جب
ہم کسی نشئی کے ساتھ رہتے ہوں تو پریشانی و اضطراب میں زندگی کے ہر لمحے کو ضائع کر
دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ میں کنٹرول کا ایک جھوٹا احساس
محسوس کرتی اور جب میں سوچتی کہ میری زندگی میں موجود نشئی منشیات استعمال کر رہی
ہے تو مضطرب ہو جاتی۔
میں
نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے لیے زندگی کزارنے میں اتنی منہمک ہو گئی تھی کہ میں
نے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ میں نے گھر پر رہنا شروع کردیا
تاکہ میں ہر لمحے اس کی حرکات پر نظر رکھ سکوں، جیسے ایسا کرنے سے مسئلہ حل ہو
جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میں اُسے منشیات کے استعمال، بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے
یا ہماری زندگیوں کو مزید نقصان پہنچانے سے بچا سکوں گی۔
اگر
میں اُسے یہ دکھا سکوں کہ وہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ہم سب کی زندگیوں کے
ساتھ کیا کر رہی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم سب ایک خوشگوار، محبت بھری،
صحتمند اور پریشانی سے آزاد زندگی گزار سکیں گے۔ آخر جب میری ہمت جواب دے گئی تو
میں نے محسوس کیا کہ میں اب ایسا کرنا جاری نہیں رکھ سکتی اور پھر مجھے احساس ہوا
کہ یہ میرا پاگل پن تھا۔
نشے
کی لت کے عفریت نے میری ہر سوچ، عمل اور جذبے کو اس حد تک چاٹ لیا تھا کہ میں
جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بیمار ہو گئی۔ مجھے یہ سب فوری بند کرنا پڑا۔ میں
نے ’جانے دو‘ کا اُصول سیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں
ہے۔ بلآخر مجھے سمجھ آگئی۔ میرا نشئی پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ کبھی تھا اور نہ
کبھی ہوگا۔
آج
کی سوچ:
ہم
اپنے فیصلے کرنے میں اُسی طرح آزاد ہیں جس طرح نشئی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔
ہم کسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور ایسا کرنے کی کوشش صرف پریشانی کا سبب بنے گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں