پیر، 5 اکتوبر، 2015

حدود

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحرائی خانہ بدوش اور ایک اونٹ تھا۔ جب رات ہوئی تو خانہ بدوش نے نخلستان کے قریب اپنا خیمہ گاڑ لیا، اپنے اونٹ کو ایک کھونٹی کے ساتھ باندھا اور خیمے میں لیٹ کر آرام کرنے لگا۔

کچھ گھنٹوں کے بعد اونٹ نے خیمے کے اندر اپنا سر کر کے کہا ’’مجھے معاف کیجئے گا مالک، لیکن باہر بہت ٹھنڈ ہے۔ کیا میں اپنا سر آپکے خیمے میں رکھ سکتا ہوں تاکہ یہ گرم رہے؟‘‘ خانہ بدوش تھکا ہوا تھا لیکن خوشگوار انداز میں کہا ’’ہاں، مگر صرف تمہارا سر، کیونکہ یہاں بمشکل میرے لئے جگہ ہے۔‘‘ یہ کہہ کر خانہ بدوش دوبارہ سو گیا۔

ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد اونٹ نے دوبارہ اپنے مالک کو جگایا۔ اونٹ نے درخواست کی ’’اوہ مالک، میری اگلی ٹانگیں بہت ٹھنڈی ہو گئی ہیں۔ مہربانی سے کیا میں انہیں آپکے خیمے میں رکھ سکتا ہوں؟‘‘ خانہ بدوش بہت ہی تھکا ہوا تھا اور تنگ آ کر کہنے لگا، ’’ٹھیک ہے لیکن بس یہیں تک۔ مزید تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں پہلے ہی خیمے کے ایک کنارے پر جا لگا ہوں۔‘‘ خانہ بدوش نے جمائی لی اور دوبارہ سو گیا۔

ایک گھنٹے کے بعد اونٹ نے دوبارہ اسکو اُٹھا دیا اور التجا کی ’’مالک، میری کوہان بہت ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ میں خود کو کانپنے سے نہیں بچا پا رہا۔ کیا میں اپنی کوہان اندر کر سکتا ہوں۔‘‘ خانہ بدوش چلایا، ’خدا کیلئے! لے آؤ تم اپنی کوہان اندر مگر مجھے سونے دو! میں مسلسل یہ جاگنا برادشت نہیں کرسکتا۔‘‘ اس نے اپنا کمبل کھینچا، اپنے اوپر لپیٹا اور سو گیا۔

کچھ گھنٹوں کے بعد خانہ بدوش کی آنکھ کھلی تو وہ ٹھنڈ سے جم رہا تھا۔ وہ اپنے خیمے سے باہر تھا اور اونٹ مکمل طور پر خیمے میں تھا، گرم اور پُرسکون۔

میری حالت اس خانہ بدوش جیسی ہی ہے۔ خیمہ میری بحالی ہے اور اونٹ میری بیماری کے جیسا ہے۔ جس لمحے میں نشئی کے بارے میں جنونی ہونا شروع ہوتا ہوں میں اپنی بیماری کو خیمے کے اندر آنے کی اجازت دے دیتا ہوں۔ جب میں نشئی کو بتاتا ہوں کہ کیسے اُسے اپنی زندگی کو چلانا ہے، میں بیماری کی اگلی ٹانگوں کوخیمے کے اندر آنے کی اجازت دیتا ہوں۔ جب میں نشئی کے کام کرتا ہوں جو وہ خود اپنے لیے کر سکتا ہے تو میں بیماری کے کوہان کو بھی اندر آنے کی اجازت دے دیتا ہوں۔

آج کی سوچ:

اب مجھے معلوم ہے کہ اگر میں نے سختی سے اپنی حدود نہ مقرر کیں اور اپنی بیماری کو سختی سے اپنے بحالی کے خیمے سے باہر نہ رکھا، تو میں دوبارہ اس بیماری میں مبتلا ہو جاؤں گا۔

’’اچھی باڑ سے اچھے ہمسائے بنتے ہیں۔‘‘ ~ رابرٹ فراسٹ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں