جمعرات، 1 اکتوبر، 2015

یقین کا ایک عمل

نارانون پروگرام نے میری دنیا ہی بدل دی۔ یہ درست ہے کہ حقیقت میں دنیا تو نہیں بدلی؛ مگر یہ میری سوچ تھی جو بدل گئی۔ میں نے سیکھا کہ میں چیزوں کو کیسے اور کیوں کسی خاص انداز میں سوچتا ہوں۔ میں نے یہ بھی سیکھا کہ ایک ہی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں۔ اب میں حالات کو دیکھ کر سوچ سکتا ہوں کہ ان پر میں کس طرح کے مختلف ردعمل اخیتار کر سکتا ہوں۔

جینے کا یہ انداز مجھے کئی طریقوں میں سے ایک چننے کا اخیتار دیتا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ میں ایسا ردعمل اختیار کروں جیسا کہ میں ہمیشہ ماضی میں کرتا تھا۔ آج میں نے زندگی کو دیکھنے اور اپنے مسائل سے نمٹنے کا ایک نیا انداز پایا ہے۔

مجھے یاد ہے بچوں کے کھیلوں میں ہتھیار ڈالنے کا مطلب ہار ماننا ہوتا تھا۔ میں یہ سوچ کر بڑا ہوا تھا کہ ہتھیار ڈالنا کوئی حل نہیں ہے۔ تاہم جب سے میں نارانون میٹنگز میں جا رہا ہوں، میں نے پایا کہ ’ہتھیار پھینکنے‘ کا ایک بالکل مختلف معنی ہو سکتا ہے۔

آج میں اپنی مرضی کو اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہار گیا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا کنٹرول ترک کر رہا ہوں اور اپنی بالاتر طاقت کو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنا رہا ہوں۔ میں نے جانا کہ میں یہ خود نہیں کر سکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں میدان چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی مرضی کو اپنے سے بڑی طاقت، جو میرا خدا ہے، کو سونپ رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میں مسائل میں بہت گھرا ہوا محسوس کرتا ہوں اور اپنے مسائل سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتا، میں ہتھیار ڈال سکتا ہوں اور خدا، جیسا کہ میں اسے سمجھا ہے، کو اپنے مسائل کی ذمہ داری دے سکتا ہوں۔ یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے کا عمل نہیں؛ یہ اعتقاد اور یقین کا معاملہ ہے۔


’’دنیا جو ہم نے بنائی ہے ہماری سوچ کی پیداوار ہے؛ اپنی سوچ کو بدلے بغیر ہم اسے نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ البرٹ آئنسٹائن

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں