مجھے حال میں، صرف آج کے
دن کیلئے زندگی گزارنے میں مسئلہ ہے، ۔ مجھے یہ سمجھنے میں بہت لمبا عرصہ لگا لیکن
بالآخر میں سمجھ گئی کہ میں اپنے نشئی شوہر کو ٹھیک نہیں کرسکتی اور میں اس سے
علیحدہ ہو گئی۔ مجھے لگا کہ یہ نارانون کے دوسرے ساتھیوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ آج
کے دن میں رہ کر زندگی گزاریں لیکن چار چھوٹے بچوں کے ساتھ مجھے اپنے بچوں کے
مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔
اگر میرے بچے میرے شوہرکے نشئی ہونے کا الزام مجھے
دیں جیسا کہ میرا شوہر کرتا ہے تو کیا ہو گا؟ اگر وہ خود نشئی بن گئے تو کیا ہوگا؟
کیا میں ان کے لئے ماں اور باپ دونوں بن سکوں گی؟ میں نے حال ہی میں کچھ پڑھا جس
نے میرا ذہن بدل دیا:
’’جیسے ہی ہم حالیہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، ہم اسے گہرائی تک
جیتے ہیں اور ایک اطمینان حاصل کرتے ہیں جسے ہم ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے
بارے میں پریشان ہوتے وقت نہیں جان سکتے۔ جو لمحہ ابھی ہے میں اسی کے بارے میں کچھ
کر سکتی ہوں اور اسی کی مجھے ضرورت ہے۔‘‘ فوڈ فار تھاٹ (دماغ کے لیے خوراک) از الزبتھ
ایل۔
یقیناً میں کبھی کبھی پریشان ہوں گی
لیکن یہ تب تک ٹھیک ہے اگر میں اسے خود کو نگلنے نہ دوں۔ اب میں خود سے پوچھتی ہوں ’’کیا آج میرے بچے
خوش ہیں؟ کیا میں کچھ ایسا کر سکتی ہوں جو بچوں کے لئے آج کا دن یادگار بنا دے؟‘‘
میں سوچتی ہوں کہ میں ایسا
اس لئے کر پائی کہ میں جہاں ابھی ہوں اورجو کچھ بھی ہوں میں اس سے بالآخر مطمئن ہو
گئی ہوں۔ میں آج کیلئے اور اس موجودہ لمحے کے لیے شکرگزار ہوں۔
آج کی سوچ:
میں اپنے حال میں یہیں اور
ابھی رہوں گی۔ میں مستقبل کو نہیں دیکھ سکتی اور میں شاید کبھی ماضی
میں پیچھے مڑ کر دیکھوں لیکن میں اسے مستقل نہیں دیکھتی رہوں گی۔
’’ہر دن اچھی طرح گزارو اور پھر اسے جانے دو۔
جو تم کر سکتے ہو تم نے کیا۔ بے شک کچھ غلطیاں اور لغویات ہو جائیں گی؛ ان کو بھول
جاؤ جتنی جلدی تم بھول سکتے ہو۔ کل کا دن نیا ہوگا؛ اسے اچھی طرح اور اطمینان سے اور
اتنے جذبے کے ساتھ شروع کرو کہ تمہاری پرانی بیوقوفیاں تمہیں
پریشان نہ کر سکیں۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں