جمعرات، 6 اگست، 2015

مایوسی

مجھے یاد ہے جب میں پاگلوں کی طرح اپنے زندگی میں نشے کے مریضوں تبدیل کرنے کے لئے بیکار اور مایوس کن کوششیں کیا کرتا تھا اور اُمید رکھتا کہ میں انہیں نشے جیسی عادت سے نجات دلا دوں گا۔

میں اسے فکر کہتا؛ میں اسے مددگار سمجھتا؛ اسے ضروری بھی سمجھتا اور میں یہ سب صاف نیت اور خلوصِ دل سے محبت کے نام پر کرتا۔ لیکن نشے کی بیماری کے مطابق یہ معاونت تھی اور وہ پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھی۔ میں اب پیچھے مُڑ کے دیکھتا ہوں تو اپنی غلطیوں کو بھی دیکھ سکتا ہوں اور میں شکر گزار ہوں کہ میں اپنی ترقی بھی دیکھ سکتا ہوں۔

جب میں  نارانون کی میٹنگ میں جاتا ہوں، تو میں سنتا ہوں، میں اپنا دماغ اور بالآخر دل کھول دیتا ہوں۔ اس پروگرام نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنے لئے بہترین فیصلے کر سکوں۔ میں سُنتا ہوں، اپنی بات کہتا ہوں، سیکھتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ بالآخر میں ہتھیار ڈال دیتا ہوں۔

میں نارانون کے اقوال، لٹریچر اور دوسرے ممبران کی شیئرنگ کو دل سے لگا کر رکھتا ہوں۔ میں نے نارانون خاندان کے ساتھ ایک تعلق بنا لیا، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں میں ملتا ہوں اور جن سے میں انس رکھتا ہوں۔

آہستہ آہستہ میں مضبوط ہوگیا، میں نے بدلنا اور آگے بڑھنا شروع کردیا۔ نشے کے عادی لوگوں کی طرح ، وقت آنے پر اب میں بھی آگے بڑھنے کے لئے تیار اور رضا مند ہوں۔

آج کی سوچ:
 زندگی بہت قیمتی ہے۔ میں اپنی زندگی کا ہر دن بہترین بنانا چاہتا ہوں اور میں اپنی غلطیوں کو بہانہ نہیں بنانا چاہتا۔ میں اب اپنی بات بیان کر سکتا ہوں کیونکہ میں بھی ان سب باتوں سے گزر چکا ہوں۔ میں درد کے احساس بارے جانتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ ٹوٹے دل کا احساس کیسا ہوتا ہے۔ میں جب پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں تو درد کا احساس انتا زیادہ نہیں ہے۔ میں اچھے وقت کو یاد رکھتا ہوں۔ درد میرے حافظے میں تو ہے، مگر میں درد میں نہیں ہوں۔

’’میری نصیحت ہے کہ  باہر جاؤ۔۔۔ قدرتی نظاروں اور دھوپ سے لُطف اندوز ہو اور اپنے اندر اور خدا سے خوشی کو دوبارہ پانے کی کوشش کرو۔ اس تمام خوبصورتی بارے سوچو جو تمہارے اندر، اردگرد ابھی بھی باقی ہے اور اس سے لُطف اندوز ہو کر خوش رہو‘‘ ~ این فرینک

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں