پیر، 12 اکتوبر، 2015

حدود اور روحانی ترقی

بارہ اقدام پر کام کرنے والے ایک اور گروپ میں ایک نیا رُکن شامل ہوا جس کے پاس میرا بیٹا ملازمت کرتا تھا۔ چونکہ وہ مالی کامیابی کی ایک مثال تھا اس لیے میں غلطی سے اُس کے بارے میں بہتر رائے قائم کر بیٹھی بجائے اس کے کہ میں اسے ایک ایسا نشئی سمجھتی جس نے سب کچھ کھودیا ہو۔

وہ میری زندگی میں اُس وقت آیا جب میں اپنے لئے مضبوط حدود مقرر کرنے پر کام کر رہی تھی اور دوبارہ اپنی زندگی جینے کی طرٖف آرہی تھی۔ میں خود پر توجہ مرکوز رکھنا سیکھ رہی تھی۔ میں ان رویوں کے بارے میں فیصلے کر رہی تھی جو میں کسی صورت بھی اپنی زندگی میں موجود نشے کے مریضوں کی طرف سے برداشت نہیں کروں گی۔

میں نے اپنے بیٹے کے باس کو اجازت دی کہ وہ مجھے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر لے جائے اور میں نے دیکھا کہ اس دوران میں اپنے اُصولوں کا تحفظ کرتی رہی۔ مجھے اس سے ملے بمشکل ہی ایک ہفتہ ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ مجھے بتا رہا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے اور میں اپنے عدم تحفظ کی وجہ سے اسکی نصیحت قبول کر رہی تھی۔

آخرکار جب اُس نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی بحالی کی ذمہ دار تھی تو میرے اندر سُرخ بتی روشن ہو گئی۔ میں جانتی ہوں کہ میں نشئی کی بیماری کی وجہ نہیں بنی تھی اور نہ ہی اسے کنٹرول کر سکتی ہوں یا اس کا علاج کر سکتی ہوں۔ میں اپنی بحالی کی ذمہ دار ہوں۔ میرے پروگرام نے مجھے بتایا کہ میں دوسروں کے رویے کنٹرول نہیں کرسکتی۔

نارانون پروگرام اور نارانون کے بارہ اقدام نے کام کر دکھایا۔ میں اس پروگرام پرعمل کرنے کے نتیجے میں اپنی روحانی ترقی دیکھ سکتی ہوں۔ میں بالکل ویسی انسان نہیں ہوں جیسی میں چار سال قبل یہاں داخل ہوتے وقت تھی۔ اب میں دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو جوتے صاف کرنے والی چٹائی نہیں بنتی۔ دروازے پر بچھنے والی چٹائی اب صرف دروازے کے آگے ہی ہوتی ہے۔

آج مجھ میں عقل ہے کہ میں لوگوں اور ان کی نصیحت کو اپنی زندگی میں آنے کی اجازت دوں یا اسے باہر ہی رکھوں۔ یہ میرا اختیار ہے۔ اب لوگوں کے ساتھ میرے تعلقات پر نہ احساسِ جُرم اور نہ ہی پچھتاوا حکمرانی کرتا ہے۔ اس شخص نے مجھے پچھتاوا محسوس کرانی کی کوشش کی تو مجھے یاد آگیا کہ میں صرف اپنی بحالی کی ذمہ دار ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نارانون پروگرام میں سب لوگوں کی شکرگزار ہوں اور اپنی روحانی ترقی اور بحالی کے لیے سب سے زیادہ شکرگزار اپنی بالاتر طاقت کی ہوں جسے آج میں محسوس کررہی ہوں۔


’’کبھی علم کو عقل سمجھنے غلطی نہ کرو۔ ان میں سے ایک تمہیں روزگار کمانے میں مدد دیتا ہے اور دوسرا تمہیں زندگی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ‘~ ساندرہ کیری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں