جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

لاتعلقی

میری پہلی نارانون میٹنگ پر لوگوں کو لاتعلقی اختیار کرنے کا کہا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لفظ مجھے کتنا غیرمانوس لگا تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے سوچا کہ ’’میں یہ کیسے کرسکتی ہوں؟‘‘ جب میں میٹنگ سے اٹھ کر آئی تو مجھے معلوم تھا کہ مجھے لاتعلقی کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ میں کچھ حد تک قائل ہوگئی تھی کہ شاید یہی میرے سوالوں کا جواب ہو سکتا ہے جسے میں تلاش کررہی تھی!

میں نے لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ شروع میں یہ کام مجھے سخت لگا۔ مجھے نشئی کو خود اپنی کی دیکھ بھال کرنے دینا چاہیئے۔ نشئی کو اس کے منہ کے بل گرنے دینا ہے؟ اس کو میری اشد ضرورت ہے، میں کیسے مدد سے رُک سکتی ہوں اور اسے اس کے مسائل کا سامنا کرنے دے سکتی ہوں۔ وہ یقیناً ٹوٹ جائے گی۔ میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ ایسے تمام سنسنی خیز سوال میرے دماغ میں اُبھر آئے۔

اب مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اُتنی ہی بیمار تھی جتنی کہ نشے کی مریضہ تھی۔ میری بیماری اس کی مدد کرنا اور اس کے لئے زندہ رہنا تھی جبکہ میں اس کے ڈرامے میں اپنی زندگی نظر انداز کررہی تھی۔ میں اس کی مدد نہیں کر رہی تھی؛ میں اسے مسائل کو دیکھنے اور انہیں خود حل کرنے سے روک رہی تھی۔ میں نشئی کی خدا بن کر اس کے فیصلے کر رہی تھی تاکہ میری مرضی کے نتائج مجھے حاصل ہوں لیکن ضروری نہیں کہ نشئی کو ان کی ضرورت ہو۔

تب سے میں نے نشئی سے لاتعلقی اختیار کرنا سیکھا اوراب میں بے حد پُرسکون زندگی گزار رہی ہوں۔ میں ہر روز خود کو کہتی ہوں کہ مجھے اس کے ڈرامے کا حصہ نہیں بننا۔ میں نے اپنی کچھ حدود متعین کی ہیں اور وہ ان کا احترام کرتی ہے۔ وہ ابھی تک انکاری ہے کہ منشیات کا استعمال ایک مسئلہ ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ ایک دن وہ اسے محسوس کر لے گی۔ دوسروں کا خدا بننے کی کوشش کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔

آج کی سوچ:

نشئی کو اپنی زندگی کے مسائل سے خود نمٹنا چاہیئے، جیسا کہ ہم خود اپنی زندگیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس کا تجربہ نہیں کریں گے تو شاید وہ کبھی نہ جان سکیں کہ کوئی مسئلہ ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی اور اپنی زندگی کی دیکھ بھال کروں۔ لاتعلقی اختیار کرنے سے میں یہ سب محبت کے ساتھ کرسکتی ہوں۔


’’زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہ لو؛ ورنہ تم اسکو زندہ دلی سے نہیں گزار سکو گے۔‘‘ ~ البرٹ ہیوبرڈ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں