختیار نہیں رکھتی تو مجھے اپنی زندگی کی بدلی ہوئی حقیقت کو دیکھنا ہوگا اور اس کے مطابق اپنی زندگی ترتیب دینا ہو گی۔


’’زندگی وہ ہے جو تمہارے ساتھ واقع ہو رہی ہوتی ہے جب تم دوسری چیزوں میں مصروف ہوتے ہو۔‘‘ ~ جان لینن

جمعرات، 1 اکتوبر، 2015

یقین کا ایک عمل

نارانون پروگرام نے میری دنیا ہی بدل دی۔ یہ درست ہے کہ حقیقت میں دنیا تو نہیں بدلی؛ مگر یہ میری سوچ تھی جو بدل گئی۔ میں نے سیکھا کہ میں چیزوں کو کیسے اور کیوں کسی خاص انداز میں سوچتا ہوں۔ میں نے یہ بھی سیکھا کہ ایک ہی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں۔ اب میں حالات کو دیکھ کر سوچ سکتا ہوں کہ ان پر میں کس طرح کے مختلف ردعمل اخیتار کر سکتا ہوں۔

جینے کا یہ انداز مجھے کئی طریقوں میں سے ایک چننے کا اخیتار دیتا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ میں ایسا ردعمل اختیار کروں جیسا کہ میں ہمیشہ ماضی میں کرتا تھا۔ آج میں نے زندگی کو دیکھنے اور اپنے مسائل سے نمٹنے کا ایک نیا انداز پایا ہے۔

مجھے یاد ہے بچوں کے کھیلوں میں ہتھیار ڈالنے کا مطلب ہار ماننا ہوتا تھا۔ میں یہ سوچ کر بڑا ہوا تھا کہ ہتھیار ڈالنا کوئی حل نہیں ہے۔ تاہم جب سے میں نارانون میٹنگز میں جا رہا ہوں، میں نے پایا کہ ’ہتھیار پھینکنے‘ کا ایک بالکل مختلف معنی ہو سکتا ہے۔

آج میں اپنی مرضی کو اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہار گیا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا کنٹرول ترک کر رہا ہوں اور اپنی بالاتر طاقت کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنا رہا ہوں۔ میں نے جانا کہ میں یہ خود نہیں کر سکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں میدان چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی مرضی کو اپنے سے بڑی طاقت، جو میرا خدا ہے، کو سونپ رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میں مسائل میں بہت گھرا ہوا محسوس کرتا ہوں اور اپنے مسائل سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتا، میں ہتھیار ڈال سکتا ہوں اور خدا، جیسا کہ میں اسے سمجھا ہے، کو اپنے مسائل کی ذمہ داری دے سکتا ہوں۔ یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے کا عمل نہیں؛ یہ اعتقاد اور یقین کا معاملہ ہے۔


’’دنیا جو ہم نے بنائی ہے ہماری سوچ کی پیداوار ہے؛ اپنی سوچ کو بدلے بغیر ہم اسے نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ البرٹ آئنسٹائن

بدھ، 30 ستمبر، 2015

اضطراب

جب ہم کسی نشئی کے ساتھ رہتے ہوں تو پریشانی و اضطراب میں زندگی کے ہر لمحے کو ضائع کر دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ میں کنٹرول کا ایک جھوٹا احساس محسوس کرتی اور جب میں سوچتی کہ میری زندگی میں موجود نشئی منشیات استعمال کر رہی ہے تو مضطرب ہو جاتی۔

میں نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے لیے زندگی کزارنے میں اتنی منہمک ہو گئی تھی کہ میں نے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ میں نے گھر پر رہنا شروع کردیا تاکہ میں ہر لمحے اس کی حرکات پر نظر رکھ سکوں، جیسے ایسا کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میں اُسے منشیات کے استعمال، بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے یا ہماری زندگیوں کو مزید نقصان پہنچانے سے بچا سکوں گی۔

اگر میں اُسے یہ دکھا سکوں کہ وہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم سب ایک خوشگوار، محبت بھری، صحتمند اور پریشانی سے آزاد زندگی گزار سکیں گے۔ آخر جب میری ہمت جواب دے گئی تو میں نے محسوس کیا کہ میں اب ایسا کرنا جاری نہیں رکھ سکتی اور پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ میرا پاگل پن تھا۔

نشے کی لت کے عفریت نے میری ہر سوچ، عمل اور جذبے کو اس حد تک چاٹ لیا تھا کہ میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بیمار ہو گئی۔ مجھے یہ سب فوری بند کرنا پڑا۔ میں نے ’جانے دو‘ کا اُصول سیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ بلآخر مجھے سمجھ آگئی۔ میرا نشئی پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔

آج کی سوچ:

ہم اپنے فیصلے کرنے میں اُسی طرح آزاد ہیں جس طرح نشئی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ ہم کسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور ایسا کرنے کی کوشش صرف پریشانی کا سبب بنے گی۔

’’ہمیں خود اپنا باغ کاشت کرنا چاہیئے۔‘‘ ~ وولٹیئر

ہفتہ، 26 ستمبر، 2015

صبر کیساتھ قبول کرنا

صبر انتظار کرنے یا کسی کام میں تاخیر کو بغیر ناراض ہوئے برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ میں نشئی کے ساتھ ایک غیر معمولی صورتحال میں رہ رہا ہوں کیونکہ اس کا زندگی گزارنے کا انداز میرے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ مجھے نشئی، خاندان کے دیگر افراد، دوستوں یا کام کے ساتھیوں کے ساتھ تحمل برتنا مشکل لگتا ہے۔
میری بے صبری کی عادت کا اپنے گرد لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس سے گہرا تعلق ہے۔ جب دوسرے میری خواہش اور میرے ٹائم ٹیبل کے مطابق عمل نہیں کرتے تو مجھے لگتا ہے کہ میرا کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ پھر میں صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہوں اور اپنے اردگرد لوگوں پر چیختا اور گالم گلوچ کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایسے جذبات کا اظہار مجھے دوسروں پر دوبار کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ ایک قول ہے جسے میں مشکل حالات میں یا پھر کسی سے ناراض ہوں تو سکون پانے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ جانے دینے کی مشق سے میں ان جذبات کو رہائی دے کر اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ یہ مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں انہیں بغیر کسی احساسِ ذمہ داری سے دیکھوں۔
میں نے جانا کہ جب میں اپنے کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس کو پہچانتا اور جانے دیتا ہوں تو میں اپنی توقعات کو بھی رہائی دے سکتا ہوں اور صبر محسوس کر سکتا ہوں۔
آج کی سوچ:
صبر یہ نہیں ہے کہ میں چیزوں کو اپنے انداز میں کروں۔ یہ معاملہ جو ہے اسے تسلیم کرنے اور قبول کرنے کا ہے اور اس بات پر اعتماد کرنے کا کہ جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو گی میری بالاتر طاقت مجھے دے گی۔

’’تم ہتھوڑے سے سنگ مرمر کو پیس کر ایک مجسمہ نہیں بنا سکتے؛ تم ہتھیاروں کے زور پر روح کی سچائی کو سامنے نہیں لا سکتے۔‘‘ ~ کنفیوشیئس

بدھ، 23 ستمبر، 2015

ضروریات

میں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ اچھا ہو اور میں نے اس کے لیے دعا کی اور نارانون وہ جگہ تھی جہاں مجھے یہ اچھائی ملی۔ ایک پرانی کہاوت کہ ’’نشئی کو اپنی پستی میں گرنے دو‘‘ کو آزمانا میرے لئے مشکل ہے۔ نشئی کو مدد کی ضرورت کا احساس ہونے تک حالات خراب ہو سکتے ہیں، اگر کھبی اسے یہ احساس ہو جائے۔

میں نے دیکھا کہ کسی چیز کے برا ہونے کے بارے میں میرا خیال نشئی کے خیال سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نشئی کے لیے میری خواہشیں، چاہتیں، ضرورتیں اور مستقبل کی اُمید اس کے اپنے خیالات سے مماثلت نہ رکھتی ہوں۔

جب میں نشئی کی خواہشات اور ضرورتوں کا اندازہ لگانا شروع کرتا ہوں تو میں ایک بار پھر اسکی زندگی کو کنٹرول کرنے اور اس کی بالاترطاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ میں پھر سے پرانے جال میں پھنس گیا ہوں اور نشئی کے لئے وہ سب کررہا ہوں جو اُسے خود اپنے لئے کرنا چاہئیے۔

جب میری توجہ نشئی پر اور اسکی ضرورتوں اور خواہشوں پر ہوتی ہے تو میں اسے اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا ذمہ دار بھی بنا رہا ہوتا ہوں۔ آج جب میں نشئی کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے فیصلہ کرتا ہوں تو میں اپنے لیے فیصلہ کرتا ہوں۔

مجھے یہ یقین آگیا ہے کہ مجھ سے زیادہ بڑی طاقت میری خواہشات، ضروریات اور چاہتوں کو پورا کرسکتی ہے۔ جس طرح میری بالاتر طاقت نے مجھے نارانون تک پہنچنے میں رہنمائی کی یہی بالاتر طاقت نشئی کو بھی مدد تک پہنچائے گی جب نشئی بحال ہونا چاہے گا۔

میں اپنی ذات اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لے سکتا ہوں، دوسروں کی زندگیوں کی نہیں۔ میں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ تلافی کر کے اپنے ماضی کے فیصلوں کو قبول کرتا ہوں۔ یہ عمل میرے لئے زندگی گزارنے کے ایک نئے اور مختلف راستے کے دروازے کھولتا ہے۔ میں اپنے ماضی کو دہراتے رہنے کی بجائے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

آج میں اپنی بالاتر طاقت سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے یاد دلائے کہ میں جو کچھ بھی اپنے لئے چاہتا اور خواہش رکھتا ہوں وہ میرے اندر موجود ہے۔


’’جرأت رونے سے نہیں ڈرتی اور وہ دعا کرنے سے نہیں ڈرتی حتی کہ اس وقت بھی جب اُسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کس سے دُعا کر رہی ہے۔‘‘ ~ جے روتھ جینڈلر

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

چالبازی

میرے لئے چال بازی ایک فن ہے ۔۔۔ ایک ہُنر جو میں نے سیکھا۔ میں چالبازی میں کئی طرح کے منفی اور خود غرض رویے استعمال کرکے دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق سوچنے اور عمل کروانے کی کوشش کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ایک ماہر چالباز وہ شخص ہے جس نے اس فن کی کئی برسوں تک مشق کی ہو۔

میں ایک ماہر چالباز تھا۔ میں ہمیشہ منفی رویے استعمال کرتا، ہر وقت کوشش میں لگا رہتا۔ تاہم مجھے ہمیشہ وہ نتائج حاصل نہ ہوتے جن کی مجھے اُمید ہوتی تھی۔ چالبازی میری زندگی کا مرکزی ہنر تھا۔ یہ رویہ نشہ استعمال کرنے والے کے ساتھ کئی پاگل کر دینے والے سال گزار کر اور بھی پختہ ہو گیا تھا۔

کئی ماہ تک نارانون پروگرام میں رہنے، باقاعدگی سے میٹنگز میں جانے اور سپانسر کے ساتھ اپنے اقدام پر کام کرنے سے میں نے سیکھا کہ دوسروں کے ساتھ چالاکی کرنا ایک منفی اور خودغرض رویہ ہے۔ جو مزہ کبھی مجھے چالبازی سے ملتا تھا وہ اب کھو گیا ہے۔

میں نے نارانون میں اپنا سچ بولنا سیکھا، جو مجھے چاہئیے اور جس چیز کی مجھے ضررورت ہو، بغیر کسی توقع کے مانگنا سیکھا۔ اب مجھے اپنی مرضی سے کچھ کرانے کے لئے دوسروں کیساتھ چالبازی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اب جب میں دفاعی انداز اپنا لیتا ہوں اور کسی چیز کے ردعمل میں چالاکی کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں اسے جلدی بھانپ لیتا اور روکتا ہوں۔ مجھے احساس ہو جاتا ہے کہ میں اپنے پرانے رویے کی طرف واپس لوٹ رہا ہوں۔

اب میری خوشی پروگرام کے تحائف ایمانداری سے اور قدرتی طور پر حاصل کرنے میں ہے۔ اپنے آپ پر کام کرکے میں نے اپنے اس وہم کو جانے دیا کہ مجھے دوسروں کو کنٹرول کرنا چاہیئے یا میں کر سکتا ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نارانون میں زندگی کو بہتر انداز میں جینا سیکھ رہا ہوں۔ اگر کسی چیز کی مجھے ضرورت ہو میں کہہ سکتا ہوں۔ اگر میں اسے حاصل نہ پاؤں تومیں اپنا رویہ بدل سکتا ہوں اور اپنی خواہش کو بالاتر طاقت کے حوالے کر سکتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جس وقت مجھے جس چیز کی ضرورت ہوگی وہ اسے پورا کرے گی۔


’’اگر کوئی چیز تمہیں پسند نہیں تو اسے بدل دو۔ اگرتم اسے بدل نہیں سکتے تو اپنا رویہ بدل لو۔‘‘ ~ مایا اینجلو

پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب