‏بالاتر طاقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بالاتر طاقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 نومبر، 2015

سکون ہی میرا انعام ہے

میں اپنی دعاؤں اور مراقبے کے دوران اپنی سوچوں کی توجہ بالاتر طاقت پر مرکوز رکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور خاموشی سے رہنمائی کا انتظار کرتی ہوں۔ میں صرف اپنی بالاتر طاقت کی رضامندی جاننے اور اس پر عمل کرنے کی طاقت کی دعا مانگتی ہوں۔ اس ایمان کے ساتھ کہ مجھے بہترین راستہ دکھایا جائے گا۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت میری ذہنی صحتیابی کو بحال کر سکتی ہے اسی لئے میں ہر روز آدھا گھنٹا دعا اور مراقبے کیلئے وقف کرتی ہوں۔ جب میری زندگی میں ڈرامہ اور بے ترتیبی پھیلی ہو تو میں مزید آدھا گھنٹہ خود کو دیتی ہوں۔

بہت سارے نشئی بدنظمی اور ڈرامہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ دعا اورمراقبے کے طریقے ہمیں مسائل کی وجہ یعنی نشے کی بیماری سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ مجھے اس بدنظمی اور ڈرامے کو اپنے ذہن کو گدلا کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔ دعاؤں اور مراقبے کے ذریعے میں ابھی بھی رُک سکتی، سُن سکتی اور گمراہ ہونے سے بچ سکتی ہوں۔

اپنے سکون اوراطمینان کو برقرار رکھنے کیلئے گیارہویں قدم پرعمل کرنا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ یہ مجھے اپنی مرضی کو بالاتر طاقت کی حولے کرنے اور اس کی طرف سے سمت کو قبول کرنا یاد دلاتا ہے۔

آج کی سوچ:

گیارہویں قدم کے ذریعے میں نے اپنی بالاتر طاقت کے ساتھ شعوری تعلق بنا لیا ہے۔ اپنی سوچوں کو پُرسکون رکھتے ہوئے میں اپنے راستے کو پُرامن طریقے سے سمجھنے کے قابل ہوں۔ اس کا انعام مجھے اکثر سکون کی صورت میں ملتا ہے۔


’’بالاتر طاقت تک پہنچنے کے ہزاروں راستے ہیں اورہم ان میں سے کوئی بھی ایک راستہ منتخب کرسکتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہم نے کم از کم ایک راستہ منتخب کر لیا اور اپنی بحالی کے سفر کیلئے نکل پڑے۔‘‘ ~ Paths to Recovery )بحالی کے راستے(

پیر، 2 نومبر، 2015

شعوری تعلق

ایک دن میں اور میرے شوہر پہاڑوں میں واقع اپنے گھر گئے ۔ ہم نے اشد ضروری ایک ہفتے کی چھٹی شروع کی۔ میں دوسری ریاست میں رہنے والے اپنے نشئی بیٹے کی وجہ سے تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔ یہ نہ جاننا کہ وہ کیسا ہے اور کیا کر رہا ہے کبھی کبھی میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
ہمارے گھر کے باہر ایک جھونپڑی ہے جس پر میں نے ایک تختی لگا رکھی ہے جس پر لکھا ہے ’’پُرسکون جگہ‘‘۔ میں اپنے ساتھ بارہ اقدام کے پروگرام کا لٹریچر لے گئی اور دروازہ بند کر لیا۔ میں نے چرچ کی موسیقی کی آوازیں سُنیں جو کچھ میلوں کے فاصلے پر پہاڑی کی اُترائی پر لگے چرچ کیمپ سے آ رہی تھیں۔ تب میں ہلکی سی ٹپ ٹِپ آواز سنی جس نے میرے تجسس کو اُبھارا۔ میں نے دیکھنے کیلئے دروازہ کھولا کہ یہ کیا ہے۔ میں نے غور کیا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
جب میں بارش کے قطروں کو پتوں کو بھگوتے ہوئے دیکھ رہی تھی تو میں نے کچھ فاصلے پر خشک ٹہنیوں اور پتوں کی چڑچڑاہٹ کو سُنا۔ ایک ہرن ماں چل کر میرے سامنے آ گئی۔ ایک منٹ کے لئے ہم ساکت ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔
وہ آگے بڑھی اور میرے قریب سے اپنے ننھے بچے کے ساتھ جو اس کے پیچھے تھا گزر گئی۔ جب وہ آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے میری نظروں کے سامنے سے ہٹے تو مجھے لگا میری بالاتر طاقت مجھے بتا رہی ہے کہ ہماری نگرانی کی جا رہی ہے اور میں چھوڑ سکتی ہوں، خدا کو کرنے دے سکتی ہوں اور اپنی چھٹیوں سے لُطف اندوز ہو سکتی ہوں۔
آج کی سوچ:
میں یاد رکھوں گی کہ یہ طاقت، جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے مجھ تک پہنچنے کے کئی راستے جانتی ہے۔ میں اکثر ہی روزمرہ کے واقعات میں شعوری تعلق کو پاتی ہوں۔ میں اپنا ذہن کھُلا رکھوں گی اور اپنے راستے میں آنے والے پیغامات کو وصول کرنے کیلئے رضامند رہوں گی۔

’’سب چیزوں کو ویسا ہی رہنے دو جیسا کہ وہ ہیں۔‘‘ ~ دی وائس

اتوار، 1 نومبر، 2015

بالاتر طاقت کا مرتبان

کئی مہینوں تک پروگرام پر کام کرنے اور میٹنگ میں جانے کے باوجود میں ایسا محسوس کرتا تھا کہ میں کئی ایک ایسی چیزوں کو چھوڑ نہیں پا رہا جن کے بارے میں جانتا ہوں کہ میرا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
ایک خاص چیز جو مجھ پر بوجھ بنی ہوئی تھی وہ میرے نشئی کا غصہ تھا۔ وہ اپنی مرضی سے نوے دن کے بحالی کے پروگرام میں گزارنے کے بعد ایک عارضی جگہ میں رہ رہا تھا، لیکن جب بھی ہماری بات چیت ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض ہی رہتا۔
یہ غصہ مجھے پاگل کر رہا تھا۔ میں یہ نہیں جان پایا کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے کہ وہ میرے ساتھ اتنا غصہ کرتا ہے اور نہ ہی میں اسکو قائل کرسکا کہ اسے مجھ سے اتنا ناراض نہیں ہونا چاہئیے۔
آخرکار میں نے اس مسئلے کو میٹنگ میں بیان کیا اور دوسروں کی رائے لینے کے لینے خود کو پیش کر دیا۔ ہر کسی نے تجویز دی کہ مجھے اس کے غصے کو جانے دینا چاہئیے، یہ اس کا معاملہ ہے۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میں یہ کیسے کروں۔
ایک شخص میٹنگ سے اُٹھ کر گیا اور مونگ پھلی کا ایک خالی مرتبان لے کر واپس آیا۔ اُس نے ڈھکن بند کرکے لیبل کو پینٹ کردیا تھا اور اس میں ایک درز بنا دی تھی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ یہ اُس کا ’’خدائی مرتبان‘‘ ہے لیکن جب تک میں اپنا خدائی مرتبان نہیں بنا لیتا میں اِسے استعمال کرسکتا ہوں۔
اُس نے مجھے کہا کہ میں ایک کاغذ پر وہ سب کچھ لکھوں جو میں اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرنا چاہتا ہوں اور اُس کاغذ کو لپیٹ کر ڈھکن پر بنی درز سے مرتبان میں ڈال دوں۔ ایک بار جو چیز مرتبان میں چلی جائے گی وہ میں واپس نہیں نکال سکتا۔ اگر میں دوبارہ کبھی اس مسئلے پر پریشان ہوں تو مجھے صرف یہ یاد کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب یہ میرا مسئلہ نہیں۔
سوچنے، اس کو کاغذ پر لکھنے اور عملی طور پر اس کو مرتبان میں ڈالنے کے عمل نے بہت زبردست کام کیا۔ اگلے دن اس شخص نے مجھے میرا اپنا مرتبان لا دیا، اور اب یہ مرتبان بہت بھاری ہو چکا ہے، لیکن میری روح بہت ہلکی ہے۔
آج کی سوچ:
میں نہیں کرسکتا، لیکن خدا کرسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے خدا کو کرنے دینا چاہیئے۔

’’علم کا مطلب ہے ہر روز کچھ سیکھنا جبکہ دانشمندی کا مطلب ہے ہر روز کسی چیز کو جانے دینا۔‘‘ ~ نامعلوم

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

اب میں تنہا نہیں

کچھ دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے نشے کی لت بارے بات کررہی تھی۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کیا میں بالاتر طاقت پر یقین رکھتی ہوں۔ میں نے جواب دیا ہاں۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ جب سے نشے کی بیماری میری زندگی میں شامل ہوئی ہے، میں پہلے سے زیادہ اپنی بالاتر طاقت کے قریب ہو گئی ہوں۔

میں نے کہا کہ نشہ کی لت کو قابو کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں نے اپنے بیٹے کی منشیات کی لت سے نمٹنے کی چھ سال کوشش کی اور جب میں اُسے فتح نہیں کر سکی تو میں نے مدد مانگی۔ میں اپنی پستی میں گر چکی تھی اور میں مزید تکلیف برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی

نارانون ہی وہ مدد تھی جس کی مجھے ضرورت تھی اور مجھے یقین ہے کہ خدا نے میری صحیح سمت میں رہنمائی کی۔ اب میں تنہا نہیں ہوں۔ ایک میٹنگ میں ایک ساتھی اپنے بیٹے کی حرکات کی وجہ سے اتنی پریشان تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے تازہ ترین تباہ کن رویے کی داستان سناتے ہوئے ہمارے سامنے رو پڑی۔

اُس نے خصوصی طور پر بتایا کہ وہ میٹنگ میں آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ یہاں آکر اپنے دل کا غبار نکالے کیونکہ ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ کیسا محسوس کررہی تھی۔ جب میں کہتی ہوں کہ اب میں اکیلی نہیں ہوں تو میرا مطلب یہی ہوتا ہے۔

نارانون میٹنگز میں جا کر میں نے اپنی بالاتر طاقت کو ہر ساتھی میں دیکھا۔ میں نے نارانون لڑیچر پڑھ کر، میٹگز میں سب کی شئیرنگ سن کر، اپنے سپانسر کے ساتھ کام کرکے جنہوں نے نارانون پروگرام کو سمجھنے میں میری مدد کی اور جن کو میں اپنی مشکلات، اپنے راز بتاتی ہوں اور جن سے ہمدردی کے الفاظ سُنتی ہوں، ایک بہتر زندگی گزارنا سیکھی۔

آج کی سوچ:

کیونکہ میں اکیلی نہیں ہوں اس لیے میں تکلیف اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتی ہوں۔

’’ہمیں اپنے دوستوں کی مدد کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنا اس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے کہ جب ہمیں ضرورت ہوگی ہمیں ان سے مدد ملے گی۔‘‘ ~ ایپی کیورس

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

اپنے آپ کو بدلنا


حال ہی میں کسی نے میٹنگ میں شیئر کیا کہ اس نے نارانون آنا اس لئے شروع کیا کیونکہ وہ بُرے احساسات سے تنگ آ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے میں خود تنگ آنے سے تنگ پڑ چکا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری تکلیف اور درد بند ہو جائے۔ میں اپنی زندگی کو جینا چاہتا تھا۔ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے مضبوط بننا چاہتا تھا، جنہیں میں چاہتا ہوں۔ یہ پانے کے لئے میں نے نارانون پروگرام پر کام کرنا، نشئی کے بارے میں سوچنا بند، اور اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

جن لوگوں نے اپنی زندگی میں نشے کی لت کے اثرات نہیں دیکھے انہیں یہ خود غرضی لگے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری میٹنگز ہمارے لئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں ہم یہ تجربات ان لوگوں سے شئیر کرتے ہیں جو ہماری جیسی صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری بات سمجھ جائیں گے۔

میں وہ تکلیف دہ باتیں اور حالات جن سے میں گزر رہا ہوتا ہوں، اپنے سپانسر کے ساتھ شئیر کر سکتا ہوں اور پھر میٹنگز میں اپنا تجربہ، طاقت اور اُمید شئیر کر سکتا ہوں۔ یہ جاننا کہ میں اپنی تکلیف سے نمٹنے کا عمل جانتا ہوں، مجھے سکون کا احساس دیتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ درد کا مکمل طور پر غائب ہونا بہترین ہو گا مگر حقیقت میں یہ ممکن نہیں۔

ایسے حالات جنہیں میں نہیں بدل سکتا انہیں قبول کرکے مجھے اپنی زندگی میں سکون پانے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو میں نے اپنی میٹنگز میں سیکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری زندگی آسان اور درد سے پاک ہو جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ غالباً اس عمل کو کرنے میں کچھ وقت اور بہت کوشش لگے گی۔ یہ قول ’آسانی چیزوں کو ممکن بناتی ہے‘ مجھے صبر سکھاتا ہے۔

آج کی سوچ:

میں اپنی ساری توجہ خود پر رکھوں گا اور اپنی بالاتر طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی جیوں گا۔ یہ جان کر کہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے میں پُرسکون اور پُراطمینان رہوں گا۔ میں ان تمام چیزوں کے لئے شکرگزار ہوں جو آج میری زندگی میں ہیں، یہ جان کر کہ تشکر رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔


’’ترقی بغیر تبدیلی کے ممکن نہیں اور وہ لوگ جو اپنے دماغ کو تبدیل نہیں کر سکتے وہ کسی چیز کو نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ جارج برنارڈ شا

جمعرات، 1 اکتوبر، 2015

یقین کا ایک عمل

نارانون پروگرام نے میری دنیا ہی بدل دی۔ یہ درست ہے کہ حقیقت میں دنیا تو نہیں بدلی؛ مگر یہ میری سوچ تھی جو بدل گئی۔ میں نے سیکھا کہ میں چیزوں کو کیسے اور کیوں کسی خاص انداز میں سوچتا ہوں۔ میں نے یہ بھی سیکھا کہ ایک ہی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں۔ اب میں حالات کو دیکھ کر سوچ سکتا ہوں کہ ان پر میں کس طرح کے مختلف ردعمل اخیتار کر سکتا ہوں۔

جینے کا یہ انداز مجھے کئی طریقوں میں سے ایک چننے کا اخیتار دیتا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ میں ایسا ردعمل اختیار کروں جیسا کہ میں ہمیشہ ماضی میں کرتا تھا۔ آج میں نے زندگی کو دیکھنے اور اپنے مسائل سے نمٹنے کا ایک نیا انداز پایا ہے۔

مجھے یاد ہے بچوں کے کھیلوں میں ہتھیار ڈالنے کا مطلب ہار ماننا ہوتا تھا۔ میں یہ سوچ کر بڑا ہوا تھا کہ ہتھیار ڈالنا کوئی حل نہیں ہے۔ تاہم جب سے میں نارانون میٹنگز میں جا رہا ہوں، میں نے پایا کہ ’ہتھیار پھینکنے‘ کا ایک بالکل مختلف معنی ہو سکتا ہے۔

آج میں اپنی مرضی کو اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہار گیا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا کنٹرول ترک کر رہا ہوں اور اپنی بالاتر طاقت کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنا رہا ہوں۔ میں نے جانا کہ میں یہ خود نہیں کر سکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں میدان چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی مرضی کو اپنے سے بڑی طاقت، جو میرا خدا ہے، کو سونپ رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میں مسائل میں بہت گھرا ہوا محسوس کرتا ہوں اور اپنے مسائل سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتا، میں ہتھیار ڈال سکتا ہوں اور خدا، جیسا کہ میں اسے سمجھا ہے، کو اپنے مسائل کی ذمہ داری دے سکتا ہوں۔ یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے کا عمل نہیں؛ یہ اعتقاد اور یقین کا معاملہ ہے۔


’’دنیا جو ہم نے بنائی ہے ہماری سوچ کی پیداوار ہے؛ اپنی سوچ کو بدلے بغیر ہم اسے نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ البرٹ آئنسٹائن

منگل، 22 ستمبر، 2015

فیصلہ سازی

جب میں نشے کی بیماری سے پیدا ہونے والی بدنظمی میں زندگی گزار رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ مجھے اپنی زندگی کے سادہ سے لے کر مشکل ترین مسائل کے بارے میں فیصلے کرنے میں مشکل پیش آتی تھی، ایسے مسائل جو میری اور میرے اہلِ خانہ کی بھلائی پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔

حال ہی میں میری آٹھارہ سالہ بیٹی نے، جو نشے کی عادی ہے، خود کو بحران کی صورتحال میں پایا۔ اس کی وجہ سے اُس نے منشیات کا استعمال بڑھا دیا اور اس کا رویہ اور عمل ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ نارانوں آنے سے پہلے میں نے اسے ناقابلِ قبول رویے کو جاری رکھنے کی اجازت دے کر خود کو اس افراتفری میں جھونک دینا تھا۔ میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی تھی، اسے چلے جانے کا کہنے سے ڈرتی تھی، اور نتائج سے خوفزدہ تھی کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے گی۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت چیزوں کا خیال رکھے گی۔ میں اس کی رہنمائی کا انتطار کروں گی۔ مجھے یقین ہے کہ میری بالاتر طاقت مجھے وہیں لے جائے گی جہاں مجھے ہونا چاہئیے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ میری رہنمائی کرے اور مجھے یقین ہے اگر میں غلط راستے پر جارہی ہوں گی تو وہ مجھے صحیح راستہ دکھائے گی۔ میں واضح جواب کا انتظار کرتی ہوں کیونکہ بعض اوقات فیصلہ نہ کرنا غلط فیصلہ کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔

آج کی سوچ:

نشے کی عادت پورے خاندان کو متاثر کرنے والی ہے۔ اس کی کئی شکلیں ہیں اور یہ صرف نشے کے عادی فرد کو متاثر نہیں کرتی۔ میں اپنی بالاتر طاقت اور نارانون پروگرام کی مدد سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کر سکتی ہوں۔


’’میں ہر دن کے آغاز میں اپنے ارادے اور اپنی زندگی کو خدا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں ‘‘ ~ بدلنے کی جرأت

پیر، 14 ستمبر، 2015

خوشی

جب مجھے پتہ چلا کہ میرے عزیز منشیات کے عادی تھے تو مجھے بہت دُکھ پہنچا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں کبھی دوبارہ خوش نہیں ہوسکوں گی۔ خوشی میری زندگی سے جا چکی تھی۔ تب میں نے نارانون میٹنگ میں جانا شروع کیا۔ میٹنگز میں میں نے دوسروں کو اپنے جیسے حالات میں پایا مگر ان کی زندگی میں اب بھی خوشی موجود تھی۔ جب میں نے اپنی بحالی اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کر کے پروگرام پر عمل کیا تو میں نے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا، اور ایک بار پھر خوشی محسوس کرنا شروع کی۔

میں اپنے گھر کے پچھلے صحن بیٹھ کر تتلیوں کو دیکھتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہوں۔ یہ بہت پُرسکون جگہ ہے اورمجھے لگتا ہے کہ میں ایک ہی سفید اور بھورے رنگ کی ایک تتلی کو دیکھتی ہوں۔ آج جب وہ آئی تو مجھے سکون کا احساس ہوا جیسے وہ میرے ساتھ کھیل رہی ہو۔ وہ صحن میں ادھر اُدھر اڑتی، پھڑپھڑاتی اور پھر میری طرف واپس آتی، پھر ایک دم اوپر اُڑ جاتی۔ اسی طرح تین یا چار بار ہوا۔ میں آٹھ سال کے بچے کی طرح کھکھلا کر ہنس رہی تھی۔

اگلی دفعہ جب تم تتلی کو دیکھو تو ایک منٹ کے لئے اپنی بالاتر طاقت کے بارے میں سوچنا۔ محبت کو محسوس کرنا، اپنے سے بڑی اس طاقت کا کسی چیز کے لئے شکر ادا کرنا اور اس بات کو تسلیم کرنا کہ یہ اس طاقت کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ تھا۔ تمہاری روح اس سے مسکرانے لگے گی۔

آج کی سوچ:

میں اس سکون اور اطمینان کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے اس وقت ملا جب میں نے محبت سے اپنے عزیز نشے کے مریضوں کو جانے دینا اور نشئی کو بدلنے کی کوشش کو ختم کرنا شروع کیا۔ میں اس رہنمائی کے لئے بھی شکرگزار ہوں جس نے یہاں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میں ان لوگوں کے لئے دعا کرتی ہوں جو ابھی بھی اپنے کسی دوست یا عزیز کے نشے کی وجہ سے تنہا ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کو بھی اس میٹنگ کا راستہ پانے کی مدد ملے تاکہ جو تحفے مجھے اتنے کھل کر دیے گئے میں انہیں واپس دے سکوں اور جو لوگ نشے کے مریضوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہیں ان کے ساتھ اپنا تجربہ، استحکام اور اُمید بانٹ سکوں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ جب میں دوسروں تک پہنچنے کی کوشش کروں تو میں اپنی روایات ذہن میں رکھوں۔ میں اپنے لیے اور اپنے مریضوں کے لیے اپنی بالاتر طاقت کی محبت اور خیال پر اعتماد کرتی ہوں۔

’’تمہارے سوا کوئی بھی تمہیں پُرسکون نہیں کر سکتا۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن

ہفتہ، 5 ستمبر، 2015

بہتر ہونا

میں نے سیکھا ہے کہ نشے کی عادت ایک بیماری ہے۔ یہ شاید کبھی جان نہیں چھوڑتی، لیکن میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اسے قبول کرنا اور پھر اسکے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرنا سیکھ سکتا ہوں۔

ایک دفعہ میں نے سُنا تھا کہ جب نشے کے مریض بحالی کی طرف آنے کے لیے تیار ہوں تو انہیں خاص مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے فوراً اس بات کو مان لیا کیونکہ میں یہی سُننا چاہتا تھا، سو میں اس کی نشے میں معاونت کی، اس کے قرضے ادا کیے، اور اس کو درپیش بحرانوں میں یہ سوچ کر اسے اپنی مرضی سے چلایا کہ اس سے وہ نشے سے دور رہے گی۔ ان سب میں مجھے اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ میں یہ سب کام کچھ توقعات کے ساتھ کر رہا تھا۔ جب اس سب نے کام نہیں کیا تو میں خفا ہو گیا۔

نارانون میٹنگز میں جانے سے میں نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے دوسروں پر اثر انداز ہونے اور نشے میں معاونت کے اثرات کے بارے میں سیکھا۔ نارانون پروگرام کی بدولت میں اپنے طریقے سے اور اپنے وقت پر اپنے فیصلے کرنے اور اپنی حدیں مقرر کرنے کے قابل ہوا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اپنی زندگی میں جرأت اور وقار کے ساتھ مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنے سے آخرکار اچھے نتائج برآمد ہوں گے، اگرچہ یہ اچھے نتائج شاید ہمیشہ مجھے دکھائی نہ دیں۔ میں اس کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں، اور یہ سوچ مجھے آج کا دن گزارنے میں مدد کرتی ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ میں بہتر ہو رہا ہوں اور ابھی بہت طویل راستہ باقی ہے لیکن یہ قول کہ ’صرف آج کا دن‘، مجھے حوصلہ، مستقل مزاجی اور اُمید دیتا ہے۔

آج کی سوچ:

نارانون پروگرام پر عمل کرتے ہوئے میں نشے کی بیماری کے ہاتھوں تباہ ہوئے بغیر اس کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہوں۔ میری زندگی نشئی اور اسکے مسائل پر مشتمل ہے لیکن میں اب اس بات کا انتخاب کرسکتا ہوں کہ نشئی کے مسائل میری زندگی پر اثرانداز نہ ہوں۔ میرا شدید غصہ اوردوسروں سے حقارت آمیز رویہ اب موجود نہیں۔

’’بہت سارے کاموں کو نمٹانے کا سب سے مختصر طریقہ یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی کام کیا جائے۔‘‘ ~ سڈنی سمائلز