جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

باہر کے معاملات پر کوئی رائے نہیں

ہر میٹنگ کے شروع میں ہمارے چئیرپرسن یہ اُصول باآوازِ بلند پڑھتے ہیں: ’’آج شام آپ جو کچھ بھی سُنیں گے وہ سختی سے ہماری اپنی رائے ہو گی ۔۔۔۔ اگر کوئی رُکن کچھ ایسا کہے جو آپ کے لیے ناقابل قبول ہو تو یاد رکھیں کہ وہ صرف اپنے تجربات کی بنیاد پر بول رہے ہیں۔ وہ نارانون کی طرف سے نہیں بول رہے۔ جب آپ ہماری میٹنگ سے اپنے گھر جائیں آپ توصرف وہ سوچ لے کر جائیں جو آپ کے لئے مددگار ہو۔ اُن چیزوں کو بھول جائیں جنہیں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ مددگار نہیں ہوں گی۔ اور واپس آتے رہیئے۔‘‘

نارانون کی چھٹی روایت یہ بیان کرتی ہے کہ ہمیں نارانون کے باہر کی کسی بھی مہم کی گروپ میں تشہیر نہیں کرنا چاہیئے۔ دسویں روایت خودمختاری کے تصور پر مبنی ہے اور اس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ خودمختار ہونا ’’ اخلاقی فیصلے کرنے اور ان پر عمل کرنے کی شخصی آزادی اور صلاحیت کا نام ہے۔‘‘

شخصی آزادی کی ترقی کیلئے دسویں روایت بیان کرتی ہے کہ نارانون کو کسی عوامی مسئلے پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔ اگر ہم کسی باہر کے مسئلے میں ملوث ہوں گے تو ہم نارانون پروگرام کو اس مسئلے سے جُڑے تنازعات سمیت عوام کی نطروں میں لے آئیں گے۔ شاید اس طرح ہم اُن لوگوں کو بدظن کردیں جنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

چونکہ ہماری فیلوشپ ہزاروں لوگوں پر مشتمل ہے جو مختلف نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں تو کسی عوامی یا سیاسی مسئلے پر کوئی مؤقف اختیار کرنے سے یقیناً فیلوشپ کے لوگ تقسیم ہو سکتے ہیں۔ نارانون کا ترجیحی مقصد نشئی کے اہل خانہ اور دوستوں کو مدد فراہم کرنا ہے جو ایسا کوئی مؤقف اختیار کرنے سے متاثر ہو سکتا ہے۔

آج کی سوچ:

دسویں روایت مجھے کسی ایسے انسان سے تعلق رکھنے کی اجازت دیتی ہے جس کے عقائد مجھ سے مختلف ہوں۔ یہ مجھے ایسے لوگوں کی مدد کرنے اور اُن سے مدد لینے کی اجازت دیتی ہے جن کی ذاتی سیاست ممکن ہے مجھے سخت ناپسند ہو۔ نارانون میں اُن لوگوں کی زندگی کا یہ پہلو اہم نہیں۔ ہم سب کسی دوسرے شخص کی نشے کی بیماری کے اثرات سے بحالی کے لئے یہاں اکٹھے ہیں۔ یہ غیر اہم ہے کہ کسی ایک ساتھی نے منشیات کنٹرول کرنے کے کسی مجوزہ منصوبے کے حق میں ووٹ دیا تھا اور دوسرے نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ دسویں روایت کے مطابق یہ سارے مسائل ہماری بحالی کے پروگرام کا حصہ نہیں ہیں۔

’’اپنی زندگی کو دوسروں کی رائے کے مطابق استوار کرنا سوائے غلامی کے کچھ نہیں ۔‘‘  ~لیوانا بلیک ویل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں