میری بالاتر طاقت نے صبر کے لئے مانگی ہوئی میری
دعاؤں کا بجلی کی کڑک کی طرح فوراً جواب نہیں دیا۔ مگر میری بالاتر طاقت نے مجھے
سیکھنے کے متعدد مواقع فراہم کیے اور ایسے حالات بھی پیدا کیے جہاں نشے کے عادی پیاروں
نے مجھے صبر کرنا سیکھایا۔
نشے کے عادی لوگوں کے ساتھ زندگی میں مجھے کئی بار ایسے
حالات کا سامنا کرنا پڑا جہاں مجھے اپنے اندر گہرائی میں جا کر صبر تلاش کرنے اور اپنے
موجودہ بحران اور روزمرہ کی زندگی میں اسے استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔
میں شکر گزار ہوں کہ مجھے نارانون پروگرام ملا۔ اس پروگرام
کی وجہ سے مجھے اپنی مشکلات کو جانچنے اور ان پر مختلف انداز سے ردعمل کرنے کا
موقع ملا۔ میں نے جانا کہ اکثر لوگوں کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں۔ میں نے یہ بھی
سیکھا کہ میں تلخ الفاط کے ساتھ خود کو تکلیف دئیے بغیر کسی دوسرے کو تکلیف نہیں
پہنچا سکتی۔
نارانون میٹنگ میں میں نے ساتھیوں کو یہ کہتے سُنا کہ ان کی
بالاتر طاقت کی حسِ مزاح بہت شریر ہے اور ’’دھیان رکھو کہ تم کیا مانگ رہے ہو،
کیونکہ وہی تمہیں مل بھی سکتا ہے۔‘‘
نارانون پروگرام میں آنے سے پہلے مجھ میں ضبطِ نفس (خود پر
قابو) نہیں تھا اور نہ ہی مجھ میں اپنی زندگی میں آنے والے لوگوں یا حالات کا لحاظ
تھا۔ اس پروگرام نے مجھے اپنے اردگرد والوں کے لئے مہربان اور شفیق بننا سیکھایا۔
میں نے اپنے احساسات غالب آنے سے پہلے ٹھہرنا اور سوچنا سیکھا ہے اور اب میں کچھ بھی
بولنے سے پہلے دس تک گنتی کرتی ہوں پھر بولتی ہوں۔
اب میرا لوگوں سے ملنے کا انداز نیا اور مختلف ہوگیا ہے اور میں لوگوں کے بارے میں پہلے سے
رائے قائم کیے بغیر ان کو اپنی بات کہنے کا موقع دیتی ہوں۔
میں دوسروں کی بات
سننے کا فن سیکھ رہی ہوں اور لوگوں اور ان کے فیصلوں کو کھلے ذہن اور صبر سے قبول
کرنا سیکھ رہی ہوں۔ میں یہ جانتی ہوں کہ یہ میرے نہیں بلکہ دوسروں کے فیصلے ہیں۔
اس سے مجھے موقعہ ملا ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھوں
اور اپنیروحانی ترقی سے لُطف اندوز ہوں۔ میری ترقی کا عمل جاری ہے!
آج کی سوچ:
میں اپنی تنگ نظر اور خود پسند سوچ سے خود کوآزاد محسوس کرتی
ہوں ۔ میں بولنے یا عمل کرنے سے پہلے سوچتی ہوں۔ میرا ریموٹ کنٹرول کسی دوسرے کے
ہاتھ میں نہیں۔ میں صبر کی اہمیت سیکھ رہی ہوں۔
’’ہر چیز کا مقابلہ صبر کے ساتھ کرو، مگر سب سے پہلے خود اپنے
ساتھ صبر کا مظاہرہ کرو۔‘‘ ~
سینٹ فرانسس ڈی سیلز
کسی بھی معاملے میں صبر کے ساتھ پیش آنا یا اسکی تکمیل تک برداشت رکھنا ، اتنا آسان کام نہیں جتنا بولنا آسان لگتا ہے ، مگر مجھے ایسے لمحوں میں بی۔اے میں پڑھی ہوئی شارٹ سٹوری ..His first flight۔۔۔یاد آتی ہے، اور حقیقتاً جب میں اپنی زنگی کی بہت سی نعمتوں اور کامیابیوں کو دیکھتی ہوں تو یاد آتا ہے کہ اس پرندے کی مانند ہرtask پر میرا حال مختلف نہ ہوتا تھا، مگر جن کاموں میں supreme power کی رضامندی ہوتی تو وہ اس پرندے کی ماں کی طرح مجھے کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دیتی اور پھر ایک ایسا لمحہ دیتی جس میں اپنا پہلا قدم بے خوف رکھ دیتی اور اپنی first flight starکر دیتی۔۔۔۔مجھے آج یہ احساس ہوا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی بے معانی نہیں ہوتا، ہمارا رُکنا ، سستانا، چاہت رکھنا مگر کھو دینا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں