بدھ، 19 اگست، 2015

نشے کے عادت سے نمٹنا

مجھے یقین ہے کہ کسی ایسے فرد نے کالر آئی ڈی کی سہولت ایجاد کی ہو گی جو نشے کے عادی مریض کے ساتھ رہتا ہو گا۔ نارانون پروگرام میں شمولیت سے پہلے مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری بھی کوئی مرضی ہے۔ میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھے ہر وہ کام کرنا ہے جو مجھے کہا جائے۔ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ میں خود غرض اور مطلبی تھی۔

میں یونیورسٹی میں تھی جب مجھے اپنے نشے کے عادی بھائی کی ’کلیکٹ کالز‘ موصول ہوتی تھیں جس کا بل مجھے ادا کرنا ہوتا تھا۔ وہ بینک میں ڈاکے ڈال کراپنی منشیات کی عادت کو پورا کرتا تھا۔ وہ پکڑا گیا اور جیل چلا گیا۔ میں سمجھتی تھی کہ  مجھے اس کی تمام کالز سننی چاہیئں، چاہے وہ دن یا رات کے کسی بھی وقت میں آئیں، چاہے میری زندگی میں کچھ بھی ہو رہا ہو۔

میں نے نارانون پروگرام میں جانا شروع کیا تو میں نے سیکھا کہ میری بھی کوئی مرضی ہے۔ میں اپنی دیکھ بھال کر سکتی ہوں اور یہ کر سکتی ہوں کہ اپنے بھائی کے حالات کے لیے خود کو ذمہ دار محسوس نہ کروں۔

اپنی دیکھ بھال شروع کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ میں نے کالر آئی ڈی کی سہولت حاصل کی۔ میں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ یہ دیکھ سکوں کی کون کال کر رہا ہے اور فیصلہ کر سکوں کہ مجھے نشئی کی کال سننا ہے یا نہیں۔ میں نے یہ اپنے لئے کیا اور یہ بات غیر اہم ہے کہ نشئی یہ جانتا تھا یا جانتا ہے کہ میں آنے والی کالوں کی چھان بین کرتی ہوں۔

نارانون پروگرام نے مجھے سکھایا کہ مجھے اپنی مرضی استعمال کرنے کا حق ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتی ہوں کہ میں مریض کی مدد کرنا جاری رکھوں یا فیصلہ کر سکتی ہوں کہ اس کی مدد نہ کروں۔

آج کی سوچ:

میرے پاس فیصلے کا اختیار ہے۔ میں اپنے اعمال اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری لے سکتی ہوں۔ میں دوسروں کے لئے وہ کام کرنے کی پابند نہیں ہوں جومیں نہیں کرنا چاہتی یا اگر وہ کسی بھی طرح میرے لئے نقصان دہ ہوں۔ اپنا خیال رکھنا خود غرضی نہیں ہے۔ آج میں نے سب سے پہلے اپنی بالاتر طاقت، پھر خود کو اور پھر دوسروں کو رکھتے ہوئے اپنی زندگی جینے کا انتخاب کیا ہے۔

’’مشکل وقت میں سب سے اہم بات اپنا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ تبھی ہم بہت خراب حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں؛ تبھی دوسروں کی مدد کر پاتے ہیں جب ہم اپنا خیال رکھیں۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں