میں نے شادی کے آٹھ سال بعد اپنے خاوند کو اس
وقت چھوڑ دیا جب اس نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر غصے میں میری بازو توڑ ڈالی۔
اُسے گھریلو تشدد کی سزا میں قید ہوئی اور مجھے بارہ اقدام کے پروگرام پر عمل کرنے
کا حکم ملا۔
میں اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ
میٹنگز میں ہر کوئی عقل سے پیدل ہے۔ میں کسی کے نشے کے استعمال کو کس طرح نظر
انداز کر سکتی ہوں؟ یہ لوگ پاگل ہیں یا کیا ہیں؟
پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہوئے میں یہ لازمی کہوں گی کہ
میں صرف اپنی پسند کی چیزوں کو سنتی تھی اور باقی کو نظرانداز کر دیتی تھی۔ میں
انکارکی حالت میں تھی اور اس لئے میں اپنا ایمانداری سے جائزہ لینے کے قابل نہیں
تھی۔
کچھ عرصہ بعد میری نوجوان بیٹی کے مسائل شروع ہو
گئے۔ اُس نے میری گاڑی تباہ کردی، دو مرتبہ میرا بینک اکاؤنٹ خالی کر دیا اور گھر
کی بہت سے چیزوں کو بیچ دیا۔ میں نے اُسے
گھر سے باہر نکال دیا۔
اُس وقت اس نے رونا شروع کر دیا اور اعتراف کیا
کہ وہ نشہ استعمال کرتی تھی۔ میں جلد ہی حرکت میں آ گئی۔ میں اپنی بچی کو ٹھیک
کرنا چاہتی تھی، اس لئے خود کو بہترین ماں سمجھتے ہوئے میں نے بحالی کا ایک مرکز تلاش
کر لیا۔ اس مقصد کے لیے درکار رقم حاصل کرنے کے لیے میں نے پہاڑوں کو ہلانے جیسے
کام شروع کر دیے۔
میں نے اپنے بینک سے استدعا کی کہ وہ میری گروی
رکھی ہوئی چیزوں کا رہن بڑھا دے۔ مجھے پرواہ نہیں کہ میں یہ بوجھ اٹھا بھی سکتی
ہوں یا نہیں اور مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ میں یہ رقم کیسے ادا کروں گی۔ یہ میرا
فرض تھا کہ میں اپنی بچی کی مشکلات کو حل کروں۔
میری بیٹی اپنا علاج مکمل کروا کے باہر آ گئی
اور اب ٹھیک چل رہی تھی۔ بحالی کے مرکز نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں نارانون کی
میٹنگز میں جاؤں۔ میں نے اس نصیحت کو نظر انداز کردیا۔ میرے خیال میں میرے اندر
کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ آخر میں ایک محبت کرنے والی وفادار ماں تھی۔
چھ ماہ بعد میں تب منہ کے بل گری جب میری بیٹی
نے دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیا۔ میری دنیا تلپٹ ہو گئی۔ مایوسی میں آخرکار میں نے نارانون سے مدد مانگی۔ میں
اس سے زیادہ پرزور انداز میں یہ بات نہیں کہہ سکتی کہ نارانون ہی میری نجات تھی!
مجھے میٹنگز میں جاتے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری
تھی کہ مجھے پتا چلا کہ میری سب سے چھوٹی بیٹی بھی نشہ استعمال کرتی ہے۔ جو کچھ
میں نے سیکھا تھا اور پروگرام کی مدد سے میں نے حالات کو بہت مثبت انداز میں
سنبھالا۔
آج کی سوچ:
اب میرا نقطۂ نظر پہلے سے بہتر ہے اس لیے میں لاتعلقی
اختیار کر سکتی ہوں، جانے دے سکتی ہوں اور یہ قبول کر سکتی ہوں کہ میری کوئی کوشش نشے
مریض کے فیصلوں میں تبدیلی نہیں لا سکتی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں