بے بسی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بے بسی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

اب میں تنہا نہیں

کچھ دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے نشے کی لت بارے بات کررہی تھی۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کیا میں بالاتر طاقت پر یقین رکھتی ہوں۔ میں نے جواب دیا ہاں۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ جب سے نشے کی بیماری میری زندگی میں شامل ہوئی ہے، میں پہلے سے زیادہ اپنی بالاتر طاقت کے قریب ہو گئی ہوں۔

میں نے کہا کہ نشہ کی لت کو قابو کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں نے اپنے بیٹے کی منشیات کی لت سے نمٹنے کی چھ سال کوشش کی اور جب میں اُسے فتح نہیں کر سکی تو میں نے مدد مانگی۔ میں اپنی پستی میں گر چکی تھی اور میں مزید تکلیف برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی

نارانون ہی وہ مدد تھی جس کی مجھے ضرورت تھی اور مجھے یقین ہے کہ خدا نے میری صحیح سمت میں رہنمائی کی۔ اب میں تنہا نہیں ہوں۔ ایک میٹنگ میں ایک ساتھی اپنے بیٹے کی حرکات کی وجہ سے اتنی پریشان تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے تازہ ترین تباہ کن رویے کی داستان سناتے ہوئے ہمارے سامنے رو پڑی۔

اُس نے خصوصی طور پر بتایا کہ وہ میٹنگ میں آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ یہاں آکر اپنے دل کا غبار نکالے کیونکہ ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ کیسا محسوس کررہی تھی۔ جب میں کہتی ہوں کہ اب میں اکیلی نہیں ہوں تو میرا مطلب یہی ہوتا ہے۔

نارانون میٹنگز میں جا کر میں نے اپنی بالاتر طاقت کو ہر ساتھی میں دیکھا۔ میں نے نارانون لڑیچر پڑھ کر، میٹگز میں سب کی شئیرنگ سن کر، اپنے سپانسر کے ساتھ کام کرکے جنہوں نے نارانون پروگرام کو سمجھنے میں میری مدد کی اور جن کو میں اپنی مشکلات، اپنے راز بتاتی ہوں اور جن سے ہمدردی کے الفاظ سُنتی ہوں، ایک بہتر زندگی گزارنا سیکھی۔

آج کی سوچ:

کیونکہ میں اکیلی نہیں ہوں اس لیے میں تکلیف اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتی ہوں۔

’’ہمیں اپنے دوستوں کی مدد کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنا اس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے کہ جب ہمیں ضرورت ہوگی ہمیں ان سے مدد ملے گی۔‘‘ ~ ایپی کیورس

بدھ، 16 ستمبر، 2015

ایک مطمئن روح

میں نارانون کی پندرہ سالہ رُکن ہوں۔ جب میری زندگی میں پہلی بار منشیات اور شراب نے اپنا بدنما سر اٹھایا تومیں اس سے انکاری تھی۔ میں نے فریج میں شراب کی بوتلوں، اپنی ماں کی کئی گھنٹے کی نیند اور اس کے پرس میں ڈپریشن کی گولیوں کو نظر انداز کیا۔ میں لاچار اور بے یارومددگار محسوس کر رہی تھی لہٰذا میں نے اس سب کو نظرانداز کردیا۔

ایک دن میری ماں بھاگ گئی۔ اس نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو تنہا چھوڑ دیا۔ اُس وقت میری نانی جو میرے لئے بہت اہم ہیں انہوں نے مجھے میری ماں کی نشے کی بیماری کے بارے میں آگاہ کیا۔ جس بات کا مجھے سب سے زیادہ ڈر تھا وہی بات ہوئی۔ میری ماں نے اپنے مسائل اور اپنی زندگی کی ذمہ داریوں سے فرار ہونا منتخب کیا۔ وہ حقیقت سے فرار کے لئے منشیات کا استعمال کرتی تھی۔

آج میں خلوص نیت سے کہہ سکتی ہوں کہ نارانون نے میرا زاویہ نظر اور میری زندگی بدل دی ہے۔ آج میں جانتی ہوں کہ میری ماں ایک بیمار انسان ہے اور میں اُسے اس تکلیف کے لئے معاف کر سکتی جو مجھے اس کے بھاگنے کی وجہ سے محسوس ہوئی تھی۔

میں نے سیکھا ہے کہ میں اُس کی بیماری کے حوالے سے بے بس ہوں اور مجھے اسے جانے دینا ہوگا اور خدا کو کرنے دینا ہوگا۔ یہ کرکے میں نے مایوسی اور تکلیف کی جگہ اطمینان اور خوشی پائی۔ میں اپنی ماں کی کمی بہت زیادہ محسوس کرتی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ صحتیاب ہو جائے گی اور مجھ سے ملنے اور میری زندگی کا حصہ بننے واپس آئے گی۔ میں اپنی سکول کی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے نارانون پروگرام پر کام کر رہی ہوں اور آج میں ایک بہتر مستقبل کی اُمید رکھتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نے نارانون میں معاف کرنا، جانے دینا اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنا سیکھا۔

’’آج میں اپنی زندگی میں آگے بڑھوں گی، قطع نظر اس کے کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا کیا نہیں کر رہے۔ میں جان لوں گی کہ بہتر زندگی کی طرف لے جانے والا پُل پار کرنا ٹھیک ہے اور اگر مجھے یہ کام کرنے کے لیے دوسروں کو پیچھے بھی چھوڑنا پڑے تو میں احساس جرم میں مبتلا نہیں ہوں گی، شرمندہ نہیں ہوں گی ۔ میں جانتی ہوں کہ میں اب جہاں ہوں وہ بہتر جگہ ہے اور مجھے اپنی منزل کے بارے میں بھی معلوم ہے جہاں مجھے جانا ہے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی

پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب