گزشتہ شام میری میٹنگ میں’مشکل ترین مرحلے کو پار
کر لینا‘ زیر بحث تھا۔ میں نے فوراً مستقبل میں مشکل ترین مرحلوں کو پار کرنے کے
بارے میں سوچا۔ یعنی نشے کی بیماری میری زندگی میں کیا لائے گی؟ مجھے کس قسم کی
مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ جب مشکل بالکل قریب ہو گی تو میں کیسے اس سے نمٹوں
گی؟ کیا میں بحران سے نمٹنے کے قابل ہوں گی؟
ایک ساتھی نے کہا کہ اس موضوع سے اس کے ذہن میں ان
مشکل مرحلوں کے بارے میں سوچیں آئیں جنہیں اس نے میٹنگز میں آنے کے بعد سے اب تک
کامیابی سے پار کیا تھا۔ ایک دوسری رُکن نے کہا کہ میٹنگ میں سب کے تجربات اور
جذبات سُننے کے بعد اُس نے محسوس کیا کہ جب اُس نے لوگوں کے ساتھ حدیں مقرر کیں اور انہیں لاگو کیا
تو دنیا بھر کا بوجھ اس کے کندھوں پر سے اتر گیا۔ میں اس کے جذبات سمجھ سکتی ہوں کیونکہ
جب میں نے اپنے غصے پر قابو پانا شروع کیا تو مجھے بھی دنیا کا بھاری بوجھ خود پر سے
اُترتا محسوس ہوا تھا۔
مجھے احساس ہوا کہ ہماری میٹنگز میرے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ ہیں کیونکہ دوست اور اہلِ خانہ اپنے نیک ارادوں کے
باوجود نشے کی بیماری کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے جیسا کہ نارانون کے ارکان سمجھ
سکتے ہیں۔ گزشتہ شام کے موضوع نے مجھے احساس دلایا کہ جب سے میں نے نارانون میٹنگز
میں آنا شروع کیا ہے میں نے بھی اپنی زندگی کے بہت سے مشکل مراحل کو کامیابی سے
عبورکیا ہے۔ اب میرے لئے مستقبل کے مشکل مراحل کے بارے میں سوچنا اہم نہیں رہا
کیونکہ میں اس سادہ قول پرعمل کرنا سیکھ رہی ہوں، ’صرف آج کا دن‘۔
آج کی سوچ:
نارانون میٹنگز ایک محفوظ جگہ ہے جہاں آ کر میں
بغیر شرم محسوس کیے اپنے خدشات اور غموں کے بارے میں بات کر سکتی ہوں۔ میرے خیال
میں یہ زخم بھرنے کا ایک طاقتور نسخہ بھی ہے۔ میں ہر روز نارانون کے زبردست پروگرام
کے لئے اپنی بالاتر طاقت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں