‏بحالی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بحالی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 10 اکتوبر، 2015

دسواں قدم

دسویں قدم کا روزانہ استعمال میری بحالی کے فوائد کو برقرار رکھنے میں میری مدد کرتا ہے۔ یہ مجھے ہمت دیتا ہے کہ میں اپنی زندگی کو بیکار جذبات سے پاک رکھوں اور رحمتوں کے خزانے سے لُطف اندوز ہوں۔ جب میں روزانہ اپنی زندگی پر نگاہ ڈالتا ہوں تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں بے عیب نہیں ہوں، میں خود کو اپنے انسان ہونے کی یاد دہانی کراتا ہوں، اور میں اپنی غلطیوں کے احساسِ جُرم کو جانے دیتا ہوں تاکہ میں اپنی کامیابیوں سے لُطف اُٹھا سکوں۔

میں کئی سالوں سے نارانون میٹنگز میں جارہا تھا جس کے بعد مجھے اطمینان اور سکون کی دولت ملی، اور اب میں اسے قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنی بحالی کے ابتدائی سالوں میں کئی بار پہلے قدم کو دُہرایا۔ میری توجہ کا مرکز ابھی تک نشئی تھا۔ آخرکار جب میں نے شکست تسلیم کی اور نشئی پر اپنی بے بسی قبول کی تو میں نے اپنی بحالی کے اثرات کو محسوس کرنا شروع کیا۔

اب میں اپنے پاگل پن کو پہچان سکتا ہوں اور مدد کے لیے اپنی بالاتر طاقت سے رجوع کر سکتا ہوں۔ میں نے اپنی خامیوں کی فہرست بنانے کی جرآت پائی اور جیسے جیسے میں نے اپنی خامیوں اور کردار کے نقائص پر کام کیا میں نے اپنی زندگی میں مزید بہتری دیکھی۔ میں نے اپنے ماضی کے کچرے سے نمٹنا شروع کیا، اسے دُرست کیا یا اپنی زندگی سے جانے دیا۔

دسواں قدم بہت اہم ہے کیونکہ میں اپنی زندگی کو دوبارہ بیکار چیزوں سے نہیں بھرنا چاہتا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں روزانہ کچھ وقت اپنی اچھی یا بُری سرگرمیوں پر نظر ڈالوں تو میں انہیں دُرست کرسکتا ہوں یا ان سے محظوظ ہو سکتا ہوں یا پھر انہیں جانے دے سکتا ہوں۔

مجھے پریشانی کے جنون میں خود کو سزا دینے کی ضرورت نہیں۔ روزانہ کی فہرست مجھے جھوٹے احساسِ جُرم سے آزادی اور جو ترقی میں نے پا لی ہے اسے قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ مجھے مزید ماضی کے کباڑ کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں، حتی کہ ایک دن کا کچرا بھی نہیں۔ میں اس روزانہ نمٹ سکتا ہوں اور اپنے اطمینان اور سکون کو قائم رکھ سکتا ہوں۔

 آج کی سوچ:

 میں ہر روز اپنی غلطیوں اور کامیابیوں سے نمٹوں گا۔ جہاں ضروری ہوگا میں فوراً اپنی غلطی کو دُرست کروں گا اور اپنی کامیابی سے لُطف اندوز ہوں گا۔ اس طرح میں اپنے اطمینان اور سکون کو قائم رکھ سکوں گا۔

’’اگر تم اپنے تجربے کو عقلمندی سے استعمال کرو تو کچھ بھی وقت کا ضیاع نہیں ہے۔‘‘ ~ آگسٹی روڈن

پیر، 5 اکتوبر، 2015

حدود

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحرائی خانہ بدوش اور ایک اونٹ تھا۔ جب رات ہوئی تو خانہ بدوش نے نخلستان کے قریب اپنا خیمہ گاڑ لیا، اپنے اونٹ کو ایک کھونٹی کے ساتھ باندھا اور خیمے میں لیٹ کر آرام کرنے لگا۔

کچھ گھنٹوں کے بعد اونٹ نے خیمے کے اندر اپنا سر کر کے کہا ’’مجھے معاف کیجئے گا مالک، لیکن باہر بہت ٹھنڈ ہے۔ کیا میں اپنا سر آپکے خیمے میں رکھ سکتا ہوں تاکہ یہ گرم رہے؟‘‘ خانہ بدوش تھکا ہوا تھا لیکن خوشگوار انداز میں کہا ’’ہاں، مگر صرف تمہارا سر، کیونکہ یہاں بمشکل میرے لئے جگہ ہے۔‘‘ یہ کہہ کر خانہ بدوش دوبارہ سو گیا۔

ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد اونٹ نے دوبارہ اپنے مالک کو جگایا۔ اونٹ نے درخواست کی ’’اوہ مالک، میری اگلی ٹانگیں بہت ٹھنڈی ہو گئی ہیں۔ مہربانی سے کیا میں انہیں آپکے خیمے میں رکھ سکتا ہوں؟‘‘ خانہ بدوش بہت ہی تھکا ہوا تھا اور تنگ آ کر کہنے لگا، ’’ٹھیک ہے لیکن بس یہیں تک۔ مزید تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں پہلے ہی خیمے کے ایک کنارے پر جا لگا ہوں۔‘‘ خانہ بدوش نے جمائی لی اور دوبارہ سو گیا۔

ایک گھنٹے کے بعد اونٹ نے دوبارہ اسکو اُٹھا دیا اور التجا کی ’’مالک، میری کوہان بہت ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ میں خود کو کانپنے سے نہیں بچا پا رہا۔ کیا میں اپنی کوہان اندر کر سکتا ہوں۔‘‘ خانہ بدوش چلایا، ’خدا کیلئے! لے آؤ تم اپنی کوہان اندر مگر مجھے سونے دو! میں مسلسل یہ جاگنا برادشت نہیں کرسکتا۔‘‘ اس نے اپنا کمبل کھینچا، اپنے اوپر لپیٹا اور سو گیا۔

کچھ گھنٹوں کے بعد خانہ بدوش کی آنکھ کھلی تو وہ ٹھنڈ سے جم رہا تھا۔ وہ اپنے خیمے سے باہر تھا اور اونٹ مکمل طور پر خیمے میں تھا، گرم اور پُرسکون۔

میری حالت اس خانہ بدوش جیسی ہی ہے۔ خیمہ میری بحالی ہے اور اونٹ میری بیماری کے جیسا ہے۔ جس لمحے میں نشئی کے بارے میں جنونی ہونا شروع ہوتا ہوں میں اپنی بیماری کو خیمے کے اندر آنے کی اجازت دے دیتا ہوں۔ جب میں نشئی کو بتاتا ہوں کہ کیسے اُسے اپنی زندگی کو چلانا ہے، میں بیماری کی اگلی ٹانگوں کوخیمے کے اندر آنے کی اجازت دیتا ہوں۔ جب میں نشئی کے کام کرتا ہوں جو وہ خود اپنے لیے کر سکتا ہے تو میں بیماری کے کوہان کو بھی اندر آنے کی اجازت دے دیتا ہوں۔

آج کی سوچ:

اب مجھے معلوم ہے کہ اگر میں نے سختی سے اپنی حدود نہ مقرر کیں اور اپنی بیماری کو سختی سے اپنے بحالی کے خیمے سے باہر نہ رکھا، تو میں دوبارہ اس بیماری میں مبتلا ہو جاؤں گا۔

’’اچھی باڑ سے اچھے ہمسائے بنتے ہیں۔‘‘ ~ رابرٹ فراسٹ 

اتوار، 20 ستمبر، 2015

اپنے لئے اور اپنی بحالی کیلئے وقت نکالنا

اپنے چھوٹے سے قصبے میں نوعمری کے زمانے میں مجھے لگتا تھا کہ یہ جگہ میرے لیے موزوں نہیں۔ موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں کے دوران میں بہتر محسوس کرتی تھی۔ اس تجربے کا میری اپنی ذات کے بارے میں سوچ میں بہت بڑا حصہ ہے کہ میں کون ہوں۔

جب تک مجھے نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام کا علم ہوا میں خود کو کھو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون تھی اور میرے لئے کیا اہم چیز ہے۔ حتیٰ کہ مجھ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ میں کونسی فلم دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی توانائیوں کو اپنے عزیز کے لیے وقف کر دیا تھا۔ میں وہی چاہتی تھی جو وہ چاہتا تھا، وہی کرتی تھی جو وہ کرتا، میں اپنی تمام تر توانائیاں اس کے مسائل حل کرنے، اس کے مزاج کو سنبھالنے اور اُسے خوش رکھنے کی کوشش میں لگا دیتی۔

نارانون کی ہفتہ وار میٹنگ نے مجھے اپنی ذات پر توجہ دینے میں مدد دی۔ ایک عرصہ تک میٹنگز میں شامل ہونے کے بعد ایک علاقائی ورکشاپ میں شرکت کیلئے میں نے اپنی مصروفیات میں سے پورے ایک دن کا وقت اپنی ذات کیلئے نکالا۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہی ہوں۔ میرا شوہر سمجھا کہ مجھے کوئی کام ہے اور میں نے اسے ایسا سمجھنے دیا، کیونکہ ابھی بھی میں اپنے حق کیلئے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ اُس دن میں نے بہت زیادہ اُمید اور طاقت پائی اور اسکے بعد میں نے مقامی اور علاقائی خدمت، مثلاً نشی لوگوں کو جیل میں ملنا یا میٹنگز کے انعقاد میں مدد کا کام شروع کر دیا۔

جب مجھے اپنی ہفتہ وار میٹنگز میں زیادہ طاقت اور زیادہ اطمینان ملا تو مجھے یہ اور زیادہ پانے کی خواہش ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں کیسے موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں نے میری مدد کی تھی۔ میں نے اسے دوبارہ آزمایا۔ میں نے خواتین کے ’بارہ اقدام‘ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جو ہر تین ماہ بعد کہیں دور اکٹھے وقت گزارتی تھیں۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام پر کام کرنے میں مدد کی اور ہفتے کے آخر میں کچھ وقت گھر سے دور گزارنے سے مجھے نیا نقطہ نظر ملا۔ میں نے خود سے سوچنا سیکھا۔

اپنے نوجوان بیٹے کے نشے کے استعمال کے برسوں کے دوران میں بہت خوفزدہ تھی کہ وہ مر جائے گا یا کئی سال جیل میں گزارے گا۔ اُسے جانے دینا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دینا بہت مشکل تھا۔ جب میں اس کی مدد نہیں کر سکتی تھی تو میں بطور گروپ سپانسردوسرے نوعمر افراد کی مدد کرتی۔ میں نشے سے بحالی کے ایک مرکز میں خدمت کا کام دیتی اور وہیں میری ملاقات ایک ایسی سپانسر سے ہوئی جس کے بچے نشے کی وجہ سے جیل میں تھے۔

آج کی سوچ:

خدمت کا کام میری بحالی میں صراحت، مضبوطی، اور گہرائی لاتا ہے۔ خدمت کے دوران میں نے اپنی بحالی اور اپنے لئے وقت نکالنے کی اہمیت کے بارے میں سیکھا۔

’’خدمت ایک ایسا طریقہ ہے جس سے پیغام دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔‘‘ ~ نارانون کا بارہ اقدام کا پروگرام

جمعرات، 3 ستمبر، 2015

بحالی

گذشتہ شام میں نے ایک رسالہ پڑھا جو نارانون نے شائع کیا تھا۔ اس میں ایک مضمون میں کچھ طریقوں کی فہرست تھی جن کے ذریعے آپ نارانون سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک چیز جس نے فوراً میری توجہ حاصل کی وہ یہ تھی کہ مجھے اپنے خیالات اور تحفظات کے بارے میں باقاعدگی سے ڈائری لکھنا چاہئیے۔ یہ میرے جذبات اور احساسات کو باہر نکالنے میں میری مدد کرے گا تاکہ میں زندگی میں آگے بڑھ سکوں۔

جب میں نے اپنی زندگی کے ان حالات و واقعات کے بارے میں لکھنے کا آغاز کیا جو سال بھر سے جاری تھے تو میں شروع میں نشئی کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کی تفصیل لکھتی رہی۔ جیسے جیسے میں پروگرام میں ترقی کر رہی تھی، ڈائری کی تحریروں میں نشئی کے مسائل کی بجائے نارانون پروگرام کے بارے میں میری سوچوں عکس نظر آنا شروع ہوگیا۔ میں اب میری تحریریں اس بارے میں ہوتی ہیں کہ نشئی کے ساتھ میرا رویہ کیسا ہے ناکہ اس بارے میں کہ نشئی کیا کر رہا ہے۔

اس سے پہلے زندگی میں آنے والی مشکلات کے بارے میں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ کئی سال تک جاری رہیں گی۔ نارانون کی بدولت مجھے اب احساس ہوا ہے کہ نشے کی بیماری میری زندگی میں ہمیشہ موجود رہے گی، چاہے نشئی بحالی کے دور میں ہو یا نشہ استعمال کر رہا ہو۔

مجھے وہ لوگ یاد آتے ہیں جو باقاعدگی سے میٹنگ میں نہیں جاتے لیکن اس وقت جاتے ہیں جب چیزیں بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔ نارانون تحریریں مجھے بتاتی ہیں کہ اگر میں یہ سیکھنا چاہتی ہوں کہ منشیات کی لت سے کیسے نمٹنا ہے تو مجھے شئیر کرنے کے لئے لازمی میٹنگز میں شرکت کرنا ہوگی، اور دوسروں کی مدد کرنا ہوگی، اور دوسروں کو سُننا ہوگا۔ شاید ان میں سے کچھ باتیں میری زندگی میں تبدیلی کا باعث بنیں۔

میں میٹنگز میں خودغرضی سے اپنی ذات کے لئے جاتی ہوں۔ مجھے راحت چاہئیے۔ مجھے صحتیابی چاہئیے۔ میں زندگی میں آگے بڑھتے رہنا چاہتی ہوں۔ اس لئے یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے ہونا چاہئیے۔

آج کی سوچ:

پروگرام کے تجربے، مستقل مزاجی اور اُمید کے بغیر میں باآسانی حقیقت سے انکار کا شکار ہو سکتی تھی۔ میں یہ یقین کرنا چاہتی ہوں کہ مسئلہ خودبخود حل ہو گیا ہے اگرچہ مجھے اندر سے پتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

’’صرف آج کے شکوک و شبہات کل کے خواب کو پورا کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مستقل مزاجی اور کامل یقین کیساتھ آگے بڑھو۔‘‘ ~ فرینکلن روزویلٹ