میں
لوگوں کو شک کا فائدہ دینا پسند کرتی ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں اپنے پیارے نشئی
کو بار بار خود سے جھوٹ بولنے کی آسانی سے اجازت دیتی رہی۔ چونکہ مجھ سے کئی بار جھوٹ
بولا گیا اس لیے میں
نے محسوس کیا کہ میں نے دوسروں پر اعتماد کرنے کی اپنی صلاحیت کو کھونا شروع کر دیا
ہے۔
حقیقت
سے انکار نے چیزوں کو مزید خراب کردیا اور میں مزید تلخ اور بدگمان شخص بن گئی۔
میں نشئی پر اعتبار نہیں کرتی تھی اس لئے میں ہمیشہ اپنے ذہن میں یہ سوچتی کہ کیا لوگ مجھ سے سچ بول
رہے تھے یا وہ میرا فائدہ اُٹھا رہے تھے۔
نارانون
پروگرام کے ذریعے دوسروں پر میرا اعتماد بحال ہوا۔ نشئی کے رویے سے لاتعلقی اختیار
کرکے میں نے دوسروں پر دوبارہ اعتماد کرنا سیکھنا۔ نارانون پروگرام کے ساتھیوں کی
مدد، غیرمشروط محبت اور دوستی مجھے دوبارہ نشئی سمیت دوسرے لوگوں پر اعتماد بخشتی ہے۔
یقیناً
کوئی بھی تبدیلی رونما ہونے میں وقت لیتی ہے اور میں نے اپنی اعتبار کرنے کی
صلاحیت ایک رات میں ہی حاصل نہیں کی۔ تاہم میں نشئی کے بولے گئے جھوٹوں کو
نظرانداز کرکے یہ سمجھنے کے قابل ہو گئی ہوں کہ وہ خود کو بیمار رہنے کی اجازت دے
رہا تھا۔ میں
سوچنے پر مجبور تھی کہ کیا میری مستقل ناراضگی اور اعتبار کی کمی کا مطلب یہ تھا کہ
میں بھی اتنی ہی بیمار تھی جتنا نشئی بیمار تھا۔
میں
دوسروں پر اعتماد کرنے کی صلاحیت کو دوبارہ پا کر اچھا محسوس کر رہی ہوں۔ مجھے
اپنے ذہن میں یہ سوچتے رہنے کی ضرورت نہیں کہ کوئی میری جلد اعتبار کرنے والی فطرت
کا فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ مجھے اپنی پرانی بیمارسوچ کو اپنانے کی ضرورت نہیں۔ میں دوبارہ
دوسروں پر اعتماد کرنے اور اچھا محسوس کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔
آج
کی سوچ:
جب
مجھے یہ قول یاد آتا ہے کہ ’’ہم خدا پر یقین کرتے ہیں‘‘ تو میں اس کے معنی کے بارے
میں سوچتی ہوں۔ میں اپنی بالاتر طاقت پر اعتماد کر سکتی ہوں کہ وہ میری رہنمائی
کرے گی اور مجھے اطمینان دے گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں