اتوار، 23 اگست، 2015

آٹھواں قدم

آٹھواں قدم یہ نہیں کہتا کہ میں ان نقصانات کی فہرست بناؤں جو لوگوں نے مجھے پہنچائے۔ آٹھواں قدم مجھ سے کہتا ہے کہ میں ان نقصانات کی فہرست بناؤں جو میں نے لوگوں کو پہنچائے، انہیں تسلیم کروں اور ماضی کی غلطیوں کو درست  کروں۔

پہلی بار آٹھواں قدم پڑھنے کے بعد میرا ردعمل تھا کہ میں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جن سے مجھے تلافی کرنی ہے؟

میں نارانون میٹنگ میں پہلی بار آئی تو میں خود کو مظلوم سجمھتی تھی۔ میری زندگی میں نشے کا مریض ظالم ، بے حس، اور خود غرض انسان تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ مجھے اپنی غلطیوں کی تلافی کی ضرورت نہیں تھی تھی بلکہ اس بات کی ضرورت تھی کہ مجھ سے تلافی کی جائے۔

یہ ایک سست رفتارعمل ہے لیکن میں سیکھ رہی ہوں کہ اس تعلق میں میں نے خود اپنا کردار چنا تھا۔ میں خود اپنے مظلوم ہونے کی ذمہ دار تھی۔ میں اپنی مرضی سے ایسی صورتحال میں ٹھہری رہی جو میرے لئے نا قابلِ قبول تھی، اُس شخص کیساتھ جس سے میں محبت تو کرتی تھی لیکن جس میں کئی کمیاں تھیں۔ اس لئے مجھے اپنے آپ کو سر فہرست رکھنے کی ضرورت تھی۔

نشے کے مریض کی جانب اپنے منفی رویے کی وجہ سے میں سمجھتی تھی کہ ہر چیز کا خیال رکھنا میرے لیے ضروری ہے۔ میرے ذہن میں تھا کہ نشئی اس قابل نہیں؛ وہ زندگی اور اسکی مشکلات کے ساتھ نمٹ نہیں سکتا۔

جیسے جیسے میں نارانون پروگرام میں آگے بڑھتی گئی، میں نے محسوس کیا کہ میرے پیارے مریض کے ساتھ میرا رویہ بدتمیزی کے علاوہ ایسا تھا جیسے میں اس پر احسان کر رہی ہوں۔ مریض کو کنٹرول کرنے کا میرا رویہ اس پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ میں خود کو سماجی اور ذہنی طور پر اس سے برتر سمجھتی ہوں۔ میں اس پر تنقیدی فقرے کستی اور اس کو کمتر سمجھتی۔ میں اس کی بحالی کی راہ میں بھی کھڑی تھی۔ میری فہرست میں دوسرا شخص نشے کا مریض تھا۔

آج کی سوچ:

آٹھواں قدم مجھے اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ اپنے رویے کا جائزہ لینے کا موقع دیتا ہے۔ آٹھواں قدم شفایابی اور زخم بھرنے کا قدم ہے۔ یہ میری مدد کرتا ہے کہ میں حقیقت کی مسخ شدہ تصویر اور ماضی کے رویوں کے احساسِ جرم  کا بوجھ اپنے اوپر سے اتار دوں۔ آٹھویں قدم پر عمل کر کے سے میں نے زندگی جینے کا بہتر طریقہ سیکھا۔


’’اپنی ایک خامی سے آگاہ ہونا کسی دوسرے کی ہزار خامیوں سے آگاہ ہونے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔‘‘ ~ دلائی لامہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں