ایک دن میں اور میرے شوہر پہاڑوں میں واقع اپنے
گھر گئے ۔ ہم نے اشد ضروری ایک ہفتے کی
چھٹی شروع کی۔ میں دوسری ریاست میں رہنے والے اپنے نشئی بیٹے کی وجہ سے تھکاوٹ
محسوس کر رہی تھی۔ یہ
نہ جاننا کہ وہ کیسا
ہے اور کیا کر رہا ہے کبھی کبھی میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
ہمارے گھر کے باہر ایک جھونپڑی ہے جس پر میں نے ایک تختی لگا رکھی
ہے جس پر لکھا ہے ’’پُرسکون جگہ‘‘۔ میں اپنے ساتھ بارہ اقدام کے پروگرام کا لٹریچر
لے گئی اور دروازہ بند کر لیا۔ میں نے چرچ کی موسیقی کی آوازیں سُنیں جو کچھ میلوں
کے فاصلے پر پہاڑی کی اُترائی پر لگے چرچ کیمپ سے آ رہی تھیں۔ تب میں ہلکی سی ٹپ
ٹِپ آواز
سنی جس نے میرے تجسس کو اُبھارا۔ میں نے دیکھنے کیلئے دروازہ کھولا کہ یہ کیا ہے۔
میں نے غور کیا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
جب میں بارش کے قطروں کو پتوں
کو بھگوتے ہوئے دیکھ رہی تھی تو میں نے کچھ فاصلے پر خشک ٹہنیوں اور پتوں
کی چڑچڑاہٹ کو سُنا۔ ایک ہرن ماں چل کر میرے سامنے آ گئی۔ ایک منٹ کے لئے ہم ساکت
ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔
وہ آگے بڑھی اور میرے قریب
سے اپنے ننھے بچے کے ساتھ جو اس کے پیچھے تھا گزر گئی۔ جب وہ آہستہ آہستہ ٹہلتے
ہوئے میری نظروں کے سامنے سے ہٹے تو مجھے لگا میری بالاتر طاقت مجھے بتا رہی ہے کہ
ہماری نگرانی کی جا رہی ہے اور میں چھوڑ سکتی ہوں، خدا کو کرنے دے سکتی ہوں اور
اپنی چھٹیوں سے لُطف اندوز ہو سکتی ہوں۔
آج کی سوچ:
میں یاد رکھوں گی کہ یہ طاقت، جو مجھ سے زیادہ
طاقتور ہے مجھ تک پہنچنے کے کئی راستے جانتی ہے۔ میں اکثر ہی روزمرہ کے واقعات میں
شعوری تعلق کو پاتی ہوں۔ میں اپنا ذہن کھُلا رکھوں گی اور اپنے راستے میں آنے والے
پیغامات کو وصول کرنے کیلئے رضامند رہوں گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں