حال
ہی میں کسی نے میٹنگ میں شیئر کیا کہ اس نے نارانون آنا اس لئے شروع کیا کیونکہ وہ
بُرے احساسات سے تنگ آ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے میں خود تنگ آنے سے
تنگ پڑ چکا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری تکلیف اور درد بند ہو جائے۔ میں اپنی زندگی
کو جینا چاہتا تھا۔ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے مضبوط بننا چاہتا تھا، جنہیں
میں چاہتا ہوں۔ یہ پانے کے لئے میں نے نارانون پروگرام پر کام کرنا، نشئی کے بارے
میں سوچنا بند، اور اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
جن
لوگوں نے اپنی زندگی میں نشے کی لت کے اثرات نہیں دیکھے انہیں یہ خود غرضی لگے گی۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری میٹنگز ہمارے لئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں ہم یہ تجربات ان
لوگوں سے شئیر کرتے ہیں جو ہماری جیسی صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ہم جانتے
ہیں کہ وہ ہماری بات سمجھ جائیں گے۔
میں
وہ تکلیف دہ باتیں اور حالات جن سے میں گزر رہا ہوتا ہوں، اپنے سپانسر کے ساتھ
شئیر کر سکتا ہوں اور پھر میٹنگز میں اپنا تجربہ، طاقت اور اُمید شئیر کر سکتا
ہوں۔ یہ جاننا کہ میں اپنی تکلیف سے نمٹنے کا عمل جانتا ہوں، مجھے سکون کا احساس
دیتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ درد کا مکمل طور پر غائب ہونا بہترین ہو گا مگر
حقیقت میں یہ ممکن نہیں۔
ایسے
حالات جنہیں میں نہیں بدل سکتا انہیں قبول کرکے مجھے اپنی زندگی میں سکون پانے کی
ضرورت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو میں نے اپنی میٹنگز میں سیکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں
کہ میری زندگی آسان اور درد سے پاک ہو جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ غالباً اس عمل کو کرنے
میں کچھ وقت اور بہت کوشش لگے گی۔ یہ قول ’آسانی چیزوں کو ممکن بناتی ہے‘ مجھے صبر
سکھاتا ہے۔
آج
کی سوچ:
میں
اپنی ساری توجہ خود پر رکھوں گا اور اپنی بالاتر طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی
زندگی جیوں گا۔ یہ جان کر کہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے میں پُرسکون اور
پُراطمینان رہوں گا۔ میں ان تمام چیزوں کے لئے شکرگزار ہوں جو آج میری زندگی میں
ہیں، یہ جان کر کہ تشکر رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔
’’ترقی
بغیر تبدیلی کے ممکن نہیں اور وہ لوگ جو اپنے دماغ کو تبدیل نہیں کر سکتے وہ کسی
چیز کو نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ جارج برنارڈ شا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں