‏قبول کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قبول کرنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 21 اکتوبر، 2015

تعلق

چاہے میں کسی بھی طرح کے گروپ میں شمولیت اختیار کرتی مگر میں ہمیشہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی۔ مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں بھی اس گروپ کا حصہ ہوں۔ جب میں نارانون میں شامل ہوئی تو یہ احساس بدل گیا۔ یہ میں نے پہلی ہی میٹنگ میں محسوس کر لیا کہ میں نے اپنا دوسرا خاندان پا لیا ہے۔

میں ان لوگوں کے ساتھ گھُل مِل گئی۔ یہاں میں بغیر شرم محسوس کیے اپنے نشئی بیٹے کے بارے میں بات کر سکتی ہوں۔ میرا گروپ سمجھتا ہے کہ میں کیسا محسوس کر رہی ہوں اور میں خود کو تنہا بھی محسوس نہیں کرتی۔ حقیقت میں جو میں ہوں یہاں میں وہی نظر آسکتی ہوں۔

خود کو محفوظ سمجھنا اور نارانون دوست ہونا جنہیں میں فون کر سکتی ہوں کیونکہ وہ میرے پاگل پن کے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں نارانون گروپ کے سامنے کھڑے ہونے میں آسانی محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ یہ لوگ مجھے قبول کرتے ہیں۔

میں یہاں برابری کی حثیت رکھتی ہوں۔ میں یہاں عجیب یا یہ محسوس نہیں کرتی کہ لوگ مجھ پر رائے زنی کر رہے ہیں۔ میں نارانون فیلوشپ کا غیر مشروط پیار محسوس کر سکتی ہوں۔ اب میں بحالی محسوس کرسکتی ہوں۔

میرا بہت بُرا وقت چل رہا تھا اور میں نے کئی ہفتوں تک نارانون میٹنگ میں جانا چھوڑ دیا۔ جب میں واپس آئی تو مجھے خوش آمدید کہا گیا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ’’تم کہاں تھی؟‘‘ مجھے قبول کیا گیا، گلے لگایا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے واپس دیکھ کر انہیں خوشی ہوئی تھی۔ نارانون خاندان کو میں نے خود چنا ہے اورمیں بہت شکر گزار ہوں کہ میں اس گروپ سے تعلق رکھتی ہوں۔

اس تجربے نے مجھے ایک نئے اعتماد کا احساس دلایا۔ اس نئے اعتماد کے احساس نے مجھے نارانون گروپ کے باہر بھی لوگوں سے تعلق بنانے میں میری مدد کی۔ نارانون نے مجھے میری خوداعتمادی اور عزت نفس واپس دلائی۔

آج مجھے معلوم ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اپنی زندگی جاری رکھ سکتی ہوں چاہے میرا بیٹا منشیات کا استعمال کررہا ہو یا نہیں۔ میری زندگی دوبارہ مجھے مل گئی ہے اور اب یہ بامعنی ہے۔

آج کی سوچ:

نارانون سے حاصل ہونے والی غیرمشروط محبت نے بالکل دوا کی طرح کام کیا۔ یہ اس درد اور تکلیف سے بچاتی اور سکون پہنچاتی ہے جو میں نے نشئی کی وجہ سے برداشت کی، تاکہ زخم بھرنے سے بحالی کا عمل شروع ہوسکے۔


’’اگر ہم اپنی زندگی کا مقصد ہمدردی اور غیرمشروط محبت والی زندگی گزارنا بنائیں تو یقیناً دنیا ایک باغ بن جائے گی جہاں ہر قسم کے پھول کھِلیں اور پروان چڑھ سکیں گے۔‘‘ الزبتھ کوبلر روس

پیر، 28 ستمبر، 2015

اونچی لہروں پر سواری کرنا

میں نے یہ بیان کرنے کیلئے استعارہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ میں کس طرح تمہاری نشہ میں ڈوبی زندگی کو دیکھتی ہوں۔ جب میں ساحل کے کنارے پر بیٹھی تھی تب مجھے وہ استعارہ مل گیا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ تم سمندر کی اونچی لہروں پر سواری کر رہے ہو! 

ایک طویل عرصہ سے میں تمہیں یا تم کہاں رہے ہو کے بارے میں نہیں جانتی۔ میں تمہیں سُن سکتی تھی لیکن تمہیں دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اب میرے ذہن میں یہ تصور ہے کہ تم کہاں رہے ہو مگر میں یہ نہیں سمجھ سکتی کہ تم کیوں اپنے پرانے ہلاکت خیز رویے کی طرف واپس لوٹنا چاہتے ہو۔

میں خیال کرتی ہوں کہ کوئی شخص جو تیر کر ساحل پر پہنچ جائے اور خطرناک قسم کی اونچی سمندری لہروں سے زندہ بچ نکلے وہ اپنی خوش قسمتی کو یاد رکھے گا اور کبھی واپس نہیں جائے گا۔

پھر بھی اپنی بحالی کے دوران میں تم نے دوبارہ نشہ آزمانے کی اپنی خواہش بیان کی! میرا غصہ گلے تک آ گیا جب میں اپنی زبان پر آنیوالے ان الفاظ کو دبا رہی تھی کہ ’’کیا تم اپنے حواس میں تو ہو؟‘‘ یقیناً تم اپنے حواس میں ہو۔ یہ نشے کا پاگل پن بول رہا ہے۔ میں جانتی ہوں یہ کیا ہے، میں اسے سُننا برداشت نہیں کر سکتی مگر یہی تمہاری سچائی ہے اور مجھے اس کو لازمی قبول کرنا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اونچی سمندری لہروں پر سواری کی ہے صرف وہی جانتے ہیں کہ ان سے کیسے زندہ بچنا ہے۔ تمہیں لازمی اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے ایک سپانسر تلاش کرنا چاہیئے۔ میں نے تمہیں تمہارے پاگل پن سے بچانے کی اس حد تک کوشش کی کہ میں خود کو تباہ کرنے کے قریب پہنچ گئی۔ لیکن نارانون سے میں نے سیکھا کہ مجھے ساحل کنارے پر انتظار کرنا چاہیئے۔

جب میں تمہارا انتظار کررہی ہوں گی کہ تم کب اونچی لہروں پر سواری کرنا بند کرو گے اس وقت میں اپنے سکون و اطمینان کے لئے دعا کروں گی جس کی مجھے ضرورت ہے۔

آج کی سوچ:

میں خود کو نشے کی عادت کی اونچی لہر میں جھونکنے کا خطرہ مول نہیں لوں گی۔ میں میٹنگ میں جاؤں گی یا نارانون کے کسی ساتھی کو ٹیلی فون کروں گی، مگر میں تمہارے ساتھ اونچی لہروں کی سواری نہیں کروں گی۔


’’کسی چیز کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں اسے پسند کیا جائے۔‘‘ ~ آئیانلا وین زنت

ہفتہ، 26 ستمبر، 2015

صبر کیساتھ قبول کرنا

صبر انتظار کرنے یا کسی کام میں تاخیر کو بغیر ناراض ہوئے برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ میں نشئی کے ساتھ ایک غیر معمولی صورتحال میں رہ رہا ہوں کیونکہ اس کا زندگی گزارنے کا انداز میرے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ مجھے نشئی، خاندان کے دیگر افراد، دوستوں یا کام کے ساتھیوں کے ساتھ تحمل برتنا مشکل لگتا ہے۔
میری بے صبری کی عادت کا اپنے گرد لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس سے گہرا تعلق ہے۔ جب دوسرے میری خواہش اور میرے ٹائم ٹیبل کے مطابق عمل نہیں کرتے تو مجھے لگتا ہے کہ میرا کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ پھر میں صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہوں اور اپنے اردگرد لوگوں پر چیختا اور گالم گلوچ کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایسے جذبات کا اظہار مجھے دوسروں پر دوبار کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ ایک قول ہے جسے میں مشکل حالات میں یا پھر کسی سے ناراض ہوں تو سکون پانے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ جانے دینے کی مشق سے میں ان جذبات کو رہائی دے کر اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ یہ مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں انہیں بغیر کسی احساسِ ذمہ داری سے دیکھوں۔
میں نے جانا کہ جب میں اپنے کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس کو پہچانتا اور جانے دیتا ہوں تو میں اپنی توقعات کو بھی رہائی دے سکتا ہوں اور صبر محسوس کر سکتا ہوں۔
آج کی سوچ:
صبر یہ نہیں ہے کہ میں چیزوں کو اپنے انداز میں کروں۔ یہ معاملہ جو ہے اسے تسلیم کرنے اور قبول کرنے کا ہے اور اس بات پر اعتماد کرنے کا کہ جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو گی میری بالاتر طاقت مجھے دے گی۔

’’تم ہتھوڑے سے سنگ مرمر کو پیس کر ایک مجسمہ نہیں بنا سکتے؛ تم ہتھیاروں کے زور پر روح کی سچائی کو سامنے نہیں لا سکتے۔‘‘ ~ کنفیوشیئس