جب میں نے سنا کہ مجھے اپنی غلطیوں کی تلافی
کرنا پڑے گی تو میں حقیقتاً ناراض اور اُلجھن کا شکار ہو گئی۔
مجھے کیوں کسی سے اپنے کیے پر معافی مانگنے کی ضرورت ہے؟ یہ سب ضروری تھا۔ جب میں
چیختی، چلاتی اور نفرت انگیز باتیں کہتی تو یہ سب اس لئے ہوتا تھا کیونکہ میں
ناخوش تھی، نشئی کی وجہ سے۔ میں نے ہمیشہ خود کو ٹھیک سمجھا۔ میں اچھا محسوس نہیں
کرتی تھی لیکن میں کیا کر سکتی تھی؟
مجھے صرف پاگل کر دینے والی چیزوں پر پاگلوں
جیسا ردعمل اختیار کرنا آتا تھا۔ جب میں اپنے کیے پر معافی کے بارے میں سوچتی تو میں حیران ہوتی
کہ مجھے اس کے لئے کیوں معافی مانگنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تو نشئی کی وجہ سے ہوا
تھا۔
جب میں نے نارانون پروگرام کے بارہ اقدام میں نواں
قدم پڑھا تو میں نے سیکھا کہ میں اپنے رویے میں تبدیلی لا کر اپنی غلطیوں کی تلافی
کر سکتی ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ لٹریچر کو پڑھنا اور اسعتمال
کرنا کیوں اتنا اہم ہے۔
میں گزشتہ دو سال کے دوران بدل گئی ہوں۔ میرے
ردعمل کا انداز بدل گیا، میرا رویہ بدل گیا اور میں نے دیکھا کہ یہ بدلا رویہ کیسے
تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے میرے حالات اداس کردینے والے تھے۔ مجھے
نہیں لگ رہا تھا کہ میرے شوہر میرے لیے وہاں موجود تھے کیونکہ وہ نشے میں تھے اور قابلِ
رسائی نہیں دکھائی دیتے تھے۔ اگرچہ یہ سچ تھا مگر میں نے اس وقت انہیں یہ نہیں کہا
کہ وہ کتنے ناکام انسان تھے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میری توقعات کہ وہ مجھے
اپنی بانہوں میں لیں اور سب کچھ ٹھیک کردیں حقیقت سے دور تھیں۔
ایک دن بعد وہ میری توقعات کے مطابق وہاں موجود
تھے۔ اس وقت وہ میری طرف متوجہ، خیال کرنے والے، پیارکرنیوالے، بامروت اور بے غرض
انسان تھے۔ میں خود کو جنت میں محسوس کر رہی تھی۔ مجھے حقیقت میں ان کی محبت اورپیار
محسوس ہو رہا تھا۔ کیا بدلا تھا؟ صرف میرا رویہ مختلف تھا۔
میرا خیال ہے کہ اگر میں اپنے پرانا انداز اختیار
کرتی تو وہ ایک غصیلی اور بیزار بیوی سے محبت کا اظہار نہ کرسکتے۔ میں نے ان کے
بارے میں اپنا نقطہ نظر بدلا۔ میں ان کے ساتھ پیار اور احترام کے ساتھ پیش آتی ہوں۔
اب وہ مجھے اپنا پیار دینے کے لئے آزاد ہیں، اس لئے نہیں کہ مجھے اس کی توقع ہے بلکہ
اس لئے کہ وہ یہ جذبات میرے لئےمحسوس کرتے ہیں۔
آج کی سوچ:
جب میں اپنے لئے پروگرام پر عمل کررہی ہوں تو بعض
اوقات بہت سی غلطیوں کا ازالہ خودبخود ہو جاتا ہے۔
’’جب نفرت و حقارت کی دیورایں نہیں ہوتی تو ہم ایک
دوسرے کو سمجھنے اور معافی دینے اور لینے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘ ~ گمنام
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں