‏اپنا رویہ بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اپنا رویہ بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 25 اکتوبر، 2015

خود آگہی

یہ ایک فرضی خودکلامی ہم میں سے اُن لوگوں کی ہو سکتی ہے جو نشے کے اثرات سے بحال ہو رہے ہوں:

’’میں‘‘ کون ہوں؟ ’’میں‘‘ جو’’اُن‘‘ کا خیال رکھتا ہوں۔ جب ایک بار’’وہ‘‘ ٹھیک ہو جائیں گے تو ’’میں‘‘ بہت بہتر ہو جاؤں گا۔ ’’میرے‘‘ لئے کہاں وقت ہوتا ہے جب ’’اُن‘‘ کیلئے بہت کام کرنے والا ہو؟ ’’وہ‘‘ ’’میری‘‘ تعریف نہیں کرتے؛ ’’وہ‘‘ ان اچھے کاموں کو نہیں دیکھتے جو ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ کیلئے کررہا ہوں۔ ’’میں‘‘ جانتا ہوں ’’انہیں‘‘ کس چیز کی ضرورت ہے، ’’انہیں‘‘ صرف سُننا چاہیئے۔ ’’وہ‘‘ سوچتے ہیں کہ ’’وہ‘‘ خود کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، لیکن ’’میرے‘‘ بغیر ’’وہ‘‘ کہاں ہوں گے؟ ’’وہ‘‘ بار بار ایک جیسی غلطیاں کرتے رہیں گے اور ’’مجھے‘‘ ان کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ ’’میں‘‘ غلطیاں نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ بہت زیادہ ’’اُن‘‘ کی غلطیوں میں ہی مصروف رہتا ہوں۔ ’’وہ‘‘ سُنیں گے؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘ بناؤں گا۔ ’’میں‘‘ کوشش کرنا ترک نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘‘ بہتر بنانے کے لئے راستہ ڈھونڈ نکالوں گا۔ درد دور ہو جائے گا، تب ’’میں‘‘ تمام وقت خوف میں مبتلا نہیں رہوں گا۔ ’’وہ‘‘ دیکھ لیں گے کہ ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ سے کتنی محبت کرتا ہوں، ’’میں‘‘ نے ’’اُن‘‘ کے لئے کتنی قربانی دی ہے۔ تب ’’وہ‘‘ ’’مجھے‘‘ خوش کردیں گے، اور ہم سب بھی بہتر ہوجائیں گے۔


آج کی سوچ:

ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داریاں اُٹھانے سے زیادہ آسان دوسروں کے رویے کا شکار ہونا ہے۔ نارانون ہماری توجہ ہماری زندگی میں موجود نشئی سے ہٹا دیتا ہے اور اپنے آپ پر مرکوز کرواتا ہے۔ اپنے اندر جھانکنا اور جو بھی ہم سوچ اور محسوس کر رہے ہوں اس کی ذمہ داری لینا بہت خوفناک لگتا ہے۔ نارانون ہمیں ان سب کو دیکھنے کیلئے محفوظ ماحول اورہماری بڑھوتری کے لئے ہمیں ایک پیارا سا پروگرام دیتا ہے۔


’’ہر کوئی دنیا کو بدلنے کا سوچتا ہے لیکن کوئی بھی خود کو بدلنے کے بارے میں نہیں سوچتا۔‘‘ ~ لیو ٹالسٹائی

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

اپنے آپ کو بدلنا


حال ہی میں کسی نے میٹنگ میں شیئر کیا کہ اس نے نارانون آنا اس لئے شروع کیا کیونکہ وہ بُرے احساسات سے تنگ آ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے میں خود تنگ آنے سے تنگ پڑ چکا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری تکلیف اور درد بند ہو جائے۔ میں اپنی زندگی کو جینا چاہتا تھا۔ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے مضبوط بننا چاہتا تھا، جنہیں میں چاہتا ہوں۔ یہ پانے کے لئے میں نے نارانون پروگرام پر کام کرنا، نشئی کے بارے میں سوچنا بند، اور اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

جن لوگوں نے اپنی زندگی میں نشے کی لت کے اثرات نہیں دیکھے انہیں یہ خود غرضی لگے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری میٹنگز ہمارے لئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں ہم یہ تجربات ان لوگوں سے شئیر کرتے ہیں جو ہماری جیسی صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری بات سمجھ جائیں گے۔

میں وہ تکلیف دہ باتیں اور حالات جن سے میں گزر رہا ہوتا ہوں، اپنے سپانسر کے ساتھ شئیر کر سکتا ہوں اور پھر میٹنگز میں اپنا تجربہ، طاقت اور اُمید شئیر کر سکتا ہوں۔ یہ جاننا کہ میں اپنی تکلیف سے نمٹنے کا عمل جانتا ہوں، مجھے سکون کا احساس دیتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ درد کا مکمل طور پر غائب ہونا بہترین ہو گا مگر حقیقت میں یہ ممکن نہیں۔

ایسے حالات جنہیں میں نہیں بدل سکتا انہیں قبول کرکے مجھے اپنی زندگی میں سکون پانے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو میں نے اپنی میٹنگز میں سیکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری زندگی آسان اور درد سے پاک ہو جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ غالباً اس عمل کو کرنے میں کچھ وقت اور بہت کوشش لگے گی۔ یہ قول ’آسانی چیزوں کو ممکن بناتی ہے‘ مجھے صبر سکھاتا ہے۔

آج کی سوچ:

میں اپنی ساری توجہ خود پر رکھوں گا اور اپنی بالاتر طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی جیوں گا۔ یہ جان کر کہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے میں پُرسکون اور پُراطمینان رہوں گا۔ میں ان تمام چیزوں کے لئے شکرگزار ہوں جو آج میری زندگی میں ہیں، یہ جان کر کہ تشکر رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔


’’ترقی بغیر تبدیلی کے ممکن نہیں اور وہ لوگ جو اپنے دماغ کو تبدیل نہیں کر سکتے وہ کسی چیز کو نہیں بدل سکتے۔‘‘ ~ جارج برنارڈ شا

جمعرات، 24 ستمبر، 2015

تلافی کرنا

جب میں نے سنا کہ مجھے اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا پڑے گی تو میں حقیقتاً ناراض اور اُلجھن کا شکار ہو گئی۔ مجھے کیوں کسی سے اپنے کیے پر معافی مانگنے کی ضرورت ہے؟ یہ سب ضروری تھا۔ جب میں چیختی، چلاتی اور نفرت انگیز باتیں کہتی تو یہ سب اس لئے ہوتا تھا کیونکہ میں ناخوش تھی، نشئی کی وجہ سے۔ میں نے ہمیشہ خود کو ٹھیک سمجھا۔ میں اچھا محسوس نہیں کرتی تھی لیکن میں کیا کر سکتی تھی؟

مجھے صرف پاگل کر دینے والی چیزوں پر پاگلوں جیسا ردعمل اختیار کرنا آتا تھا۔ جب میں اپنے کیے پر معافی کے بارے میں سوچتی تو میں حیران ہوتی کہ مجھے اس کے لئے کیوں معافی مانگنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تو نشئی کی وجہ سے ہوا تھا۔

جب میں نے نارانون پروگرام کے بارہ اقدام میں نواں قدم پڑھا تو میں نے سیکھا کہ میں اپنے رویے میں تبدیلی لا کر اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکتی ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ لٹریچر کو پڑھنا اور اسعتمال کرنا کیوں اتنا اہم ہے۔

میں گزشتہ دو سال کے دوران بدل گئی ہوں۔ میرے ردعمل کا انداز بدل گیا، میرا رویہ بدل گیا اور میں نے دیکھا کہ یہ بدلا رویہ کیسے تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے میرے حالات اداس کردینے والے تھے۔ مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ میرے شوہر میرے لیے وہاں موجود تھے کیونکہ وہ نشے میں تھے اور قابلِ رسائی نہیں دکھائی دیتے تھے۔ اگرچہ یہ سچ تھا مگر میں نے اس وقت انہیں یہ نہیں کہا کہ وہ کتنے ناکام انسان تھے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میری توقعات کہ وہ مجھے اپنی بانہوں میں لیں اور سب کچھ ٹھیک کردیں حقیقت سے دور تھیں۔

ایک دن بعد وہ میری توقعات کے مطابق وہاں موجود تھے۔ اس وقت وہ میری طرف متوجہ، خیال کرنے والے، پیارکرنیوالے، بامروت اور بے غرض انسان تھے۔ میں خود کو جنت میں محسوس کر رہی تھی۔ مجھے حقیقت میں ان کی محبت اورپیار محسوس ہو رہا تھا۔ کیا بدلا تھا؟ صرف میرا رویہ مختلف تھا۔

میرا خیال ہے کہ اگر میں اپنے پرانا انداز اختیار کرتی تو وہ ایک غصیلی اور بیزار بیوی سے محبت کا اظہار نہ کرسکتے۔ میں نے ان کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بدلا۔ میں ان کے ساتھ پیار اور احترام کے ساتھ پیش آتی ہوں۔ اب وہ مجھے اپنا پیار دینے کے لئے آزاد ہیں، اس لئے نہیں کہ مجھے اس کی توقع ہے بلکہ اس لئے کہ وہ یہ جذبات میرے لئےمحسوس کرتے ہیں۔

آج کی سوچ:

جب میں اپنے لئے پروگرام پر عمل کررہی ہوں تو بعض اوقات بہت سی غلطیوں کا ازالہ خودبخود ہو جاتا ہے۔


’’جب نفرت و حقارت کی دیورایں نہیں ہوتی تو ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور معافی دینے اور لینے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘ ~ گمنام