‏جنون لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏جنون لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

انتخاب کرنا

میرے بٹوے میں کانوں کی سنہری بالیوں کا ایک جوڑا ہے۔ وہ بہت چھوٹی ہیں اور زیادہ بیش قیمت نہیں۔ میں انہیں اس اُمید پر اپنے بٹوے میں رکھتا ہوں کہ ایک دن میں انہیں ان کی مالک اپنی بیٹی، کو واپس کر سکوں گا، جب وہ نشے سے پاک اور صحیح راستے پر ہوگی۔

ان کانوں کی بالیوں کو میرے بٹوے میں پڑے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا میں کسی دن انہیں اپنے بٹوے سے باہر بھی نکالوں گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا ہو گا۔

جب سے میں نارانون آ رہا ہوں، میں اپنی بیٹی کی نشے کی عادت کے بارے جنونی انداز میں نہیں سوچتا جیسا میں ایک برس پہلے سوچتا تھا لیکن میں ابھی بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اپنی جس بیٹی کو میں جانتا تھا اسے واپس اپنی زندگی میں پانا چاہتا ہوں۔

ایک دن میری بیٹی نے مجھے ٹیلی فون کیا اور مجھ سے کمبل مانگا۔ میں نے سوچا ’’کیوں نہیں؟‘‘ اگر میری بیٹی اس کمبل کو ایک یا دو راتوں کیلئے ہی استعمال کرے اور بعد میں کوئی دوسرا نشئی اسے چُرا لے تو بھی یہ ٹھیک ہے۔

کمبل خریدنے کے دوران میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نشے سے بحالی کے لیے مدد حاصل کرے۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں نے کافی عرصے سے یہ سمجھنے کی کوشش بند کردی ہے کہ وہ منشیات کیوں استعمال کرتی ہے اور مجھے یقین نہیں آرہا کہ اسے سڑکوں پر رہتے ہوئے سال بھر سے زیادہ عرصہ گزر بھی گیا۔

اُس نے جواب دیا کہ اُسے کسی مدد کی ضرورت نہیں مگر وہ گھر واپس آنا چاہتی ہے۔ اگرچہ اِس بات نے میرا دل توڑ دیا مگر میں نے اُسے بتایا کہ میں اُسے اس وقت تک گھر آنے کی اجازت نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ نشے سے بحالی کے لیے مدد نہیں لیتی۔

جو کچھ میں نے نارانون میں سیکھا اسی کی وجہ سے میں اس قابل ہوا کہ میں یہ حد لاگو کر سکوں۔ گاڑی سے اُترنے سے پہلے اس نے پوچھا کہ کیا کانوں کی بالیاں ابھی بھی میرے پاس موجود ہیں۔ جب میں اسے چھوڑ کر جا رہا تھا تو مجھے یقین تھا کہ میں نے صحیح فیصلہ کیا۔ اگرچہ میں اپنی بیٹی کی کمی بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں مگر میں ٹھیک ہوں ۔

آج کی سوچ:

میں نارانون کا پیغام سیکھ رہا ہوں کہ مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھتے رہنا چاہیئے۔ نارانون مجھے سکھاتی ہے کہ مجھے خود اپنے فیصلے کرنے ہیں۔ میں خود اپنے کاموں کے نتائج کا ذمہ دار ہوں۔


’’تمہیں لازمی وہ کام کرنے چاہئیں جو تم سوچتے ہو کہ تم نہیں کر سکتے۔‘‘ ~ ایلینور روزویلٹ 

جمعہ، 28 اگست، 2015

محبت یا جنون

نارانون میٹنگ کا آغاز نارانون لٹریچر کے صفحات پڑھنے سے ہوتا ہے۔ ایک شام ایک نووارد نے پوچھا ’’ ’ںظر رکھنا پیار نہیں‘ کا کیا مطلب ہے‘‘؟ میں اُسے کوئی واضح جواب نہیں دی سکی۔ مجھے معلوم تھا کہ  میں نے اپنی زندگی میں مسلسل ایک نشئی پر نظر رکھتی تھی۔ اسی لئے اگر ’ںظر رکھنا محبت نہیں‘ تو پھر نشئی کے لئے میرے کیا جذبات تھے؟

منطقی انسان ہونے کے باعث میں نے محبت کی تعریف تلاش کی: ’’محبت ایک گہرا، لطیف شفقت اور ہمدردی والا جذبہ ہے۔‘‘ میں نے نشئی کے لئے اپنے جذبات کا بغور جائزہ لیا۔ مجھے یہ بات ماننی پڑی کہ میرے جذبات شدید ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے نہ ہمدردی والے ہیں نہ شفقت والے۔

مجھے اس سے محبت ہی ہوگی؛ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ میں نے اس سے پہلے بھی سُنا تھا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے مریض کے بارے میں جنونی ہوتے ہیں، اس لئے میں نے ’جنون‘ کی تعریف دیکھنے کے لئے دوبارہ لغت اُٹھائی۔ ’’جنون ایک ایسا خیال یا جذبہ ہے جو دماغ پر مکمل قابض ہو۔‘‘ یہ یقیناً انہی جذبات کی تعریف تھی جو نشئی کے ساتھ میرے رویے میں نمایاں تھے۔

مجھے ایک اور مطالعہ یاد آیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے سیکھا ہے کہ نشہ ایک بیماری ہے۔۔۔ یہ دوہری بیماری ہے: ایک جسمانی الرجی کے ساتھ دماغی جنون۔‘‘ پھر میں نے پھر ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ کی وضاحت کو دیکھا۔ وہاں دو وضاحتیں دی گئیں تھیں؛ ایک میں منشیات پر جسمانی انحصار کی تشریح تھی اور دوسری عمومی تھی،’’کسی چیز میں گہری دلچسپی جس پر بہت زیادہ وقت صرف کیا جائے۔‘‘

آج کی سوچ:

جب میں اپنے نشے کے مریض کے علاوہ کچھ نہیں سوچ سکتی تو میں خود کو یاد کرواتی ہوں کہ جنون کا مطلب محبت کی بجائے ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ سے زیادہ قریب تر ہے۔ آج میں محبت کا انتخاب کرو گی۔ 
’’کسی پر ںظر رکھنا محبت نہیں۔‘‘~ کارل جی۔ جنگ