خدمت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خدمت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

صرف آج کا دن

میں یہاں نارانون میٹنگ میں اکیلی بیٹھی ہوں اور تنہائی محسوس نہیں کررہی ہوں۔ میں نے چیک کیا کہ لٹریچر پورا ہے، مقامی اخبار کے لئے ایک اطلاع لکھی، ’آج کی سوچ‘ پڑھی اور نشئی اور اسکے خاندان کیلئے رہنمائی کی کتاب کا ایک حصہ پڑھا۔

میں ان لوگوں کی بہت شکر گزار ہوں جو میری ضرورت کے وقت یہاں موجود ہوتے ہیں؛ اس لئے گروپ شروع کرنا بھی ایک طریقہ ہے جس سے جو میں نے یہاں سےحاصل کیا اسے واپس کر سکتی ہوں۔

مجھے اپنی پرانی عادتیں اور رویہ یاد ہیں۔ میرا مصروف دماغ ہمیشہ ایک وقت میں کئی چیزوں پر بہت کچھ سوچتا تھا۔

میں سوچتی تھی کہ بچے کہاں ہیں، کیا وہ سکول گئے تھے یا نہیں؟ کیا وہ وہاں لڑائی کر رہے تھے؟ کیا میرا شوہر منشیات استعمال کر رہا تھا؟ کیا وہ چوری چھُپے گھر میں داخل ہوا؟ کیا میرے بچے نشے میں تھے؟ کیا ان کا باپ انہیں منشیات استعمال کرتا ہوا پکڑ لے گا؟ پھر وہ کیا کریں گے یا کیا کہیں گے اور کل کیا ہوگا؟

آج نارانون میں میرا دماغ ایک ہی سمت میں آرام دہ حالت میں کام کر رہا ہے، بس آج کے دن کے لیے۔

یہ جان کر بہت اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ مجھے دوسروں کیلئے فیصلے نہیں کرنے۔ میں دوسروں کے اعمال یا اس بات کی ذمہ دار نہیں ہوں کہ وہ نشہ استعمال کرنا چاہتے ہیں یا اس سے پاک رہنا۔

بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ میرے لئے یہ کہنا آسان ہے کیوں میرے خاندان کے تمام افراد نشے سے پاک ہیں۔ پھر میں یہ سوچنا شروع کر دیتی ہوں کہ اگرایسا نہ ہو تو پھر میں حالات سے کیسے نمٹوں گی۔ ایک اچھے دوست نے مجھے یاد دلایا کہ ’’بس آج کا دن ۔۔۔۔ اس لئے پریشان نہ ہو کہ کل کیا ہو گا، کیونکہ وہ پریشانیاں شاید کبھی نہ آئیں جنہیں تم آج سوچتے ہو۔‘‘

آج کی سوچ:

میں خود کو پسند کرتی ہوں۔ آج میں نارانون میں خدمت کا کام سرانجام دے سکتی ہوں اور کنٹرول نہیں سنبھالتی۔ آج میں زندگی میں کچھ ایسا تلاش کرسکتی ہوں جس کے لئے میں شکرگزار ہوں۔ آج میں اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرتی ہوں۔ آج میں اپنے سے زیادہ طاقتور قوت پر یقین رکھتی ہوں اور اس پروگرام کے بغیرمیں اس مقام پر نہ ہوتی جہاں میں آج ہوں۔ کامل ایمان کے ذریعے میں اس قابل ہوئی کہ میں اپنے اندر ان تبدیلیوں کو ہونے دوں۔

’’ہمیشہ خوشگوار زندگی گزارنا صرف تبھی ممکن ہے جب تم اسے دن بہ دن کی بنیاد پر گزارو۔‘‘ ~ مارگریٹ بونانو

اتوار، 20 ستمبر، 2015

اپنے لئے اور اپنی بحالی کیلئے وقت نکالنا

اپنے چھوٹے سے قصبے میں نوعمری کے زمانے میں مجھے لگتا تھا کہ یہ جگہ میرے لیے موزوں نہیں۔ موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں کے دوران میں بہتر محسوس کرتی تھی۔ اس تجربے کا میری اپنی ذات کے بارے میں سوچ میں بہت بڑا حصہ ہے کہ میں کون ہوں۔

جب تک مجھے نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام کا علم ہوا میں خود کو کھو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون تھی اور میرے لئے کیا اہم چیز ہے۔ حتیٰ کہ مجھ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ میں کونسی فلم دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی توانائیوں کو اپنے عزیز کے لیے وقف کر دیا تھا۔ میں وہی چاہتی تھی جو وہ چاہتا تھا، وہی کرتی تھی جو وہ کرتا، میں اپنی تمام تر توانائیاں اس کے مسائل حل کرنے، اس کے مزاج کو سنبھالنے اور اُسے خوش رکھنے کی کوشش میں لگا دیتی۔

نارانون کی ہفتہ وار میٹنگ نے مجھے اپنی ذات پر توجہ دینے میں مدد دی۔ ایک عرصہ تک میٹنگز میں شامل ہونے کے بعد ایک علاقائی ورکشاپ میں شرکت کیلئے میں نے اپنی مصروفیات میں سے پورے ایک دن کا وقت اپنی ذات کیلئے نکالا۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہی ہوں۔ میرا شوہر سمجھا کہ مجھے کوئی کام ہے اور میں نے اسے ایسا سمجھنے دیا، کیونکہ ابھی بھی میں اپنے حق کیلئے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ اُس دن میں نے بہت زیادہ اُمید اور طاقت پائی اور اسکے بعد میں نے مقامی اور علاقائی خدمت، مثلاً نشی لوگوں کو جیل میں ملنا یا میٹنگز کے انعقاد میں مدد کا کام شروع کر دیا۔

جب مجھے اپنی ہفتہ وار میٹنگز میں زیادہ طاقت اور زیادہ اطمینان ملا تو مجھے یہ اور زیادہ پانے کی خواہش ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں کیسے موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں نے میری مدد کی تھی۔ میں نے اسے دوبارہ آزمایا۔ میں نے خواتین کے ’بارہ اقدام‘ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جو ہر تین ماہ بعد کہیں دور اکٹھے وقت گزارتی تھیں۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام پر کام کرنے میں مدد کی اور ہفتے کے آخر میں کچھ وقت گھر سے دور گزارنے سے مجھے نیا نقطہ نظر ملا۔ میں نے خود سے سوچنا سیکھا۔

اپنے نوجوان بیٹے کے نشے کے استعمال کے برسوں کے دوران میں بہت خوفزدہ تھی کہ وہ مر جائے گا یا کئی سال جیل میں گزارے گا۔ اُسے جانے دینا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دینا بہت مشکل تھا۔ جب میں اس کی مدد نہیں کر سکتی تھی تو میں بطور گروپ سپانسردوسرے نوعمر افراد کی مدد کرتی۔ میں نشے سے بحالی کے ایک مرکز میں خدمت کا کام دیتی اور وہیں میری ملاقات ایک ایسی سپانسر سے ہوئی جس کے بچے نشے کی وجہ سے جیل میں تھے۔

آج کی سوچ:

خدمت کا کام میری بحالی میں صراحت، مضبوطی، اور گہرائی لاتا ہے۔ خدمت کے دوران میں نے اپنی بحالی اور اپنے لئے وقت نکالنے کی اہمیت کے بارے میں سیکھا۔

’’خدمت ایک ایسا طریقہ ہے جس سے پیغام دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔‘‘ ~ نارانون کا بارہ اقدام کا پروگرام

منگل، 15 ستمبر، 2015

نویں روایت

میں تنظیموں مثلاً حکومت، کارپویشنوں اور سکولوں میں فیصلہ سازی کے عمل سے واقف ہوں۔ ان تمام اداروں میں تنظیم کا ایک ڈھانچہ ہوتا ہے جس میں مختلف سطح پر اختیارات کی تقسیم ہوتی ہے۔

تاہم ایک نووارد کے طور پر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ نارانون کی فیلوشپ کیسے کام کرتی ہے۔ نارانون فیلوشپ انفرادی ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ہر ایک کی حثیت برابر ہوتی ہے۔ نارانون میں کسی کوحکم جاری کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ تمام نارانون پروگرام صرف تجویز پیش کرنے پر مشتمل ہے۔ میں اپنے پروگرام پر اپنے انداز میں اور اپنے وقت پر کام کر سکتا ہوں۔

نارانون میٹنگز گروپ کی خواہش پر منعقد کی جاتی ہیں اور یہاں بحث کے ذریعے اور ارکان کی رضا مندی سے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اسے گروپ کا ضمیر کہتے ہے۔ ہر گروپ اپنے عہدیدار منتخب کر سکتا ہے۔ عہدیداروں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا؛ انہیں اپنے گروپ کے لئے خدمت کا موقعہ دیا جاتا ہے، جیسا کہ میٹنگ کی صدارت کرنا، چائے کافی بنانا، نئے آنیوالوں کو خوش آمدید کہنا، یا فیلوشپ کی دیگر سطحوں پر اپنے گروپ کی نمائندگی کرنا شامل ہیں۔

وہ ارکان جو رہنما کے طور پر کام کرتے ہیں انہیں نارانون لٹریچر میں اچھے الفاظ میں یاد رکھا جاتا ہے اور دوسری روایت کے مطابق وہ ’’ قابل اعتماد خدمتگارہیں: جو حکومت نہیں کرتے‘‘۔ یہ تنظیمی ڈھانچہ گروپ، علاقے، اور ریجن کی سطح پر اچھی طرح کام کررہا ہے۔

نارانون عالمی تنظیم کو کاروباری اُمور کی انجام دہی کے لئے کاروباری تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو پروگرام کو آگے بڑھانے اور ترقی کرنے میں مدد کر سکے۔ ان اُمور میں عوامی رابطہ مہم، ٹیلی فون ہیلپ لائنز، ترقی ، پروگرام کے لٹریچر کی منظوری اور فروخت، تنظیمی کنوینشن اور کانفرنسیں شامل ہیں۔ اس سطح پر نویں روایت ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم ضروری پیشہ وروں کی خدمات حاصل کر کے ان اُمور کو مؤثر طریقے سے انجام دیں۔

 نویں روایت ہمیں ان با معاوضہ پروفیشنلز کے بارے میں یاد دہانی کراتی ہے جن کا واحد مقصد نارانون فیملی گروپس کی خدمت کرنا ہے۔ علاقے، ریجن اور عالمی سطح پر ان ملازمین میں سے کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ وہ تنظیمی ڈھانچے، فیصلہ سازی کے اختیار یا نارانون کے انفرادی گروپوں کی سرگرمیوں میں حکم دے یا مداخلت کرے۔

آج کی سوچ:

میری ذمہ داری ارکان کی خدمت کرنا ہے، چاہے میرا کام رضاکارانہ ہو یا پروفیشنل کے طور پر؛ نارانون میں صرف بالاتر طاقت ہی بااختیار ہے جس کا اظہار ہمارے گروہی ضمیر کے ذریعے ہوتا ہے۔

’’شروع میں نسل انسانی اور بے غرض خدمت کی ذمہ داری کو اکٹھے پیدا کیا گیا۔ بے غرض خدمت کے ذریعے ’تم ہمیشہ پھل پاؤ گے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کرپاؤ گے‘: یہ پیدا کرنیوالے کا وعدہ ہے۔‘‘ بھگود گیتا