بعض اوقات میں بغیر
سوچے سمجھے کچھ ایسے کام کرتی تھی
جن کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ کیوں کرتی تھی۔ مثال کے طور پر کئی راتوں کو میں اپنے نشئی بیٹے کو سڑکوں پر
ڈھونڈنے چلی جاتی یہ جانے بغیر کہ وہ مجھے کہاں ملے گا اور میں
اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتی۔
اس کے فیصلے میں کرتی کیونکہ میں سوچتی تھی کہ اس کے فیصلےغلط تھے۔ جیسے ہی وہ گھر آتا میں اس کی جیبوں کی تلاشی لیتی اور اس کے کپٹروں کو سونگھتی۔ میں اپنی کمر اور کندھوں میں خاصا تناؤ محسوس کرتی۔ اس رویے کی وجہ سے میں پستیوں میں جا گری اور واپس صحتمند زندگی کی طرف واپس آنا چاہتی تھی۔ نارانون یہی
کرنے میں میری مدد کررہی ہے۔
اپنی زندگی میں نشئی
موجود ہونے کا درد غالباً ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا لیکن نارانون کا پیغام مجھے یہ
سیکھنے میں مدد کر رہا ہے کہ ہماری خوشی کسی دوسرے شخص کی خوشی پر منحصر نہیں
ہوتی۔ یہی ہمارے پروگرام کی خوبصورتی ہے۔
میں نے ایک بار پھر
نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام پر عمل کے ذریعے اپنی زندگی میں سکون کی تلاش کا
سفر شروع کردیا ہے۔
میں ایک بار پھر ہنسنے
کے قابل ہو گئی ہوں حالانکہ نشئی ابھی بھی منشیات استعمال کر رہا ہے اور سڑکوں پر
ہے۔ اب میں پراُمید ہوں اور اس دن کا انتظار کرنے کے قابل ہوگئی ہوں جب
وہ بحالی کے پروگرام کے لئے تیار ہوجائے گا۔
میں اس قابل ہوں کہ
اُداسی کو اپنے اوپر حاوی ہونے سے روک دوں۔ اگرچہ میں اپنے بیٹے اور اس کی خوبصورت
مسکراہٹ اور ہنسی کی کمی محسوس کرتی ہوں مگر مجھے سمجھ آئی ہے کہ اس کی منشیات کی لت پر توجہ دینا
میرے لئے اچھا نہیں۔
میں نے جانا کہ زندگی
کو آج کے آج جینا ہی زخم بھرنے کا واحد راستہ ہے۔ زندہ رہنے کیلئے مجھے اپنی مرضی
اور زندگی کو بالاتر طاقت کے حوالے کرنا ہوگا۔
آج کی سوچ:
بحالی ایک روحانی سفر
ہے۔ میں اعتماد کرنا سیکھ رہی ہوں کہ میری بالاتر طاقت میری اور نشئی کی دیکھ بھال
کرنے کی قابلیت رکھتی ہے۔ یہ اعتماد مجھے سکون دیتا ہے۔
’’ایسے مایوس لوگوں کے
زخم کبھی نہیں بھرتے جو دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو کھنگالتے رہتے ہیں۔‘‘ ~ ٹی ڈی
جیکس
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں