پیر، 10 اگست، 2015

قابو پانا


میں اکثر سوچتی تھی کہ کیا میری باقی زندگی اسی طرح گزرے گی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ میں اپنی زندگی میں نشہ کی مریضہ کی وجہ سے چھائے اندھیروں پر قابو پانے کے لئے نارانون کی میٹنگز میں شرکت کروں گی، اور ہفتہ بہ ہفتہ، ماہ بہ ماہ اور  سالہا سال نارانون کی میٹنگز میں شرکت کرتے رہنے کی ہمت اور عزم رکھوں گی۔   

کچھ دن پہلے ہمارے گھر میں نشے کی مریضہ مایوسی کی حالت میں داخل ہوئی؛ وہ بہت بری حالت میں نظر آ رہی تھی۔ میں اپنی منشیات کی عادی بیٹی کے سامنے کھڑی تھی جو نشے کی عادت سے چھٹکارہ پانے کے لیے مدد مانگنے پر خود کو آمادہ نہیں کر پا رہی تھی، حالانکہ میں جانتی ہوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ نشے کی لت اس کی زندگی کنٹرول کرے۔

اس مرتبہ مایوسی اور اندھیرے کے احساس نے میری روح اور میری ذات کو نہیں گھیرا۔ نارانون جانے سے پہلے میں کبھی یقین نہ کرتی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ نارانون پروگرام میں شمولیت سے پہلے میں پریشان، ناراض، کاپنتی، جسمانی طور پر بیمار اور مزید بہت کچھ محسوس کرتی۔

میں ماضی کے بارے میں سوچتی ہوں اور اپنی بالاتر قوت کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے نارانون کا راستہ دکھایا۔ اب میں نارانون میٹنگ میں جاتے وقت ایسا نہیں سوچتی کہ ’’اب میں ساری زندگی ایسے ہی رہوں گی۔‘‘

اگر میں یہ کہو کہ میں اس کے علاوہ کچھ اور کرنا چاہوں گی جیسا کہ  سارے دن کے کام کے بعد آرام کرنا یا اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر لُطف اندوز ہونا تو یہ سچ نہیں ہو گا۔ مجھے احساس ہوا ہے کہ میری زندگی نارانون میٹنگ میں جاتے رہنے سے کہیں زیادہ بد تر ہو سکتی ہے۔

آج کی سوچ:

میں اب ان لوگوں کی صحبت سے لُطف اندوز ہوتی ہوں جنہیں میرے جیسے حالات کا سامنا ہے۔ میں اس احساس سے بھی لُطف اندوز ہوتی ہوں کہ میری کہی ہوئی کوئی بات مایوسیوں اور تاریکیوں کے سفر میں کسی دوسرے کی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

’’خوشبو ہمیشہ اس ہاتھ میں رچی رہتی ہے جو گلاب دیتا ہے۔‘‘ ~ ہاڈا بیجر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں