‏تسلیم و رضا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تسلیم و رضا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 12 ستمبر، 2015

حدود

میٹنگز میں حدود مقرر کرنے پر کئی مرتبہ بات ہوتی ہے۔ میں نہیں جانتی کہ میں نے کبھی اپنی حدود کو لاگو کیا ہو۔ میں یہ کہہ کر کوشش کرتی تھی کہ میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گی، لیکن پھر بہت دفعہ میں نے ہار مان لیتی اور نشئی کو اجازت دے دیتی کہ وہ میری مقرر کردہ حدود کو نظر انداز کرے۔

وقت، فاصلے اور بہت زیادہ دُعا کرنے سے اب میں محسوس کرتی ہوں کہ جب میرا بیٹا واپس گھر آئے گا تو میں اپنی حدود نافذ کرنے اور ان پر قائم رہنے کے قابل ہوں گی۔ کچھ رویوں اور سرگرمیوں کی میرے گھر میں اجازت نہیں ہوگی۔ میں اُسے آرام سے بتاؤں گی کہ اگر اسے یہاں رہنا ہے تو میرے لیے کون سی چیزیں قابل قبول ہیں اور کون سی نہیں۔

میں نارانون پروگرام میں سیکھ رہی ہوں کہ میں دوسرے انسان کو نہیں بدل سکتی۔ صرف ’میں‘ وہ ایک شخص ہوں جسے میں بدل سکتی ہوں۔ جب میں پیچھے مُڑ کر اپنی تمام کوششوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو میں نے نشئی کے رویے کو بدلنے کیلئے کیں تو مجھے دکھائی دیتا ہے کہ اس پر کسی چیز نے اثر نہیں کیا۔ اُن تمام تر کوششوں کا اثر شاید کچھ دن رہا ہو گا مگر کبھی مستقل نہیں۔ حدود قائم کرنے کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔

میں نے پایا کہ دُعا اور نارانون پروگرام کا لٹریچر پڑھنے سے مجھے اپنے رویے اور ضروریات پر توجہ دینے کا موقعہ ملا۔ بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ جن چیزوں کو میں بدل نہیں سکتی انہیں قبول کرنے کی جرأت رکھنا مشکل ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نشئی کو نہیں بدل سکتی۔ ایک دفعہ جب میں تسلیم و رضا کے مقام پر پہنچ جاتی ہوں تو مجھے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے بامعنی حدود مقرر کرنے سے پہلے اس احساس کو پانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سوچ:

میں کسی دوسرے کے رویے کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوں گی بلکہ اپنے رویے کی طرف دھیان دوں گی۔

’’وہ جو اپنا احترام کرتا ہے دوسروں سے محفوظ رہتا ہے؛ وہ ایسی زرہ بکتر پہن لیتا ہے جس میں کوئی سوراخ نہیں کر سکتا۔‘‘ ~ ہنری واڈزورتھ لانگ فیلو

منگل، 25 اگست، 2015

غصہ

میرے والد کا غصہ بہت خوفناک تھا۔ میری ماں اکثر مجھے بتایا کرتی تھی کہ میں نے اپنے باپ جیسا غصہ پایا ہے۔ اس دن جب میرے والد میرے منہ پر مجھے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور میں نے ان کے سر پر ان کی کھانے کی پلیٹ دے ماری تو مجھے اپنی ماں کی بات پر یقین آگیا۔

جب میرے بیٹے چھوٹے تھے تو میں انہیں غصے کی حالت میں سزا دینے سے ڈرتا تھا۔ میں اس وقت تک انہیں ان کے کمروں میں بھیج دیتا جب تک کہ میرا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جاتا۔

تاہم جب میرا نشئی بیٹا نشہ استعمال کر رہا تھا تو کئی بار وہ اس لیے لڑائی شروع کردیتا کہ وہ اس کو بہانہ بنا کر چلا جائے اور نشہ استعمال کرے۔ کئی بار میں نے جذباتی تقریریں کر کے، بے تکی باتیں کر کے، چیخ چلا کر اُسے یہ موقعہ عطا کیا جس کے بعد وہ دروازے زور سے مارتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔

آج جبکہ میں بحالی کے عمل میں ہوں، میں اب بھی جانتا ہوں کہ نشئی یا کسی دوسرے کو غصہ دلانے کے لئے کونسا بٹن دبانا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسروں کو بھی معلوم ہے کہ مجھے اشتعال کیسے دلانا ہے۔ آج میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کس سمت جارہا ہوں۔ آج میں اپنا ردعمل چننے کی کوشش کرتا ہوں۔ آج میں ٹھہر کر غصے میں رد عمل کا اظہار کرنے سے پہلے سوچتا ہوں۔  آج میں کچھ مزاحیہ بات کہوں گا یا مہربان انداز میں کوئی جواب دوں گا۔ آج میں نہیں چاہتا کہ میرا غصہ نشئی کیلئے نشہ کرنے کا بہانہ بنے۔

آج کی سوچ:

اپنے احساسات کو پہچاننا اور انہیں قبول کرنا میری بحالی میں ایک اہم قدم ہے۔ اپنے احساسات کے ردعمل کا انتخاب کرنا سیکھنا ایک نایاب تحفہ ہے۔ دوسرے کا رویہ میرے بارے میں نہیں ہے۔ میں اس کی وجہ نہیں ہوں۔ میں اس کو قابو نہیں کر سکتا۔ میں اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ تاہم میرے اپنے رویے کی وجہ میری سوچیں ہیں۔ صرف میں اپنی سوچوں کو قابو کر سکتا ہوں۔ صرف میں اپنا رویہ بدل سکتا ہوں۔ میں اس بات کو چن سکتا ہوں کہ منفی چیزوں کو جانے دوں۔ میں سکون پانے کو منتخب کر سکتا ہوں۔    

’’اے خدا مجھے اپنے اور دوسروں کے غصے کو تسلیم و رضا اور سکون حاصل کرنے کے سفر کا عمومی حصہ سمجھ کر قبول کرنے میں مدد دے۔ اسی خیال کے ساتھ مجھے اپنی ذات کے احتساب مدد دے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی